لیاقت علی عاصم

راہوں پہ نظر رکھنا ہونٹوں پہ دعا رکھنا

Verses

راہوں پہ نظر رکھنا ہونٹوں پہ دعا رکھنا
آجائے کوئی شاید دروازہ کھلا رکھنا

احساس کی شمع کو اس طرح جلا رکھنا
اپنی بھی خبر رکھنا اس کا بھی پتہ رکھنا

راتوں کو بھٹکنے کی دیتا ہے سزا مجھ کو
دشوار ہے پہلو میں دل تیرے بنا رکھنا

لوگوں کی نگاہوں کو پڑھنے کی عادت ہے
حالات کی تحریریں چحرے سے بچا رکھنا

اک بوند بھی اشکوں کی دامن نہ بھگو پائے
غم اس کی امانت ہے پلکوں پہ سجا رکھنا

اس طرح قتیل اس سے برتاؤ رہے اپنا
وہ بھی نہ برا مانے دل کا بھی کہا رکھنا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer