خالد شریف

اگرچہ خوف کے عالم میں خواب ختم ہوا

Verses

اگرچہ خوف کے عالم میں خواب ختم ہوا
لگا کہ روح پہ طاری عذاب ختم ہوا

یہ ملنا اور بچھڑنا ہے پانیوں کی طرح
کہ ایک لہر اٹھی نقش آب ختم ہوا

کسی کو پڑھ لیا ایک ہی نشست میں ہم نے
کوئی ضخیم تھا اور باب باب ختم ہوا

اگرچہ مرگ وفا ایک سانحہ تھا مگر
میں خوش ھوا کہ چلو یہ سراب ختم ہوا

مہک کے ساتھ ہی رنگت بھی اڑ گئی"خالد"
بچھڑ کے شاخ سے خود بھی گلاب ختم ہوا

آئینے سے شمع گل کرنا پڑے

Verses

آئینے سے شمع گل کرنا پڑے
کیا ہو پانی پہ اگر چلنا پڑے

کیا ہو گر موج ہوا کے ساتھ ساتھ
بادلوں کا لمس بھی چکھنا پڑے

کیا ہو اپنا عکس گر ہنسنے لگے
کیا ہو خود سے بات گر کرنا پڑے

آزمائش کا یہ کیا انداز ھے
تجھ کو پانے کے لیے کھونا پڑے

جن کی قلمیں خود لگائیں تھیں کبھی
وہ شجر اب خود ہی کٹوانا پڑے

گاؤں کی چنچل ہوا تجھ کو اگر
شہر کی سڑکوں پہ بھی چلنا پڑے

بات کس انداز سے کہنی پڑی
شعر کس عنوان سے لکھنا پڑے

گرمئی محفل سنائی دے مگر
اپنے بارے میں بھی کچھ سننا پڑے

دونوں بیٹھے مسکراتے ہوں
درمیاں دیوار کھنچوانا پڑے

یا حوادث کی کڑکتی دھوپ سے
مرمریں پیکر کو سنولانا پڑے

طلسم جب سے نہاں ہو گئے ہیں لہروں میں

Verses

طلسم جب سے نہاں ہو گئے ہیں لہروں میں
میں ساحلوں پہ مقید ہوا دو پہروں میں

نہ جانے کون سے جنگل سے اٹھ کے آئے ہیں
وہ لوگ جو میرے واقف بنے ہیں شہروں میں

تمہیں بلند بھی کر کے میں پستیوں میں رہا
میں سیڑھیوں کی طرح ہوں تمہارے قدموں میں

بدن پہ اس کے نہیں اک بھی نقش ماضی کا
جسے میں ڈھونڈ رہا ہوں پرانے چہروں میں

تمام کھیل کی معراج بس وہ لمحہ تھا
سکوت کانپا تھا جب ان شریر آنکھوں میں

میں زیر و بم میں ابھی تک اسیر ہوں"خالد"
کچھ ایسا حسن تکلم تھا اس کی سانسوں میں

سفر کا ذوق ہی کچھ تو مسافروں میں نہ تھا

Verses

سفر کا ذوق ہی کچھ تو مسافروں میں نہ تھا
کچھ آرزو کا دفینہ بھی منزلوں میں نہ تھا

میں اپنے ہاتھ کو سنگسار کرنے نکلا ہوں
نظر میں جادو تھا ایسا جو انگلیوں میں نہ تھا

فصیل شب پہ کھڑا ہوں یہ سوچتا ہوں میں
کہ پہلے اتنا اندھیرا کبھی گھروں میں نہ تھا

دمک تھی جس کی پسینے کی باس میں پنہاں
وہ جسم و جان کا گوھر سمندروں میں نہ تھا

تمام عمر بھلا کیوں وہ میرے ساتھ رہا
جو دوست بن نہ سکا اور دشمنوں میں نہ تھا

کھلے ہیں ہاتھ میرے کیوں کہاں ہے مہر زباں
کہ اتنا گہرا سلیقہ تو رہزنوں میں نہ تھا

چلا گیا تیری گلیوں سے دور اب"خالد"
وہ شخص شہر کے اچھے سخنوروں میں نہ تھا

اب تو یوں لگتا ھے جیسے تجھے دیکھا ہی نہ تھا

Verses

اب تو یوں لگتا ھے جیسے تجھے دیکھا ہی نہ تھا
جیسے بادل کبھی صحراؤں پہ برسا ہی نہ تھا

اب تو دھندلانے لگے ہیں تیرے چہرے کے نقوش
دونوں ہاتھوں میں اسے جس طرح تھاما ہی نہ تھا

ہم کو یہ زعم کہ ہم بھی ہیں محبت کے خدا
اور وہ شخص کہ شیشے میں اترتا ہی نہ تھا

آشنائی کی یہ ہلکی سی جھلک بھی کیوں ہے
یوں گزر جاؤ کہ جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا

تجھ کو کھو بیٹھے تو یاد آیا کہ تو اپنا تھا
تجھ کو پانے کا تو ہم نے کبھی سوچا ہی نہ تھا

خواب در خواب لکھ رہا ہوں میں

Verses

خواب در خواب لکھ رہا ہوں میں
اک نیا باب لکھ رہا ہوں میں

بہر احباب لکھ رہا ہوں میں
بر سر آب لکھ رہا ہوں میں

کاغذوں کے صلیب اٹھائے ہوئے
غم کے ابواب لکھ رہا ہوں میں

دل بیتاب! اک ذرا مہلت
دل بیتاب! لکھ رہا ہوں میں

حرف حق کی تلاش میں"خالد"
حرف نایاب لکھ رہا ہوں میں

پھر کوئی یاد آ گئی جیسے

Verses

پھر کوئی یاد آ گئی جیسے
دل پہ بدلی سی چھا گئی جیسے

میری مجبوریوں کا ذکر ھوا
زندگی تلملا گئی جیسے

دن ڈھلے طائروں کی ٹولی
راز ہستی بتا گئی جیسے

اس کی آمد کی بات تھی شاید
رہگزر جھلملا گئی جیسے

دھیمے لہجے میں بات ھونے لگی
شام کو نیند آ گئی جیسے

شب کی شیریں ادا گزرتے ھوئے
زیر لب مسکرا گئی جیسے

نام اس کا زبان پر آیا
جان لفظوں میں آ گئی جیسے

اگرچہ خوف کے عالم میں خواب ختم ہوا

Verses

اگرچہ خوف کے عالم میں خواب ختم ہوا
لگا کہ روح پہ طاری عذاب ختم ہوا

یہ ملنا اور بچھڑنا ہے پانیوں کی طرح
کہ ایک لہر اٹھی نقش آب ختم ہوا

کسی کو پڑھ لیا ایک ہی نشست میں ہم نے
کوئی ضخیم تھا اور باب باب ختم ہوا

اگرچہ مرگ وفا ایک سانحہ تھا مگر
میں خوش ھوا کہ چلو یہ سراب ختم ہوا

مہک کے ساتھ ہی رنگت بھی اڑ گئی"خالد"
بچھڑ کے شاخ سے خود بھی گلاب ختم ہوا

لہو اچھال گیا ہے غبار آنکھوں میں

Verses

لہو اچھال گیا ہے غبار آنکھوں میں
ابھی تلک ہے مگر کوئے یار آنکھوں میں

چڑھاؤ پھول عقیدت کے اور جلاؤ دیے
کہ حسرتوں کے بنے ہیں مزار آنکھوں میں

تو اے غزال مسیحا نفس سنبھال مجھے
حنوط ہونے لگا تیرا پیار آنکھوں میں

کہو کہ ساعت وصل عذاب ہے کہ نہیں
ہے جان لب پہ تو بچھڑا دیار آنکھوں میں

میں کس حریف تمنا سے منصفی چاہوں
کہ خاک جھونک گئے اپنے یار آنکھوں میں

کچھ ایسی ضرب رگ جاں کو چھو گئی"خالد"
کہ اشک آتے ہیں اب بار بار آنکھوں میں

ہے کرب ہجر میں وہی جو ہے وصال میں

Verses

ہے کرب ہجر میں وہی جو ہے وصال میں
عقدہ کھلا یہ ہم پہ کئی ماہ و سال میں

سوچا کیے کہ ٹوٹ نا جائے کسی کا دل
گزری ھہے اپنی عمر اسی دیکھ بھال میں

تیرا وجود گر میری تکمیل ہے تو پھر
یہ تشنگی سی کیا ہے تیرے خدوخال میں

میں تیری اس نگاہ کا کیسے جواب دوں
تو جو چھپا ہوا ہے میرے ہر سوال میں

"خالد"وہ بات اب تو اسے یاد بھی نہیں
ہم جی کو خون کر گئے جس کے ملال میں

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer