ہر زخم دل ميں تيرا سنوارے چلے گئے

Verses

ہر زخم دل ميں تيرا سنوارے چلے گئے
ہم زندگی کا قرض اتارے چلے گئے

اب پَر ہيں نہ قفس، نہ صياد، نہ چمن
جتنے تھے زندگی کے سہارے، چلے گئے

جن پہ تھا ناز مجھ کو يہ ميرے دوست ہيں
دامن جھٹک کے ميرا وہ پيارے چلے گئے

ہر شب کو آنسوؤں کے جلاتے رہے چراغ
ہم تيری بزمِ ياد نکھارے چلے گئے

لتھڑی ہوئی تھی خون ميں ہر زلفِ آرزو
جوشِ جنوں ميں ہم مگر سنوارے چلے گئے

سو بار موت کو بھی بنايا ہے ہمسفر
ہم زندگی کے نقش ابھارے چلے گئے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer