خالد علیم

حادثہ یہ ہے کہ اک حادثہ ہونا ہے ابھی

Verses

حادثہ یہ ہے کہ اک حادثہ ہونا ہے ابھی
آنکھ اسے ڈھونڈ رہی ہے جسے کھونا ہے ابھی

عکس تعبیر کوئی اے مرے آئینۂ خواب!
آخری نیند مجھے جاگ کے سونا ہے ابھی

گر رہے ہیں رگ احساس میں قطرہ قطرہ
مجھ کو پلکوں پہ ستاروں کو پرونا ہے ابھی

میری آواز کی تہ میں وہ اترتا کیسے
میں جنوں سوزِ محبت، اسے ہونا ہے ابھی

اس نے جو میری محبت کے صلے میں بخشا
اپنے دل پر وہی پتھر مجھے ڈھونا ہے ابھی

فصل کو کاٹنے آ پہنچا ہے وہ زود اندیش
اور میں حیراں ہوں، اسے بیج تو بونا ہے ابھی

یہ ضروری ہے کہ خالد اسے پانے کے لیے
کچھ نہ کچھ اپنی خبر میں تجھے ہونا ہے ابھی

گزارتے ہیں یہ دن بھی ترے ملال میں ہم

Verses

گزارتے ہیں یہ دن بھی ترے ملال میں ہم
کہ لے کے پھرتے ہیں ماضی کو اپنے حال میں ہم

اب آنکھ میں کوئی آنسو، کوئی ستارہ نہیں
کچھ ایسے ٹوٹ کے روئے ترے وصال میں ہم

جو اپنے عہد زیاں کا حساب تازہ کرے
وہ لفظ لائیں کہاں سے تری مثال میں ہم

گزشتگاں کا بھی آئندگاں سے ربط رہے
بندھے ہوئے تو ہیں زنجیر ماہ و سال میں ہم

عروج کا کوئی لمحہ کہاں سے نکلے گا
رکے ہوئے ہیں کسی عہد کے زوال میں ہم

وہ عکس ہے پس منظر سے پیش منظر تک
سو دیکھتے ہیں اسے اپنے خد و خال میں ہم

بے تعلق میں خود اپنے ہی گھرانے سے ہوا

Verses

بے تعلق میں خود اپنے ہی گھرانے سے ہوا
اور یہ سانحہ دیوار اٹھانے سے ہوا

میری مٹی تھی کہاں کی تو کہاں لائی گئی
بے زمیں میں جو ہوا بھی تو ٹھکانے سے ہوا

کام جتنا تھا محبت کا، محبت نے کیا
جتنا ہونا تھا زمانے سے، زمانے سے ہوا

میری رسوائی کا سامان نہ ہوتا لیکن
تیری آواز میں آواز ملانے سے ہوا

تم لیے پھرتے ہو کیا ڈوبتے سورج کا ملال
وہ اندھیرا جو ستاروں کے بجھانے سے ہوا؟

اتنا بے کیف مری آنکھ کا منظر تو نہ تھا
خالد اس شخص کو آئینہ دکھانے سے ہوا

حادثہ یہ ہے کہ اک حادثہ ہونا ہے ابھی

Verses

حادثہ یہ ہے کہ اک حادثہ ہونا ہے ابھی
آنکھ اسے ڈھونڈ رہی ہے جسے کھونا ہے ابھی

عکس تعبیر کوئی اے مرے آئینۂ خواب!
آخری نیند مجھے جاگ کے سونا ہے ابھی

گر رہے ہیں رگ احساس میں قطرہ قطرہ
مجھ کو پلکوں پہ ستاروں کو پرونا ہے ابھی

میری آواز کی تہ میں وہ اترتا کیسے
میں جنوں سوزِ محبت، اسے ہونا ہے ابھی

اس نے جو میری محبت کے صلے میں بخشا
اپنے دل پر وہی پتھر مجھے ڈھونا ہے ابھی

فصل کو کاٹنے آ پہنچا ہے وہ زود اندیش
اور میں حیراں ہوں، اسے بیج تو بونا ہے ابھی

یہ ضروری ہے کہ خالد اسے پانے کے لیے
کچھ نہ کچھ اپنی خبر میں تجھے ہونا ہے ابھی

دل آزردہ بھی کیا خوش نظری رکھتا ہے

Verses

دل آزردہ بھی کیا خوش نظری رکھتا ہے
اپنی ہر رات ستاروں سے بھری رکھتا ہے

چارسو ایک وہی دور زماں ہے درپیش
طائرِ جاں وہی بے بال و پری رکھتا ہے

میری مٹی کو لیے پھرتا ہے گردش میں ابھی
جیسے دل بھی ہنر کوزہ گری رکھتا ہے

میری وحشت کے لیے چشم تماشا کم ہے

Verses

میری وحشت کے لیے چشم تماشا کم ہے
اور اگر دیکھنے لگ جائے تو دنیا کم ہے

ٹھہر اے موج غم جاں رگ جاں کے اندر
تیری پرسش کو مری آنکھ کا دریا کم ہے

کس سے ہم جا کے کہیں قصہ ویرانی دل
ہر کوئی کہتا زیادہ ہے تو سنتا کم ہے

رہرو عشق تو بس چلتا ہے دوچار قدم
اور یہ دوچار قدم بھی کوئی چلتا کم ہے

کیسے تصویر کریں تیرے خد و خال کو ہم
تجھ کو سوچا ہے زیادہ، تجھے دیکھا کم ہے

دیکھنا، ہجر کے اس دشتِ بلا سے آگے
اک سفر اور ہے، ہر چند کہ رستا کم ہے

کارِ دنیا ہی سے فرصت نہیں ملتی خالد
ورنہ یہ کارِ محبت بھی مجھے کیا کم ہے

کیا ضروری ہے وہ ہم رنگ نوا بھی ہو جائے

Verses

کیا ضروری ہے وہ ہم رنگ نوا بھی ہو جائے
تم جدھر چاہو، ادھر کو یہ ہوا بھی ہو جائے

اپنے پر نوچ رہا ہے ترا زندانیِ دل
اسے ممکن ہے رہائی کی سزا بھی ہو جائے

دل کا دامانِ دریدہ نہیں سلتا تو میاں
بھاڑ میں جائے اگر چاک ردا بھی ہو جائے

تم یقیں ہو تو گماں ہجر کا کم کیا ہوگا
چشمِ بے خواب اگر خواب نما بھی ہو جائے

کہیں ایسا نہ ہو، اس ڈوبتے خورشید کے ساتھ
تیری آواز میں گم میری صدا بھی ہو جائے

ہم اسیرِ دل و جاں خود سے بھی سہمے ہوئے ہیں
خلقتِ شہر تو ہونے کو خدا بھی ہو جائے

مجلسِ شاہ کے ہیں سارے مصاحب خاموش
ہم نوا دل کا امیر الامرا بھی ہو جائے

کسی ہجر کی رات کا کوئی منظر اٹھائے ہوئے

Verses

کسی ہجر کی رات کا کوئی منظر اٹھائے ہوئے
ہوا رُک گئی سر پہ بادل کا بستر اٹھائے ہوئے

مری آنکھ کے شہر بے خواب کو دیکھنے کے لیے
نکل آیا سورج مرے سر پہ پھر سر اٹھائے ہوئے

مجھے گھر سے باہر نکلنے کا رستہ تو معلوم تھا
کھڑا تھا مگر گھر کی دیوار کو در اٹھائے ہوئے

کبھی میں بھی تھا پیش رو اس کی منزل کا منزل سے دور
اور اب اپنی منزل پہ ہے وہ مرے پر اٹھائے ہوئے

مرے ساتھ کچھ دیر میرا وہ نامحرم چشم و دل
مرے گھر تک آ تو گیا تھا مگر سر اٹھائے ہوئے

وہ کیا رات تھی آنکھ میں آ گیا دل اچھلتا ہوا
کف جاں پہ اپنے لہو کا سمندر اٹھائے ہوئے

اٹھائے نہ اپنے گنہگار ہاتھوں میں پتھر کوئی
مگر کیا ہوا آ گئے سب ہی پتھر اٹھائے ہوئے

وہ خالد مرے رُوبرو آ گیا آئنے کی طرح
مگر میں کہ اپنے ہی ہونے کا تھا ڈر اٹھائے ہوئے

بہت دنوں سے ہوں خالد اسیر حلقۂ خواب

Verses

بہت دنوں سے ہوں خالد اسیر حلقۂ خواب
خبر نہیں کہ کہاں ختم ہو یہ قصۂ خواب

شکست تار رگ جاں ہے زیر و بم دل کا
سکوت شب میں کہیں مرتعش ہے نغمۂ خواب

ہوائے شام نے اس کو بجھا دیا خالد
مری نگاہ پہ جب بھی کھلا دریچۂ خواب

کسی کے سامنے مت اپنا دل نکال کے رکھ

Verses

کسی کے سامنے مت اپنا دل نکال کے رکھ
یہ دشت خواب ہے، اپنے قدم سنبھال کے رکھ

ستارے کارگہِ آسماں میں ڈھلتے ہیں
کبھی کبھی سر مژگاں انھیں اجال کے رکھ

نکھار حجلۂ جاں میں گزشتگاں کے نقوش
چراغ، طاق تمنا میں ماہ و سال کے رکھ

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer