حادثہ یہ ہے کہ اک حادثہ ہونا ہے ابھی

Verses

حادثہ یہ ہے کہ اک حادثہ ہونا ہے ابھی
آنکھ اسے ڈھونڈ رہی ہے جسے کھونا ہے ابھی

عکس تعبیر کوئی اے مرے آئینۂ خواب!
آخری نیند مجھے جاگ کے سونا ہے ابھی

گر رہے ہیں رگ احساس میں قطرہ قطرہ
مجھ کو پلکوں پہ ستاروں کو پرونا ہے ابھی

میری آواز کی تہ میں وہ اترتا کیسے
میں جنوں سوزِ محبت، اسے ہونا ہے ابھی

اس نے جو میری محبت کے صلے میں بخشا
اپنے دل پر وہی پتھر مجھے ڈھونا ہے ابھی

فصل کو کاٹنے آ پہنچا ہے وہ زود اندیش
اور میں حیراں ہوں، اسے بیج تو بونا ہے ابھی

یہ ضروری ہے کہ خالد اسے پانے کے لیے
کچھ نہ کچھ اپنی خبر میں تجھے ہونا ہے ابھی

گزارتے ہیں یہ دن بھی ترے ملال میں ہم

Verses

گزارتے ہیں یہ دن بھی ترے ملال میں ہم
کہ لے کے پھرتے ہیں ماضی کو اپنے حال میں ہم

اب آنکھ میں کوئی آنسو، کوئی ستارہ نہیں
کچھ ایسے ٹوٹ کے روئے ترے وصال میں ہم

جو اپنے عہد زیاں کا حساب تازہ کرے
وہ لفظ لائیں کہاں سے تری مثال میں ہم

گزشتگاں کا بھی آئندگاں سے ربط رہے
بندھے ہوئے تو ہیں زنجیر ماہ و سال میں ہم

عروج کا کوئی لمحہ کہاں سے نکلے گا
رکے ہوئے ہیں کسی عہد کے زوال میں ہم

وہ عکس ہے پس منظر سے پیش منظر تک
سو دیکھتے ہیں اسے اپنے خد و خال میں ہم

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer