خلیل الرحمن اعظمی

بنے بناۓ سے رستوں کا سلسلہ نکلا

Verses

بنے بناۓ سے رستوں کا سلسلہ نکلا
نیا سفر بھی بہت ہی گریز پا دیکھا

نہ جانے کس کی ہمیں عمر بھر تلاش رہی
جسے قریب سے دیکھا وہ دوسرا نکلا

ہمیں تو راس نہ آئی کسی کی محفل بھی
کوئی خدا، کوئی ہمسایۂ خدا نکلا

ہزار طرح کی مے پی، ہزار طرح کے زہر
نہ پیاس ہی بجھی اپنی، نہ حوصلہ نکلا

ہمارے پاس سے گزری تھی ایک پرچھائیں
پکارا ہم نے تو صدیوں کا فاصلہ نکلا

اب اپنے آپ کو ڈھونڈھیں کہاں کہاں جا کر
عدم سے تا بہ عدم اپنا نقشِ پا نکلا

رخ پہ گردِ ملال تھی، کیا تھی

Verses

رخ پہ گردِ ملال تھی، کیا تھی
حاصلِ ماہ و سال تھی، کیا تھی

ایک صورت سی یاد ہے اب بھی
آپ اپنی مثال تھی، کیا تھی

میری جانب اُٹھی تھی کوئی نگہ
ایک مبہم سوال تھی، کیا تھی

اس کو پا کر بھی اس کو پا نہ سکا
جستجوۓ جمال تھی، کیا تھی

صبح تک خود سے ہم کلام رہا
یہ شبِ جذب و حال تھی، کیا تھی

دل میں تھی، پر لبوں تک آ نہ سکی
آرزوۓ وصال تھی، کیا تھی

اپنے زخموں پہ اک فسردہ ہنسی
کوششِ اندمال تھی، کیا تھی

عمر بھر میں بس ایک بار آئی
ساعتِ لا زوال تھی، کیا تھی

خوں کی پیاسی تھی پر زمینِ وطن
ایک شہرِ خیال تھی، کیا تھی

باعثِ رنجشِ عزیزاں تھی
خوۓ کسبِ کمال تھی، کیا تھی

اک جھلک لمحۂ فراغت کی
ایک امرِ محال تھی، کیا تھی

کوئی خواہاں نہ تھا کہ جنسِ ہنر
ایک مفلس کا مال تھی، کیا تھی

اس پر بھی دشمنوں کا کہیں سایہ پڑ گیا

Verses

اس پر بھی دشمنوں کا کہیں سایہ پڑ گیا
غم سا پرانا دوست بھی آخر بچھڑ گیا

جی چاہتا تو بیٹھتے یادوں کی چھاؤں میں
ایسا گھنا درخت بھی جڑ سے اکھڑ گیا

غیروں نے مجھ کو دفن کیا شاہراہ پر
میں کیوں نہ اپنی خاک میں غیرت سے گڑ گیا

خلوت میں جس کی نرم مزاجی تھی بے مثال
محفل میں بے سبب ہی وہ مجھ سے اکڑ گیا

بس اتنی بات تھی کہ عیادت کو آۓ لوگ
دل کے ہر ایک زخم کا ٹانکا اُدھڑ گیا

یاروں نے جا کے خوب زمانے سے صلح کی
میں ایسا بد دماغ، یہاں بھی پچھڑ گیا

کوتاہیوں کی اپنی میں تاویل کیا کروں
میرا ہر ایک کھیل مجھی سے بگڑ گیا

اب کیا بتائیں کیا تھا خیالوں کے شہر میں
بسنے سے پہلے وقت کے ہاتھوں اُجڑ گیا

ہر گھڑی عمرِ فرومایہ کی قیمت مانگے

Verses

ہر گھڑی عمرِ فرومایہ کی قیمت مانگے
مجھ سے آئینہ مرا میری ہی صورت مانگے

دور رہ کر ہی جو آنکھوں کو بھلے لگتے ہیں
دلِ دیوانہ مگر ان کی ہی قربت مانگے

پوچھتے کیا ہو ان آنکھوں کی اداسی کا سبب
خواب جو دیکھے وہ خوابوں کی حقیقت مانگے

اپنے دامن میں چھپا لے مرے اشکوں کے چراغ
اور کیا تجھ سے کوئی اے شبِ فرقت مانگے

وہ نگہ کہتی ہے بیٹھے رہو محفل میں ابھی
دل کی آشفتگی اٹھنے کی اجازت مانگے

زہر پی کر بھی جیوں میں، یہ الگ بات مگر
زندگی اس لبِ رنگیں کی حلاوت مانگے

زیب دیتے نہیں یہ طرّہ و دستار مجھے
میری شوریدہ سری سنگِ ملامت مانگے

پھر مری راہ میں کھڑی ہوگی وہی اک شے جو اجنبی ہوگی

Verses

پھر مری راہ میں کھڑی ہوگی وہی اک شے جو اجنبی ہوگی
شور سا ہے لہو کے دریا میں ۔ کس کی آواز آ رہی ہوگی

پھر مری روح میرے گھر کا پتہ ۔ میرے ساۓ سے پوچھتی ہوگی
کچھ نہیں میری زرد آنکھوں میں ۔ ڈوبتے دن کی روشنی ہوگی

رات بھر دل سے بس یہی باتیں ۔ دن کو پھر درد میں کمی ہوگی
بس یہی ایک بوند آنسو کی ۔ میرے حصّے کی مے کشی ہوگی

پھر مرے انتظار میں مری نیند ۔ میرے بستر پہ جاگتی ہوگی
جانے کیوں اک خیال سا آیا ۔ میں نہ ہوں گا تو کیا کمی ہوگی

خود اپنا عکس ہوں کہ کسی کی صدا ہوں میں

Verses

خود اپنا عکس ہوں کہ کسی کی صدا ہوں میں
یاں شہر تا بہ شہر جو بکھرا ہوا ہوں میں

میں ڈھونڈھنے چلا تھا جو خود اپنے آپ کو
تہمت یہ مجھ پہ ہے کہ بہت خود نُما ہوں میں

مجھ سے نہ پوچھ نام مرا روحِ کائنات
اب اور کچھ نہیں ہوں، ترا آئینہ ہوں میں

لاؤں کہاں سے ڈھونڈھ کے میں اپنا ہم نوا
خود اپنے ہر خیال سے ٹکرا چکا ہوں میں

اے عمرِ رفتہ میں تجھے پہچانتا نہیں
اب مجھ کو بھول جا کہ بہت بے وفا ہوں میں

دل کی رہ جاۓ نہ دل میں، یہ کہانی کہہ لو

Verses

دل کی رہ جاۓ نہ دل میں، یہ کہانی کہہ لو
چاہے دو حرف لکھو، چاہے زبانی کہہ لو

میں نے مرنے کی دعا مانگی وہ پوری نہ ہوئی
بس اسی کو مرے جینے کی نشانی کہہ لو

تم سے کہنے کی نہ تھی بات، مگر کہہ بیٹھا
اب اسے میری طبیعت کی روانی کہہ لو

وہی اک قصّہ زمانے کو مرا یاد رہا
آپ بیتی کہو، یا مرثیہ خوانی کہہ لو

اتنی لمبی ہے کہانی کہیں دم ٹوٹ نہ جاۓ

Verses

اتنی لمبی ہے کہانی کہیں دم ٹوٹ نہ جاۓ
حالِ دل اور لکھیں گے پہ قلم ٹوٹ نہ جاۓ

ہم چھپاتے ہیں پریشانئ خاطر ان سے
طبعِ نازک پہ بھی یہ کوہِ الم ٹوٹ نہ جاۓ

ہم نے خود جس کو تراشا ہے بڑی محنت سے
اب ہمیں سے یہ خیالوں کا صنم ٹوٹ نہ جاۓ

اب ٹھہرتا نہیں اس گھر میں کوئی اور چراغ
قطرہ قطرہ ترا اے دیدۂ نم ٹوٹ نہ جاۓ

کسی قیمت کسی بازار میں ملتا نہیں دل
لو سنبھالو کہ یہ پیمانۂ جم ٹوٹ نہ جاۓ

اور آہستہ چلو رہگزرِ ہستی سے
کہیں یہ سلسلۂ نقشِ قدم ٹوٹ نہ جاۓ

وہ رنگِ رخ، وہ آتشِ خوں کون لے گیا

Verses

وہ رنگِ رخ، وہ آتشِ خوں کون لے گیا
اے دل ترا وہ رقصِ جنوں کون لے گیا
زنجیر آنسوؤں کی کہاں ٹوٹ کر گری
وہ انتہاۓ غم کا سکوں کون لے گیا
دردِ نہاں کے چھین لیے کس نے آئینے
نوکِ مژہ سے قطرۂ خوں کون لے گیا
جو مجھ سے بولتی تھیں وہ راتیں کہاں گئیں
جو جاگتا تھا سوزِ دروں کون لے گیا
کس موڑ پر بچھڑ گئے خوابوں کے قافلے
وہ منزلِ طرب کا فسوں کون لے گیا
جو شمع اتنی رات جلی، کیوں وہ بجھ گئی
جو شوق ہو چلا تھا فزوں کون لے گیا

میں دیر سے دھوپ میں کھڑا ہوں

Verses

میں دیر سے دھوپ میں کھڑا ہوں
سایہ سایہ پکارتا ہوں
سونا ہوں، کرید کر تو دیکھو
مٹی میں دبا ہوا پڑا ہوں
لے مجھ کو سنبھال گردشِ وقت
ٹوٹا ہوا تیرا آئینہ ہوں
یوں ربط تو ہے نشاط سے بھی
در اصل میں غم سے آشنا ہوں
صحبت میں گلوں کی میں بھی رہ کر
کانٹوں کی زباں سمجھ گیا ہوں
دشمن ہو کوئی کہ دوست میرا
ہر ایک کے حق میں میں دعا ہوں
کیوں آبِ حیات کو میں ترسوں
میں زہرِ حیات پی چکا ہوں!!
ہر عہد کے لوگ مجھ سے ناخوش
ہر عہد میں خواب دیکھتا ہوں

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer