کنور امتیاز احمد

وہ کسی طور بھی میرا نہیں ہو سکتا تھا

Verses

وہ کسی طور بھی میرا نہیں ہو سکتا تھا
کچھ بھی ہو سکتا تھا، ایسا نہیں ہو سکتا تھا

تم یقینا" ابھی آئے تھے، ابھی لوٹ گئے
چشمِ احساس کو دھوکہ نہیں ہو سکتا تھا

یہ تو صد شکر کہ تو نے مجھے دیکھا ورنہ
میرا ہونا، مرا ہونا نہیں ہو سکتا تھا

تو نہیں تیرے علاوہ بھی کوئی ہے تجھ سا
ورنہ اک شخص تو دنیا نہیں ہو سکتا تھا

میرے ہونے سے کنور کھیل جما ہے کیسا
میں نہ ہوتا تو تماشا نہیں ہو سکتا تھا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer