کیفی اعظمی

تم اتنا جو مسکرا رھے ھو

Verses

تم اتنا جو مسکرا رھے ھو
کيا غم ھے جس کو چھپا رھے ھو

آنکھوں ميں نمی , ھنسی لبوں پر
کيا حال ھے کيا دکھا رھے ھو

بن جائيں گے زھر پيتے پيتے
يہ اشک جو پيے جا رھے ھو

جن زخموں کو وقت بھر چلا ھے
تم کيوں انکو چھيڑے جا رھے ھو

ريکھاؤں کا کھيل ھے مقدر
ريکھاؤں سے مات کھا رھے ھو

اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے

Verses

اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے
ہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑے

جس طرح ہنس رہا ہوں میں پی پی کے گرم اشک
یوں دوسرا ہنسے تو کلیجہ نکل پڑے

اِک تم کہ تم کو فکر نشیب و فراز ہے
اِک ہم کہ چل پڑے تو بہرحال چل پڑے

ساقی سبھی کو ہے غمِ تشنہ لبی مگر
مے ہے اسی کی نام پہ جس کے ابل پڑے

مدت کے بعد اس نے جو کی لطف کی نگاہ
جی خوش تو ہو گیا مگر آنسو نکل پڑے

خارو خس تو اٹھیں راستہ تو چلے

Verses

خارو خس تو اٹھیں راستہ تو چلے
میں اگر تھک گیا قافلہ تو چلے

چاند سورج بزرگوں کے نقش قدم
خیر بجھنے دو ان کو ھوا تو چلے

حاکم شہر، یہ بھی کوئی شہر ھے
مسجدیں بند ہیں، میکدہ تو چلے

اس کو مذہب کہو یا سیاست کہو
خودکشی کا ہنر تم سکھا تو چلے

اتنی لاشیں میں کیسے اٹھا پاؤں گا
آپ اینٹوں کی حرمت بچا تو چلے

بیلچے لاؤ کھولو زمیں کی تہیں
میں کہاں دفن ھوں پتہ تو چلے

ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی

Verses

ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی
میرا چھپر اُٹھا گیا کوئی

لگ گیا اک مشین میں میں بھی
شہر میں لے کے آ گیا کوئی

میں کھڑا تھا کہ پیٹھ پر میری
اشتہار اِک لگا گیا کوئی

یہ صدی دھوپ کو ترستی ہے
جیسے سورج کو کھا گیا کوئی

ایسی مہنگائی ہے کہ چہرہ بھی
بیچ کے اپنا کھا گیا کوئی

اب وہ ارمان ہیں نہ وہ سپنے
سب کبوتر اُڑا گیا کوئی

وہ گئے جب سے ایسا لگتا ہے
چھوٹا موٹا خدا گیا کوئی

میرا بچپن بھی ساتھ لے آیا
گاؤں سے جب بھی آ گیا کوئی

پتھر کے خدا وہاں بھی پائے

Verses

پتھر کے خدا وہاں بھی پائے
ہم چاند سے آج لوٹ آئے

دیواریں تو ہر طرف کھڑی ہیں
کیا ہو گئے مہربان سائے

جنگل کی ہوائیں آ رہی ہیں
کاغذ کا یہ شہر اڑ نہ جائے

لیلیٰ نے نیا جنم لیا ہے
ہے قیس کوئی جو دل لگائے

ہے آج زمیں کا غسلِ صحت
جس میں ہو جتنا خون لائے

صحرا صحرا لہو کے خیمے
پھر پیاسے لبِ فرات آئے

سنا کرو مری جاں اِن سے اُن سے افسانے

Verses

سنا کرو مری جاں اِن سے اُن سے افسانے
سب اجنبی ہیں یہاں کون کس کو پہچانے

یہاں سے جلد گزر جاؤ قافلے والو !
ہیں میری پیاس کے پھونکے ہوئے یہ ویرانے

مرے جنونِ پرستش سے تنگ آ گئے لوگ
سنا ہے بند کئے جا رہے ہیں بت خانے

جہاں سے پچھلے پہر کوئی تشنہ کام اٹھا
وہیں پہ توڑے ہیں یاروں نے آج پیمانے

بہار آئے تو میرا سلام کہہ دینا
مجھے تو آج طلب کر لیا ہے صحرا نے

ہوا ہے حکم کہ کیفی کو سنگسار کرو
مسیح بیٹھے ہیں چھپ کے کہاں خدا جانے

شور یونہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا

Verses

شور یونہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا
کوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا

پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو ہو گا
جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا

بانیء جشنِ بہاراں نے یہ سوچا بھی نہیں
کس نے کانٹوں کو لہو اپنا پلایا ہوگا

بجلی کے تار بیٹھا ہوا ہنستا پنچھی
سوچتا ہے کہ وہ جنگل تو پرایا ہوگا

اپنے جنگل سے جو گھبرا کے اڑے تھے پیاسے پیاسے
ہر سراب ان کو سمندر نظر آیا ہوگا

وہ بھی سراہنے لگے اربابِ فن کے بعد

Verses

وہ بھی سراہنے لگے اربابِ فن کے بعد
دادِ سخن ملی مجھے ترکِ سخن کے بعد

دیوانہ وار چاند سے آگے نکل گئے
ٹھہرا نہ دل کہیں بھی تری انجمن کے بعد

ہونٹوں کو سی کے دیکھئے پچھتائے گا آپ
ہنگامے جاگ اٹھتے ہیں اکثر گھٹن کے بعد

غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اس کی دھوپ
قدرِ وطن ہوئی ہمیں ترکِ وطن کے بعد

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں
دو گز زمیں بھی چاہئے دو گز کفن کے بعد

اعلانِ حق میں خطرہء دارو رسن تو ہے
لیکن سوال یہ ہے کہ دار و رسن کے بعد

جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں

Verses

جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
دبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں

تو اپنے دل کی جواں دھڑکنوں کو گن کے بتا
میری طرح تیرا دل بے قرار ہے کہ نہیں

وہ پَل کہ جس میں محبت جواں ہوتی ہے
اس اک پَل کا تجھے انتظار ہے کہ نہیں

تری امید پہ ٹھکرا رہا ہوں دنیا کو
تجھے بھی اپنے پہ یہ اعتبار ہے کہ نہیں

آج سوچا تو آنسو بھر آئے

Verses

آج سوچا تو آنسو بھر آئے
مدتیں ہوگیئیں مسکرائے

دل کی نازک رگیں ٹوٹتی ہیں
یاد اتنا بھی نہ کوئی آئے

رہ گئی زندگی درد بن کے
درد دل میں چھپائے چھپائے

ہر قدم پر ادھر مڑ کے دیکھا
ان کی محفل سے ہم اٹھ تو آئے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer