جوش ملیح آبادی

تیرگی پُرہول، صحرا بے اماں، بادل سیاہ

Verses

اندھیری رات

تیرگی پُرہول، صحرا بے اماں، بادل سیاہ
ایک میں، اور یہ اندھیری رات کی خونی سیاہ
کون ہے اُلجھی ہوئی شاخوں کے اندر بے قرار
کون مجھ کو گھورتا ہے جھاڑیوں سے بار بار
کون یہ آواز دیتا ہے کہ آتا کیوں نہیں
پردہ ہائے محملِ ظلمت اٹھاتا کیوں نہیں
ہاں لپک اُٹھا وہ کوندا سا دلِ سرشار میں
اب میں سمجھا کون ہے اِن پردہ ہائے تار میں
مجھ سے ملنے آئی ہے رتھ میں اندھیری رات کی
ہو نہ ہو یہ رُوح مُضطر ہے بھری برسات کی

بھری برسات میں، جس وقت آدھی رات کے بادل

Verses

برسات کی رات

بھری برسات میں، جس وقت آدھی رات کے بادل
سیہ پرچم اڑاتے ہیں، بُجھا کر چاند کی مشعل
مکاں کے بام ودر بجلی کی رو میں جب جھکتے ہیں
سُبک بوندوں سے دروازوں کے شیشے جب کھٹکتے ہیں
سیاہی اتنی چھا جاتی ہے جب ہستی کی محفل میں
تصور تک نہیں‌رہتا سحر کا، رات کے دل میں
ستارے دفن ہو جاتے ہیں جب آغوشِ ظلمت میں
لپک اٹھتا ہے اک کوندا سا جب شاعر کی فطرت میں
معاً اک حور اس روزن میں آ کر مسکراتی ہے
اشاروں سے مجھے اپنی گھٹاؤن میں بلاتی ہے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer