جگر مراد آبادی

سن تو اے دل یہ برہمی کیا ہے؟

Verses

سن تو اے دل یہ برہمی کیا ہے؟
آج کچھ درد میں کمی کیا ہے؟

دیکھ لو! رنگِ روئے ناکامی!
یہ نہ پوچھو، کہ بے بسی کیا ہے

اپنی ناکامئ طلب کی قسم!!
عین دریا ہے، تشنگی کیا ہے

جسم محدود، روح لا محدود
پھر یہ اک ربطِ باہمی کیا ہے

اے فلک! اب تجھے تو دکھلا دوں
زورِ بازوئے بے کسی کیا ہے

ہم نہیں جانتے محبت میں!
رنج کیا چیز ہے، خوشی کیا ہے

اک نفس خلد، اک نفس دوزخ
کوئی پوچھے یہ زندگی کیا ہے؟

زخم وہ دل پہ لگا ہے کہ دکھائے نہ بنے

Verses

زخم وہ دل پہ لگا ہے کہ دکھائے نہ بنے
اور چاہیں کہ چُھپا لیں تو چُھپائے نہ بنے

ہائے بےچارگئ عشق کہ اس محفل میں
سر جُھکائے نہ بنے، آنکھ اٹھائے نہ بنے

یہ سمجھ لو کہ غمِ عشق کی تکمیل ہوئی
ہوش میں آ کے بھی جب ہوش میں آئے نہ بنے

کس قدر حُسن بھی مجبورِ کشا کش ہے کہ آہ
منہ چُھپائے نہ بنے، سامنے آئے نہ بنے

ہائے وہ عالمِ پُرشوق کہ جس وقت جگر
اُس کی تصویر بھی سینے سے لگائے نہ بنے

اگر شامل نہ درپردہ کسی کی آرزُو ہوتی

Verses

اگر شامل نہ درپردہ کسی کی آرزُو ہوتی
تو پھر اے زندگی ظالم، نہ میں ہوتا، نہ تُو ہوتی

اگر حائل نہ اُس رخ پر نقابِ رنگ و بُو ہوتی
کسے تابِ نظر رہتی، مجالِ آرزو ہوتی؟

نہ اک مرکز پہ رُک جاتی، نہ یوں بے آبرُو ہوتی
محبت جُستجُو تھی، جُستجُو ہی جُستجُو ہوتی

ترا ملنا تو ممکن تھا، مگر اے جانِ محبوبی!
مرے نزدیک توہین مذاق جستجو ہوتی

نگاہِ شوق اُسے بھی ڈھال لیتی اپنے سانچے میں
اگر اِک اور بھی دنیا ورائے رنگ و بُو ہوتی

وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیے

Verses

وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیے
زندگی سے رُوٹھ جانا چاہیے

ہمتِ قاتل بڑھانا چاہیے
زیر ِخنجر مُسکرانا چاہیے

زندگی ہے نام جہد و جنگ کا
موت کیا ہے، بُھول جانا چاہیے

ہے انہیں دھوکوں سے دل کی زندگی
جو حسیں دھوکا ہو ، کھانا چاہیے

لذتیں ہیں دشمنِ اوجِ کمال
کلفتوں سے جی لگانا چاہیے

ان سے ملنے کو تو کیا کہیے جگر!
خود سے ملنے کو زمانہ چاہیے

یادش بخیر! جب وہ تصور میں آ گیا

Verses

یادش بخیر! جب وہ تصور میں آ گیا
شعر و شباب و حسن کا دریا بہا گیا

جب عشق اپنے مرکزِ اصلی پہ آ گیا
خود بن گیا حسین، دو عالم پہ چھا گیا

جو دل کا راز تھا اسے کچھ دل ہی پا گیا
وہ کر سکے بیاں، نہ ہمیں سے کہا گیا

ناصح فسانہ اپنا ہنسی میں اڑا گیا
خوش فکر تھا کہ صاف یہ پہلو بچا گیا

اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہلِ دل
ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا

دل بن گیا نگاہ، نگہ بن گئی زباں
آج اک سکوتِ شوق قیامت ہی ڈھا گیا

میرا کمالِ شعر بس اتنا ہے اے جگر
وہ مجھ پہ چھا گئے، میں زمانے پہ چھا گیا

دل بہلنے کی شبِ غم یہی صورت ہوگی

Verses

دل بہلنے کی شبِ غم یہی صورت ہوگی
آپ کی دی ہوئی تکلیف بھی راحت ہوگی

آپ کے درد میں بھی آپ کی سِیرت ہوگی
بات میں بات، نزاکت میں نزاکت ہوگی

آتشِ دوزخِ ہجراں ہے قیامت، لیکن
تم جو چاہو گے تو یہ بھی مجھے جنت ہوگی

جمع کرتی رہے آمادگی ذوقِ فنا!
کام آئے گی، اگر دل میں حرارت ہوگی

کہنے سُننے کی غمِ عشق میں حاجت ہی نہیں
آنکھ سے ٹپکے گی، دل میں جو محبت ہوگی

محبت میں جگر گزرے ہیں ایسے بھی مقام اکثر

Verses

محبت میں جگر گزرے ہیں ایسے بھی مقام اکثر
کہ خود لینا پڑا ہے اپنے دل سے انتقام اکثر

کہاں حسنِ تمامِ یاد و تکلیفِ کرم کوشی؟
بدل دیتی ہے دنیا اک نگاہَ ناتمام اکثر

مری رندی بھی کیا رندی، مری مستی بھی کیا مستی؟
مری توبہ بھی بن جاتی ہے مے خانہ بجام اکثر

محبت نے اسے آغوش میں بھی پا لیا آخر
تصور ہی میں رہتا تھا جو اک محشر خرام اکثر

جگر ایسا بھی دیکھا ہے کہ ہنگامِ سیہ مستی
نظر سے چھپ گئے ہیں ساقی و مینا و جام اکثر

جب کبھی چھیڑا جنوں نے دیدہء خوں بار کو

Verses

جب کبھی چھیڑا جنوں نے دیدہء خوں بار کو
بھر دیا پھولوں سے ہم نے دامن ِکہسار کو

ٹھیس لگ جائے نہ اُن کی حسرتِ دیدار کو
اے ہجومِ غم! سنبھلنے دے ذرا بیمار کو

فکر ہے زاہد کو حور و کوثر و تسنیم کی
اور ہم جنت سمجھتے ہیں ترے دیدار کو

دیکھنے والے نگاہِ مست ساقی کی کبھی
آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں ساغرِ سرشار کو

ہرقدم پر، ہر روش پر، ہر ادا پر، ہر جگہ
دیھکنا پڑتا ہے انداز، نگاہِ یار کو

لاکھ سمجھایا جگر کو، ایک بھی مانی نہ بات
دُھن لگی تھی کوچہء قاتل کی میرے یار کو

کسی نے پھر نہ سنا درد کے فسانے کو

Verses

کسی نے پھر نہ سنا درد کے فسانے کو
مرے نہ ہونے سے راحت ہوئی زمانے کو

اب اس میں جان مری جائے یا رہے، صیاد!
بہار میں تو نہ چھوڑوں گا آشیانے کو

چلا نہ پھر کوئی مجھ پر فریب ہستی کا
لحد تک آئی اجل بھی مرے منانے کو

فلک! ذرا اس بے بسی کی داد تو دے
قفس میں بیٹھ کے روتا ہوں اشیانے کو

وفا کا نام کوئی بھول کر نہیں لیتا
ترے سلوک نے چونکا دیا زمانے کو

قفس کی یاد میں پھر جی یہ چاہتا ہے جگر
لگا کے آگ نکل جاؤں آشیانے کو

یہ مزا تھا، خلد میں بھی نہ مجھے قرار ہوتا

Verses

یہ مزا تھا، خلد میں بھی نہ مجھے قرار ہوتا
جو وہاں بھی آنکھ کُھلتی، یہی انتظار ہوتا

میں جنوںِ عشق میں یوں ہمہ تن فگار ہوتا
کہ مرے لہُو سے پیدا اثرِ بہار ہوتا

میرے رشکِ بے نہایت کو نہ پوچھ میرے دل سے
تجھے تجھ سے بھی چُھپاتا، اگر اختیار ہوتا

مری بےقراریاں ہی تو ہیں اس کی وجہ تسکیں
جو مجھے قرار ہوتا ، تو وہ بے قرار ہوتا

جسے چشمِ شوق میری کسی طرح دیکھ پاتی
کبھی حشر تک وہ جلوہ نہ پھر آشکار ہوتا

یہ دل اور یہ بیانِ غمِ عشق بے محایا
اگر آپ طرح دیتے، مجھے ناگوار ہوتا

کبھی یہ ملال، اس کا نہ دُکھے کسی طرح دل
کبھی یہ خیال، وہ بھی یونہی بےقرار ہوتا

مرا حال ہی جگر کیا، وہ مریضِ عشق ہوں میں
کہ وہ زہر بھی جو دیتا، مجھے سازگار ہوتا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer