جاوید اختر

وہ ڈَھل رہا ہے تو یہ بھی رَنگت بدل رہی ہے

Verses

وہ ڈَھل رہا ہے تو یہ بھی رَنگت بدل رہی ہے
زمیں سورج کی انگلیوں سے پھسل رہی ہے

جو مجھ کو زندہ جَلا رہے ہیں وہ بے خبر ہیں
کہ میری زنجیر دِھیرے دھیرے پگھل رہی ہے

میں قتل تو ہو گیا تمہاری گلی میں لیکن
مِرے لُہو سے تمہاری دیوار گَل رہی ہے

جَلنے پاتے تھے جس کے چُولھے بھی ہر سویرے
سُنا ہے کَل رات سے وہ بَستی بھی جَل رہی ہے

میں جانتا ہوں کہ خامشی میں ہی مصلحت ہے
مگر یہی مصلحت میرے دل کو کَھل رہی ہے

کبھی تو انساں زندگی کی کرے گا عزّت
یہ ایک امّید آج بھی دل میں پَل رہی ہے

جنگل میں گھومتا ہے پہروں فکرِ شکار میں درندہ

Verses

جنگل میں گھومتا ہے پہروں فکرِ شکار میں درندہ
یا اپنے زخم چاٹتا ہے تنہا کچھار میں درندہ

باتوں میں دوستی کا امرت سینے میں زہر نفرتوں کا
پربت پہ پھول کھل رہے ہیں بیٹھا ہے غار میں درندہ

ذہنی یگانگت کے آگے تھیں خواہشیں خجل بدن کی
چٹان پہ بیٹھا چاند تاکے جیسے کنوار میں درندہ

گاؤں سے شہر آنے والے ندی پہ جیسے پیاسے
تھا منتظر انھیں کا کب سے اک روزگار میں درندہ

مذہب نہ جنگ نہ سیاست جانے نہ ذات پات کو بھی
اپنی درندگی کے آگے ہے کِس شمار میں درندہ

دل کے پھول بھی کھلتے ہیں ، بکھر جاتے ہیں

Verses

دل کے پھول بھی کھلتے ہیں ، بکھر جاتے ہیں
زخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیں

اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھی
سر جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاتے ہیں

راستہ روکے کھڑی ہے یہی الجھن کب سے
کوئی پوچھے تو کہیں کیا کہ کدھر جاتے ہیں

نرم آواز، بھلی باتیں، مہذب لہجتے
پہلی بارش میں ہی یہ رنگ اتر جاتے ہیں

تمنا پھر مچل جائے، اگر تم ملنے آ جاؤ

Verses

تمنا پھر مچل جائے، اگر تم ملنے آ جاؤ
یہ موسم بھی بدل جائے، اگر تم ملنے آ جاؤ

مجھے غم ہے کہ میں نے زندگی میں کچھ نہیں پایا
یہ غم دل سے نکل جائے، اگر تم ملنے آ جاؤ

یہ دنیا بھر کے جھگڑے،گھر کے قصے،کام کی باتیں
بلا ہر ایک ٹل جائے، اگر تم ملنے آ جاؤ

نہیں ملتے ہو مجھ سے تم تو سب ہمدرد ہیں میرے
زمانہ مجھ سے جل جائے، اگر تم ملنے آ جاؤ

ہر خوشی میں کوئی کمی سی ہے

Verses

ہر خوشی میں کوئی کمی سی ہے
ہنستی آنکھوں میں بھی نمی سی ہے

دن بھی چپ چاپ سر جھکائے تھا
رات کی نبض بھی تھمی سی ہے

کس کو سمجھائیں کسی کی بات نہیں
ذہن اور دل میں پھر ٹھنی سی ہے

خواب تھا یا غبار تھا کوئی
گرد ان پلکوں پہ جمی سی ہے

کہیں گے ہم کس سے دل کی بات
شہر میں ایک سنسانی سی ہے

حسرتیں راکھ ہوگئیں لیکن
آگ اب بھی کہیں دبی سی ہے

مجھ کو یقین ہے سچ کہتی تھیں ،جو بھی امٌی کہتی تھیں

Verses

مجھ کو یقین ہے سچ کہتی تھیں ،جو بھی امٌی کہتی تھیں
جب میرے بچپن کے دن تھے،چاند میں پریاں رہتی تھیں

ایک یہ دن جب اپنوں نے بھی ہم سے ناطہ توڑ لیا
ایک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں

ایک یہ دن جب ساری سڑکیں روٹھی روٹھی لگتی ہیں
ایک وہ دن جب ،آؤ کھیلیں ،ساری گلیاں کہتی تھیں

ایک یہ دن جب جاگی راتیں دیواروں کو تکتی ہیں
ایک وہ دن جب شاموں کی بھی پلکیں بوجھل رہتی تھیں

ایک یہ دن جب ذہن میں ساری عیاری کی باتیں ہیں
ایک وہ دن جب دل میں بھولی بھالی باتیں رہتی تھیں

ایک یہ دن جب لاکھوں غم اور کال پڑا ہے آنسو کا
ایک وہ دن جب ایک ذرا سی بات پہ ندیاں بہتی تھیں

ایک یہ گھر جس گھر میں میرا ساز و ساماں رہتا ہے
ایک وہ گھر جس گھر میں میری بوڑھی نانی رہتی تھیں

جو اتنے قریب ہیں اس دل سے، وہ دور ہوئے تو کیا ہوگا ؟

Verses

جو اتنے قریب ہیں اس دل سے، وہ دور ہوئے تو کیا ہوگا ؟
ہم ان سے بِچھڑ کر جینے پر مجبور ہوئے تو، کیا ہوگا ؟

ہم ان کی محبت پانے کو ہر بات گوارا تو کرلیں
اِن باتوں سے وہ اور اگر مغرُور ہوئے تو، کیا ہوگا ؟

شیشے سے بھی نازک خواب ہیں جو راتوں نے سجائے ہیں لیکن
یہ دن کی چٹانوں پر گِر کے جب چُور ہوئے تو کیا ہوگا ؟

دُنیا جو کہے گی تم کو بُرا، ہم کو نہ لگے گا یہ اچھا
سوچو کہ تمہارے ہم پہ سِتم مشہور ہوئے تو، کیا ہوگا ؟

کن لفظوں میں اتنی کڑوی ، اتنی کسیلی بات لکھوں

Verses

کن لفظوں میں اتنی کڑوی ، اتنی کسیلی بات لکھوں
شعر کی میں تہذیب نبھاؤں یا اپنے حالات لکھوں

غم نہیں لکھوں کیا میں غم کو، جشن لکھوں کیا ماتم کو
جو دیکھے ہیں میں نے جنازے، کیا ان کو بارات لکھوں

کیسے لکھوں میں چاند کے قصّے، کیسے لکھوں میں پھول کی بات
ریت اڑائے گرم ہوا تو کیسے میں برسات لکھوں

اپنی اپنی تاریکی کو لوگ اجالا کہتے ہیں
تاریکی کے نام لکھوں تو قومیں ، فرقے، ذات لکھوں

جانے یہ کیسا دور ہے، جس میں یہ جرات بھی مشکل ہے
دن ہو اگر تو اس کو لکھوں دن، رات اگر ہو رات لکھوں

شہر کے دکاں دارو! کاروبارِ الفت میں سود کیا، زیاں کیا ھے، تم نہ جان پاؤ گے

Verses

شہر کے دکاں دارو! کاروبارِ الفت میں سود کیا، زیاں کیا ھے، تم نہ جان پاؤ گے
دل کے دام کتنے ہیں، خواب کتنے مہنگے ہیں اور نقد جاں کیا ھے، تم نہ جان پاؤ گے

کوئی کیسے ملتا ھے،پھول کیسے کھلتا ھے،آنکھ کیسے جھکتی ھے،سانس کیسے رکتی ھے
کیسے راہ نکلتی ھے، کیسے بات چلتی ھے، شوق کی زباں کیا ھے، تم نہ جان پاؤ گے

وصل کا سکوں کیاھے،ھجر کا جنوں کیاھے،حسن کا فسوں کیاھے،عشق کے درُوں کیا ھے
تم مریض دانائی، مصلحت کے شیدائی، راہ گمرہاں کیا ھے، تم نہ جان پاؤ گے

زخم کیسے پھلتے ہیں، داغ کیسے جلتے ہیں، درد کیسے ہوتا ھے، کوئی کیسے روتا ھے
اشک کیا ھے نالے کیا دشت کیا ھے چھالے کیا، آہ کیا فغاں کیا ھے تم نہ جان پاؤ گے

نامراد دل کیسے صبح و شام کرتے ہیں، کیسے زندہ رہتے ہیں اور کیسے مرتے ہیں
تم کو کب نظر آئی غم زدوں کی تنہائی، زیست بے اماں کیا ھے تم نہ جان پاؤ گے

جانتا ھوں میں تم کو ذوق شاعری بھی ھے، شخصیت سجانے میں اک یہ ماہری بھی ھے
پھر بھی حرف چنتے ھو صرف لفظ سنتے ھو، ان کے درمیاں کیا تم نہ جان پاؤ گے

دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ

Verses

دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ
جو ہوتا ہے سہہ لیتے ہیں، کیسے ہیں بےچارے لوگ

جیون جیون ہم نے جگ میں کھیل یہی ہوتے دیکھا
دھیرے دھیرے جیتی دنیا، دھیرے دھیرے ہارے لوگ

وقت سنگھاسن پر بیٹھا ہے، اپنے راگ سناتا ہے
سنگت دینے کو پاتے ہیں سانسوں کے اکتارے لوگ

نیکی اک دن کام آتی ہے، ہم کو کیا سمجھاتے ہو
ہم نے بےبس مرتے دیکھے ،کیسے کیسے پیارے لوگ

اس نگری میں کیوں ملتی ہے روٹی سپنوں کے بدلے
جن کی نگری ہے وہ جانیں، ہم ٹھہرے بنجارے لوگ

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer