جاوید اختر

ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی

Verses

ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی
قدم رکھا کہ منزل راستہ تھی

کبھی جو خواب تھا وہ پا لیا ہے
مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی

جسے چھو لوں میں وہ ہو جائے سونا
تجھے دیکھا تو جانا بددعا تھی

محبت مر گئی مجھ کو بھی غم ہے
میرے اچھے دنوں کی آشنا تھی

میں بچپن میں کھلونے توڑتا تھا
میرے انجام کی وہ ابتداء تھی

مریضِ خواب کو تو اب شفا ہے
مگر دنیا بڑی کڑوی دوا تھی

بچھڑ کر ڈار سے بن بن پھرا وہ
ہرن کو اپنی کستوری سزا تھی

مثال اس کی کہاں ہے زمانے میں

Verses

مثال اس کی کہاں ہے زمانے میں
کہ سارے کھونے کے غم پائے ہم نے پانے میں

وہ شکل پگھلی تو ہر شے میں ڈھل گئی جیسے
عجیب بات ہوئی ہے اسے بھلانے میں

جو منتظر نہ ملا وہ تو ہم ہیں شرمندہ
کہ ہم نے دیر لگا دی پلٹ کے آنے میں

لطیف تھا وہ تخیل سے خواب سے نازک
گنوا دیا ہم نے ہی اسے آزمانے میں

سمجھ لیا تھا کبھی ایک سراب کو دریا
پر ایک سکون تھا ہم کو فریب کھانے میں

جُھکا درخت ہوا سے تو آندھیوں نے کہا
زیادہ فرق نہیں جھک کے ٹوٹ جانے میں

سُوکھی ٹہنی ، تنہا چڑیا ، پھیکا چاند

Verses

سُوکھی ٹہنی ، تنہا چڑیا ، پھیکا چاند
آنکھوں کے صحرا میں ایک نمی کا چاند

اس ماتھے کو چُومے کتنے دن بِیتے
جس ماتھے کی خاطر تھا اک ٹیِکا چاند

پہلے تو لگتی تھی کتنی بے گانہ
کتنا مبہم ہوتا ہے پہلی کا چاند

کم ہو کیسے ان خوشیوں سے تیرا غم
لہروں میں کب بہتا ہے ندّی کا چاند

آؤ اب ہم اس کے بھی ٹکڑے کر لیں
ڈھاکہ، راولپنڈی اور دِلّی کا چاند

جاتے جاتے وہ مجھے اچھی نشانی دے گیا

Verses

جاتے جاتے وہ مجھے اچھی نشانی دے گیا
عمر بھر دہراؤں گا ایسی کہانی دے گیا

اس سے میں کچھ پا سکوں ایسی کہاں امید تھی
غم بھی وہ شاید برائے مہربانی دے گیا

سب ہوائیں لے گیا میرے سمندر کی کوئی
اور مجھ کو ایک کشتی بادبانی دے گیا

خیر میں پیاسا رہا پر اس نے اتنا تو کیا
میری پلکوں کی قطاروں کو وہ پانی دے گیا

ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے

Verses

ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے
صرف دل کی گلی میں کھیلے تھے

اک طرف مورچے تھے پلکوں کے
اک طرف آنسوؤں کے ریلے تھے

تھیں سجی حسرتیں دُکانوں پر
زندگی کے عجیب میلے تھے

خود کشی کیا دُکھوں کا حَل بَنتی
موت کے اپنے سو جھمیلے تھے

ذہن و دل آج بُھوکے مرتے ہیں
اُن دنوں ہم نے فاقے جھیلے تھے

میری زندگی میری منزلیں، مجھے قُرب میں نہیں دُور دے

Verses

میری زندگی میری منزلیں، مجھے قُرب میں نہیں دُور دے
مجھے تو دکھا وہی راستہ، جو سفر کے بعد غرور دے

وہی جذبہ دے جو شدید ہو، ہو خوشی تو جیسے کہ عید ہو
کبھی غم ملے تو بلا کا ہو، مجھے وہ بھی ایک سرور دے

تو غلط نہ سمجھے تو میں کہوں، تیرا شکریہ کر دیا سکوں
جو بڑھے تو بڑھ کے بنے جنوں، مجھے وہ خلش بھی ضرور دے

مجھے تو نے کی ہے عطا زباں، مجھے غم سنانے کا غم کہاں
رہے ان کہی میری داستاں، مجھے نظق پر وہ عبور دے

یہ جو زلف تیری الجھ گئی، وہ جو تھی کبھی تیری دھج گئی
میں تجھے سنواروں گا زندگی، میرے ہاتھ میں یہ امور دے

وہی حالات ابتداء سے رہے

Verses

وہی حالات ابتداء سے رہے
لوگ ہم سے خفا خفا سے رہے

بے وفا تم بھی نہ تھے لیکن
یہ بھی سچ ہے کہ بے وفا سے رہے

ان چراغوں میں تیل ہی کم تھا
کیوں گلے پھر ہمیں ہوا سے رہے

بحث ، شطرنج ، شعر ، موسیقی
تم نہیں رہے تو یہ دلاسے رہے

اس کے بندوں کو دیکھ کر کہیے
ہم کو امید کیا خدا سے رہے

زندگی کی شراب مانگتے ہو
ہم کو دیکھو کہ پی کے پیاسے رہے

ہم سے دلچسپ کبھی سچّے نہیں ہوتے ہیں

Verses

ہم سے دلچسپ کبھی سچّے نہیں ہوتے ہیں
اچّھے لگتے ہیں مگر اچّھے نہیں ہوتے ہیں

چاند میں بُڑھیا، بزرگوں میں خدا کو دیکھیں
بھولے اب اتنے تو یہ بچّے نہیں ہوتے ہیں

کوئی یاد آئے ہمیں کوئی ہمیں یاد کرے
اور سب ہوتا ہے یہ قصّے نہیں ہوتے ہیں

کوئی منزل ہو بہت دُور ہی ہوتی ہے مگر
راستے واپسی کے لمبے نہیں ہوتے ہیں

آج تاریخ تو دہراتی ہے خود کو لیکن
اس میں بہتر جو تھے وہ حصّے نہیں ہوتے ہیں
ِ

غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے

Verses

غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے
دنیا میں ہر شے کی قیمت ہوتی ہے

اکثر وہ کہتے ہیں وہ بس میرے ہیں
اکثر کیوں کہتے ہیں حیرت ہوتی ہے

تب ہم دونوں وقت چُرا کر لاتے تھے
اب مِلتے ہیں جب بھی فرصت ہوتی ہے

اپنی محبوبہ میں اپنی ماں دیکھیں
بِن ماں کے لڑکوں کی فِطرت ہوتی ہے

اک کشتی میں ایک ہی قدم رکھتے ہیں
کچھ لوگوں کی ایسی عادت ہوتی ہے

خواب کے گاؤں میں پَلے ہیں ہم

Verses

خواب کے گاؤں میں پَلے ہیں ہم
پانی چَھلنی میں لے چلے ہیں ہم

چھاچھ پھونکیں کہ اپنے بچپن میں
دودھ سے کِس طرح جَلے ہیں ہم

خود ہیں اپنے سفر کی دشواری
اپنے پَیروں کے آبلے ہیں ہم

تُو تو مَت کہہ ہمیں بُرا دُنیا
تُو نے ڈھالا ہے اور ڈَھلے ہیں ہم

کیوں ہیں کب تک ہیں کس کی خاطر ہیں
بڑے سنجیدہ مسئلے ہیں ہم

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer