
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو
میں تمھارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو
تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بے مرّوت ہو

کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے
جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے
میں سکون پا سکوں گا یہ گماں بھی کیوں کیا تھا
ہے یہی ملال کیا کم کہ ملال اب نہیں ہے

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ پیماں
بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں

ہم کہاں اور تم کہاں ، جاناں
ہیں کئی ہجر درمیاں ، جاناں
رائیگاں وصل میں بھی وقت ہوا
پر ہوا خوب رائیگاں ، جاناں
میرے اندر ہی تو کہیں گم ہے
کس سے پوچھوں تیرا نشاں ، جاناں

جب تری جان ہو گئی ہو گی
جان حیران ہو گئی ہوگی
شب تھا میری نگاہ کا بوجھ اس پر
وہ تو ہلکان ہو گئی ہوگی
اس کی خاطر ہوا میں خار بہت
وہ میری آن ہو گئی ہو گی
ہو کے دشوار زندگی اپنی
اتنی آسان ہو گئی ہوگی
بے گلہ ہوں میں اب بہت دن سے
وہ پریشان ہو گئی ہوگی
اک حویلی تھی دل محلے میں
اب وہ ویران ہو گئی ہوگی
اس کے کوچے میں آئی تھی شیریں
اس کی دربان ہو گئی ہوگی
کمسنی میں بہت شریر تھی وہ
اب تو شیطان ہو گئی ہوگی

ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں
بس لکھے جاؤں ، بس لکھے جاؤں
ہجر کی تیرگی میں روک کے سانس
روشنی کے برس لکھے جاؤں
اُن بسی بستیوں کا سارا لکھا
ڈھول کے پیش و نظر پس لکھے جاؤں
مجھ ہوس ناک سے ہے شرط کہ میں
بے حسی کی ہوس لکھے جاؤں
ہے جہاں تک خیال کی پرواز
میں وہاں تک قفس لکھے جاؤں
ہیں خس و خارِ دید ، رنگ کے رنگ
رنگ پر خارو خس لکھے جاؤں

تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں
اپنے جھوٹے دکھ سے تم کو کب تک دکھ پہنچاؤں گا
تم تو وفا میں سرگرداں ہو، شوق میں رقصاں رہتی ہو
مجھ کو زوالِ شوق کا غم ہے، میں پاگل ہو جاؤں گا
جیت کے مجھ کو خوش مت ہونا، میں تو اک پچھتاوا ہوں
کھوؤں گا ، کڑھتا رہوں گا ، پاؤں گا ، پچھتاؤں گا
عہدِ رفاقت ٹھیک ہے لیکن مجھ کو ایسا لگتا ہے
تم میرے ساتھ رہو گی میں تنہا رہ جاؤں گا
شام کو اکثر بیٹھے بیٹھے دل کچھ ڈوبنے لگتا ہے
تم مجھ کو اتنا نہ چاہو میں شاید مر جاؤں گا
عشق کسی منزل میں آ کر اتنا بھی بے فکر نہ رہو
اب بستر پر لیٹوں گا میں لیٹتے ہی سو جاؤں گا

دل کو اک بات کہہ سنانی ہے
ساری دنیا فقط کہانی ہے
تو میری جان داستان تھا کبھی
اب تیرا نام داستانی ہے
سہہ چکے زخمِ التفات تیرا
اب تیری یاد آزمانی ہے
اک طرف دل ہے، اک طرف دۃنیا
یہ کہانی بہت پرانی ہے
تھا سوال اُن کی اُداس آنکھوں کا
زندگی کیا نہیں گنوانی ہے
کیا بتاؤں میں اپنے پاسِ انا
میں نے ہنس ہنس کر ہار مانی ہے
ہوس انگیز ہے بدن میرا
ہائے میری ہوس کہ فانی ہے
زندگی کس طرح سے گزاروں میں
مجھ کو روزی نہیں کمانی ہے