Jaun Elia

جون ایلیا
Lubna's picture

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو

میں ‌تمھارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو

تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بے مرّوت ہو

No votes yet
Lubna's picture

کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے

کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے
جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے

میں سکون پا سکوں گا یہ گماں بھی کیوں کیا تھا
ہے یہی ملال کیا کم کہ ملال اب نہیں ہے

No votes yet
Lubna's picture

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو

تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ پیماں
بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو

تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں

No votes yet
Lubna's picture

ہم کہاں اور تم کہاں ، جاناں‌

ہم کہاں اور تم کہاں ، جاناں‌
ہیں کئی ہجر درمیاں ، جاناں

رائیگاں وصل میں بھی وقت ہوا
پر ہوا خوب رائیگاں ، جاناں

میرے اندر ہی تو کہیں گم ہے
کس سے پوچھوں تیرا نشاں ، جاناں

No votes yet
IN Khan's picture

جب تری جان ہو گئی ہو گی

جب تری جان ہو گئی ہو گی
جان حیران ہو گئی ہوگی

شب تھا میری نگاہ کا بوجھ اس پر
وہ تو ہلکان ہو گئی ہوگی

اس کی خاطر ہوا میں خار بہت
وہ میری آن ہو گئی ہو گی

ہو کے دشوار زندگی اپنی
اتنی آسان ہو گئی ہوگی

بے گلہ ہوں میں اب بہت دن سے
وہ پریشان ہو گئی ہوگی

اک حویلی تھی دل محلے میں
اب وہ ویران ہو گئی ہوگی

اس کے کوچے میں آئی تھی شیریں
اس کی دربان ہو گئی ہوگی

کمسنی میں بہت شریر تھی وہ
اب تو شیطان ہو گئی ہوگی

No votes yet
IN Khan's picture

ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں

ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں
بس لکھے جاؤں ، بس لکھے جاؤں

ہجر کی تیرگی میں روک کے سانس
روشنی کے برس لکھے جاؤں

اُن بسی بستیوں کا سارا لکھا
ڈھول کے پیش و نظر پس لکھے جاؤں

مجھ ہوس ناک سے ہے شرط کہ میں
بے حسی کی ہوس لکھے جاؤں

ہے جہاں تک خیال کی پرواز
میں وہاں تک قفس لکھے جاؤں

ہیں خس و خارِ دید ، رنگ کے رنگ
رنگ پر خارو خس لکھے جاؤں

No votes yet
IN Khan's picture

تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں

تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں
اپنے جھوٹے دکھ سے تم کو کب تک دکھ پہنچاؤں گا

تم تو وفا میں سرگرداں ہو، شوق میں رقصاں رہتی ہو
مجھ کو زوالِ شوق کا غم ہے، میں پاگل ہو جاؤں گا

جیت کے مجھ کو خوش مت ہونا، میں تو اک پچھتاوا ہوں
کھوؤں گا ، کڑھتا رہوں گا ، پاؤں گا ، پچھتاؤں گا

عہدِ رفاقت ٹھیک ہے لیکن مجھ کو ایسا لگتا ہے
تم میرے ساتھ رہو گی میں تنہا رہ جاؤں گا

شام کو اکثر بیٹھے بیٹھے دل کچھ ڈوبنے لگتا ہے
تم مجھ کو اتنا نہ چاہو میں شاید مر جاؤں گا

عشق کسی منزل میں آ کر اتنا بھی بے فکر نہ رہو
اب بستر پر لیٹوں گا میں لیٹتے ہی سو جاؤں گا

No votes yet
IN Khan's picture

دل کو اک بات کہہ سنانی ہے

دل کو اک بات کہہ سنانی ہے
ساری دنیا فقط کہانی ہے

تو میری جان داستان تھا کبھی
اب تیرا نام داستانی ہے

سہہ چکے زخمِ التفات تیرا
اب تیری یاد آزمانی ہے

اک طرف دل ہے، اک طرف دۃنیا
یہ کہانی بہت پرانی ہے

تھا سوال اُن کی اُداس آنکھوں کا
زندگی کیا نہیں گنوانی ہے

کیا بتاؤں میں اپنے پاسِ انا
میں نے ہنس ہنس کر ہار مانی ہے

ہوس انگیز ہے بدن میرا
ہائے میری ہوس کہ فانی ہے

زندگی کس طرح سے گزاروں میں
مجھ کو روزی نہیں کمانی ہے

No votes yet
Syndicate content