جون ایلیا

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو

Verses

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو

میں ‌تمھارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو

تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بے مرّوت ہو

تم ہو پہلو میں ‌پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو

تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی
کیسے انگڑائی سے شکایت ہو

کس طرح چھوڑ دوں‌ تمھیں ‌جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو

کس لیے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو

داستاں‌ ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو

کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے

Verses

کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے
جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے

میں سکون پا سکوں گا یہ گماں بھی کیوں کیا تھا
ہے یہی ملال کیا کم کہ ملال اب نہیں ہے

نہ رہے اب اس کے دل میں خلشِ شکستِ وعدہ
کہ یہاں کوئی حسابِ مہ و سال اب نہیں ہے

یہ دیارِ دید کیا ہے گئے دشتِ دل سے بھی ہم
کہ ختن زمین میں بھی وہ غزال اب نہیں ہے

جو لیے لیے پھری ہے تجھے روز اک نگر میں
مرے دل ترے نگر میں وہ مثال اب نہیں ہے

لبِ پُر سوال لے کے ہمیں کُو بہ کُو ہے پھِرنا
ہو کوئی جواب بر لب یہ سوال اب نہیں ہے

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو

Verses

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو

تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ پیماں
بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو

تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں
کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو

کسے ہے خواہشِ مرہم گری مگر پھر بھی
میں اپنے زخم دکھا لوں اگر اجازت ہو

تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ابھی
کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو

ہم کہاں اور تم کہاں ، جاناں‌

Verses

ہم کہاں اور تم کہاں ، جاناں‌
ہیں کئی ہجر درمیاں ، جاناں

رائیگاں وصل میں بھی وقت ہوا
پر ہوا خوب رائیگاں ، جاناں

میرے اندر ہی تو کہیں گم ہے
کس سے پوچھوں تیرا نشاں ، جاناں

عالم بیکران رنگ ہے تو
تجھ میں ٹھہروں کہاں کہاں ، جاناں

روشنی بھر گئی نگاہوں میں
ہو گئے خواب بے اماں ، جاناں

اب بھی جھیلوں میں عکس پڑتے ہیں
اب بھی نیلا ہے آسماں ، جاناں

ہے جو پرخوں تمہارا عکس خیال
زخم آئے کہاں کہاں ، جاناں

جب تری جان ہو گئی ہو گی

Verses

جب تری جان ہو گئی ہو گی
جان حیران ہو گئی ہوگی

شب تھا میری نگاہ کا بوجھ اس پر
وہ تو ہلکان ہو گئی ہوگی

اس کی خاطر ہوا میں خار بہت
وہ میری آن ہو گئی ہو گی

ہو کے دشوار زندگی اپنی
اتنی آسان ہو گئی ہوگی

بے گلہ ہوں میں اب بہت دن سے
وہ پریشان ہو گئی ہوگی

اک حویلی تھی دل محلے میں
اب وہ ویران ہو گئی ہوگی

اس کے کوچے میں آئی تھی شیریں
اس کی دربان ہو گئی ہوگی

کمسنی میں بہت شریر تھی وہ
اب تو شیطان ہو گئی ہوگی

ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں

Verses

ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں
بس لکھے جاؤں ، بس لکھے جاؤں

ہجر کی تیرگی میں روک کے سانس
روشنی کے برس لکھے جاؤں

اُن بسی بستیوں کا سارا لکھا
ڈھول کے پیش و نظر پس لکھے جاؤں

مجھ ہوس ناک سے ہے شرط کہ میں
بے حسی کی ہوس لکھے جاؤں

ہے جہاں تک خیال کی پرواز
میں وہاں تک قفس لکھے جاؤں

ہیں خس و خارِ دید ، رنگ کے رنگ
رنگ پر خارو خس لکھے جاؤں

تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں

Verses

تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں
اپنے جھوٹے دکھ سے تم کو کب تک دکھ پہنچاؤں گا

تم تو وفا میں سرگرداں ہو، شوق میں رقصاں رہتی ہو
مجھ کو زوالِ شوق کا غم ہے، میں پاگل ہو جاؤں گا

جیت کے مجھ کو خوش مت ہونا، میں تو اک پچھتاوا ہوں
کھوؤں گا ، کڑھتا رہوں گا ، پاؤں گا ، پچھتاؤں گا

عہدِ رفاقت ٹھیک ہے لیکن مجھ کو ایسا لگتا ہے
تم میرے ساتھ رہو گی میں تنہا رہ جاؤں گا

شام کو اکثر بیٹھے بیٹھے دل کچھ ڈوبنے لگتا ہے
تم مجھ کو اتنا نہ چاہو میں شاید مر جاؤں گا

عشق کسی منزل میں آ کر اتنا بھی بے فکر نہ رہو
اب بستر پر لیٹوں گا میں لیٹتے ہی سو جاؤں گا

دل کو اک بات کہہ سنانی ہے

Verses

دل کو اک بات کہہ سنانی ہے
ساری دنیا فقط کہانی ہے

تو میری جان داستان تھا کبھی
اب تیرا نام داستانی ہے

سہہ چکے زخمِ التفات تیرا
اب تیری یاد آزمانی ہے

اک طرف دل ہے، اک طرف دۃنیا
یہ کہانی بہت پرانی ہے

تھا سوال اُن کی اُداس آنکھوں کا
زندگی کیا نہیں گنوانی ہے

کیا بتاؤں میں اپنے پاسِ انا
میں نے ہنس ہنس کر ہار مانی ہے

ہوس انگیز ہے بدن میرا
ہائے میری ہوس کہ فانی ہے

زندگی کس طرح سے گزاروں میں
مجھ کو روزی نہیں کمانی ہے

بے یک نگاہ بے شوق بھی، اندازہ ہے، سو ہے

Verses

بے یک نگاہ بے شوق بھی، اندازہ ہے، سو ہے
با صد ہزار رنگ، وہ بے غازہ ہے، سو ہے

ہوں شامِ حال یک طرفہ کا امیدِ مست
دستک؟ سو وہ نہیں ہے، پہ دروازہ ہے، سو ہے

آواز ہوں جو ہجرِ سماعت میں ہے سکوت
پر اس سکوت پر بھی اک آوازہ ہے، سو ہے

اک حالتِ جمال پر جاں وارنے کو ہوں
صد حالتی میری، میری طنازہ ہے، سو ہے

شوقِ یقیں گزیدہ ہے اب تک یقیں میرا
یہ بھی کسی گمان کا خمیازہ ہے، سو ہے

تھی یک نگاہِ شوق میری تازگی رُبا
اپنے گماں میں اب بھی کوئی تازہ ہے، سو ہے

بیمار پڑوں تو پوچھیو مت

Verses

بیمار پڑوں تو پوچھیو مت
دل خون کروں تو پوچھیو مت

میں شدتِ غم سے حال اپنا
کہہ بھی نہ سکوں تو پوچھیو مت

ڈر ہے مجھے جنون نہ ہو جائے
ہو جائے جنوں تو پوچھیو مت

میں شدتِ غم سے عاجز آ کر
ہنسنے لگوں تو پوچھیو مت

آتے ہی تمھارے پاس اگر میں
جانے بھی لگوں تو پوچھیو مت

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer