لہو میں زہر ملانے کی کیا ضرورت تھی

Verses

لہو میں زہر ملانے کی کیا ضرورت تھی
لگا کے آگ بجھانے کی کیا ضرورت تھی

اے سرِ راہِ گزر چھوڑ کے جانے والے
اِس قدر ٹوٹ کے چاہنے کی کیا ضرورت تھی

میں روشنی میں تمہیں دیکھنے کا شائق تھا
شبِ دیجور میں آنے کی کیا ضرورت تھی

ہیرے موتی تو سمندر میں بھلے لگتے ہیں!
اَشک آنکھوں سے گرانے کی کیا ضرورت تھی

مجھ کو صحرا کی رنگینی ہی بہت تھی صاحب
درد کے پھول کھلانے کی کیا ضرورت تھی

شعاع عشق میں چلنے کے فن سے واقف ہوں
بجھے چراغ جلانے کی کیا ضرورت تھی

فصیلِ شہر پہ عامی اُسی نے لکھا ہے!
حروفِ عشق مٹانے کی کیا ضرورت تھی

میں نہ دیکھ پایا خوشی کوئی، ملا غم سدا مجھے بھول جا

Verses

میں نہ دیکھ پایا خوشی کوئی، ملا غم سدا مجھے بھول جا
ترے راستے، مرے راستے، ہیں جدا جدا مجھے بھول جا

مجھے ترے حسن و جمال سے تھی غرض نہ ترے وصال سے
تری سادگی پہ ہُوا فدا، تھی مری خطا، مجھے بھول جا

تُو ہی میرے دل کا سکون تھا، مری زندگی کا سُرور تھا
تُو مکر گیا، تجھے یاد کچھ بھی نہیں رہا، مجھے بھول جا

ترے پاس دولتِ دل کشی، مرے پاس دولتِ سادگی
مری بے بسی پہ نہ مسکرا، مجھے بھول جا، مجھے بھول جا

یہ بھی تو ہے آج تری عطا، میں جو در بدر ہوں بھٹک رہا
نہ میں اپنے آپ کو مل سکا، نہ ترا رہا مجھے بھول جا

مری ہر خوشی ترے نام تھی، تُو مرے لبوں کا ہی جام تھی
یہ زہر بھی عامی نے پی لیا، تمہی نے دیا مجھے بھول جا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer