افتخار راغب

بات کہنی تھی ایک بر موقع

Verses

بات کہنی تھی ایک بر موقع
وقت نے کب دیا مگر موقع

تم بہت سوچنے کے عادی ہو
تم گنواتے رہوگے ہر موقع

دل کی اک ایک بات رکھ دوں گا
مل گیا اب مجھے اگر موقع

جانے کب ہاتھ سے نکل جائے
زندگی کا یہ مختصر موقع

موسمِ ہجر میں برسنے کو
کم نہیں تم کو چشمِ تر موقع

تم نے تاخیر کردی آنے میں
اب کہاں میرے چارہ گر موقع

لگ رہا ہے کہ مل نہ پائے گا
تم سے ملنے کا عمر بھر موقع

روز فتنہ کوئی اٹھانے کا
ڈھونڈ لیتے ہیں فتنہ گر موقع

اہل دانش بھی اب کہاں راغب
بات کرتے ہیں دیکھ کر موقع

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer