حمیرا راحت

بچھڑتے وقت بھی رویا نہیں ہے

Verses

بچھڑتے وقت بھی رویا نہیں ہے
یہ دل اب ناسمجھ بچہ نہیں ہے

میں ایسے راستے پہ چل رہی ہوں
جو منزل کی طرف جاتا نہیں ہے

محبت کی عدیم الفرصتی میں
اسے چاہا مگر سوچا نہیں‌ہے

لبوں پر مسکراہٹ بن کے چمکا
جو آنسو آنکھ سے ٹپکا نہیں ہے

جب آئینہ تھا تب چہرہ نہیں تھا
ہے اب چہرہ تو آئینہ نہیں‌ ہے

میں ایسے سانحے پر رو رہی ہوں
ابھی جو آنکھ نے دیکھا نہیں ہے

جو شہرِ عشق کا باسی ہے راحت
وہ تنہا ہو کے بھی تنہا نہیں‌ ہے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer