رُوح گھائل ہو گئی اور جسم بھی شل ہو گیا

Verses

رُوح گھائل ہو گئی اور جسم بھی شل ہو گیا
دائرہ میری مسافت کا مکمل ہو گیا

کون جانے، عقل کی اُس تک رسائی ہی نہیں
لوگ "دیوانے" کو سمجھے ہیں کہ پاگل ہو گیا

وہ وداع ِ وصل کا لمحہ بھی کیا لمحہ تھا جو
پھیل کر جُگ میں ڈھلا، سمٹا تو اک پل ہو گیا

زندگی کے دام لگتے ہیں سر ِ بازار ِ موت
ہنستا بستا شہر مثل ِ صحن ِ مقتل ہو گیا

دید کا درباز تھا، سویا رہا وہ بد نصیب
آنکھ جب کھولی تو دروازہ مُقفل ہو گیا

موت کا احسان مر کر بھی نہ حیدر بھولنا
زیست ہی کا مسئلہ تھا، آج وہ حل ہو گیا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer