حبیب جالب

وطن کو کچھ نہیں خطرہ، نظامِ زر ہے خطرے میں

Verses

وطن کو کچھ نہیں خطرہ، نظامِ زر ہے خطرے میں
حقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں

جو بیٹھا ہے صفِ ماتم بچھائے مرگِ ظلمت پر
وہ نوحہ گر ہے خطرے میں، وہ دانشور ہے خطرے میں

اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہے
نہ تیرا گھر ہے خطرے میں، نہ میرا گھر ہے خطرے میں

جہاں اقبال بھی نذرِ خطِ تنسیخ ہو جالب
وہاں تجھ کو شکایت ہے، تیرا جوہر ہے خطرے میں

یہ اُجڑے باغ ویرانے پرانے

Verses

یہ اُجڑے باغ ویرانے پرانے
سناتے ہیں کچھ افسانے پرانے

اک آہِ سرد بن کر رہ گئے ہیں
وہ بیتے دن وہ یارانے پرانے

جنوں کا ایک ہی عالم ہو کیونکر
نئی ہے شمع پروانے پرانے

نئی منزل کی دُشواری مسلّم
مگر ہم بھی ہیں دیوانے پرانے

ملے گا پیار غیروں ہی میں جالب
کہ اپنے تو ہیں بیگانے پرانے

شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں

Verses

شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں
زندگی ڈھل گئی مشینوں میں

پیار کی روشنی نہیں ملتی
ان مکانوں میں ان مکینوں میں

دیکھ کر دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ
سانپ ہوتے ہیں آستینوں میں

قہر کی آنکھ سے نہ دیکھ ان کو
دل دھڑکتے ہیں آبگینوں میں

آسمانوں کی خیر ہو یا رب
اک نیا عزم ہے زمینوں میں

وہ محبت نہیں رہی جالب
ہم سفیروں میں ہم نشینوں میں

اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا

Verses

اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
مجھ کو انسان سے اوتار کیا

دشتِ غربت میں دلِ ویراں نے
یاد جمنا کو کئی بار کیا

پیار کی بات نہ پوچھو یارو
ہم نے کس کس سے نہیں پیار کیا

کتنی خوابیدہ تمناؤں کو
اس کی آواز نے بیدار کیا

ہم پجاری ہیں بتوں کے جالب
ہم نے کعبے میں بھی اقرار کیا

عشق میں نام کر گئے ہوں گے

Verses

عشق میں نام کر گئے ہوں گے
جو تیرے غم میں مر گئے ہوں گے

اب وہ نظریں اِدھر نہیں اُٹھتیں
ہم نظر سے اُتر گئے ہوں‌ گے

کچھ فضاؤں‌ میں انتشار سا ہے
ان کے گیسُو بکھر گئے ہوں گے

نور بکھرا ہے راہ گزاروں میں
وہ ادھر سے گزر گئے ہوں‌ گے

میکدے میں‌ کہ بزمِ جاناں تک
اور جالب کدھر گئے ہوں‌ گے

جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے

Verses

جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے
ہم نے سب کچھ کر دیکھا ہے

برگِ آوارہ کی صورت
رنگِ خشک و تر دیکھا ہے

ٹھنڈی آہیں بھرنے ولو
ٹھنڈی آہیں بھر دیکھا ہے

تیری زُلفوں کا افسانہ
رات کے ہونٹوں پر دیکھا ہے

اپنے دیوانوں کا عالم
تم نے کب آکر دیکھا ہے

انجم کی خاموش فضا میں
میں نے تمھیں اکثر دیکھا ہے

ہم نے اس بستی میں جالب
جھوٹ کا اُونچا سر دیکھا ہے

کسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیں

Verses

کسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیں
یہ وقت جیسے بھی گزرے گزار لو سائیں

وہ اس طرح سے ہیں بچھڑے کہ مل نہیں سکتے
وہ اب نہ آئیں گے ان کو صدا نہ دو سائیں

تمہیں پیام دئیے ہیں صبا کے ہاتھ بہت
تمہارے شہر میں ہیں تم جو آ سکو سائیں

نہ مال و زر کی تمنا نہ جاہ حشمت کی
ملیں گے پیار سے ہم ایسے لوگ تو سائیں

کہیں تو کس سے کہیں اور سنے تو کون سنے
گزر گئی ہے محبت میں ہم پہ جو سائیں

اکیلے جاگتے رہنے سے کچھ نہیں ہو گا
تمام خواب میں ہیں تم بھی سو رہو سائیں

نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں

Verses

نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں

کسے لگائے گلے اور کہاں کہاں ٹھہرے
ہزار غنچہ و گُل ہیں صبا کے رستے میں

خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیں
ملےہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں

کہیں سلاسلِ تسبیح کہیں زناّر
بچھے ہیں دام بہت مُدعا کے رستے میں

ابھی وہ منزلِ فکر و نظر کہاں آئی
ہے آدمی ابھی جرم و سزا کے رستے میں

ہیں آج بھی وہی دار و رسن وہی زنداں
ہر اِک نگاہِ رموز آشنا کے رستے میں

یہ نفرتوں کی فصیلیں جہالتوں کے حصار
نہ رہ سکیں گے ہماری صدا کے رستےمیں

مٹا سکے نہ کوئی سیلِ انقلاب جنہیں
وہ نقش چھوڑے ہیں ہم نے وفا کے رستے میں

زمانہ ایک سا جالب سدا نہیں رہتا
چلیں گے ہم بھی کبھی سر اُٹھا کے رستے میں

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم

Verses

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم

مدّت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے
آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم

شاید بقیدِ زیست یہ ساعت نہ آسکے
تم داستانِ شوق سنو اور سنائیں ہم

بے نور ہوچکی ہے بہت شہر کی فضا
تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم

اُس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے
جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم

دل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

Verses

دل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

بیت گیا ساون کا مہینہ،موسم نے نظریں بدلیں
لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں

ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں

جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا ،جن کے لیے بدنام ہوئے
آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا
اس آوارہ دیوانے کو جالب جالب کہتے ہیں

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer