فراق گورکھپوری

شامِ غم کچھ اس نگاہِ ناز کی باتیں کرو

Verses

شامِ غم کچھ اُس نگاہِ ناز کی باتیں کرو
بےخودی بڑھتی چلی ہے، راز کی باتیں کرو

یہ سکوتِ ناز، یہ دل کی رگوں کا ٹُوٹنا
خامشی میں کچھ شکستِ ساز کی باتیں کرو

نکہتِ زلفِ پریشاں، داستانِ شامِ غم
صبح ہونے تک اِسی انداز کی باتیں کرو

ہر رگِ دل وجد میں آتی رہے، دُکھتی رہے
یونہی اُس کے جا و بےجا ناز کی باتیں کرو

جو عدم کی جان ہے، جو ہے پیامِ زندگی
اُس سکوتِ راز، اُس آواز کی باتیں کرو

کُچھ قفس کی تیلیوں سے چِھن رہا ہے نُور سا
کُچھ فضا، کُچھ حسرتِ پرواز کی باتیں کرو

جس کی فُرقت نے پلٹ دی عشق کی کایا فراق
آج اس عیسٰی نفس دم ساز کی باتیں کرو

یہ سرمئی فضاؤں کی کچھ کِنمناہٹیں

Verses

یہ سرمئی فضاؤں کی کچھ کِنمناہٹیں
ملتی ہیں مجھ کو پچھلے پہر تیری آہٹیں

اے جسم ِنازنین ِنگار ِنظر نواز
صبح ِشب ِوصال لتری ملگجاہٹیں

پڑتی ہے آسمان ِمحبت پہ چوٹ سی
بل بے جبین ِناز تری جگمگاہٹیں

چشم ِسیہ تبسم ِپنہاں لئے ہوئے
پَو پھوٹنے سے قبل افق کی اداہٹیں

کس دیس کو سدھار گئیں اے جمال ِیار
رنگیں لبوں پہ کھیل کے کچھ مسکراہٹیں

رخسار ِتر سے تازہ ہو باغ عدن کی یاد
اور اس کی پہلی صبح کی وہ رسمساہٹیں

آزردگیء حسن بھی کس درجہ شوخ ہے
اشکوں میں تیرتی ہوئی کچھ مسکراہٹٰں

ہونے لگا ہوں خود سے قریں اے شب ِالم
میں پارہا ہوں ہجر میں کچھ اپنی آہٹیں

میری غزل کی جان سمجھنا انہیں فراق
شمع ِخیال ِیار کی یہ تھر تھراہٹیں

یہ جو قول و قرار ہے ، کیا ہے

Verses

یہ جو قول و قرار ہے ، کیا ہے
شک ہے یا اعتبار ہے، کیا ہے

جس کو کہتے ہیں ہم بہار ِچمن
برگ ہے، گل ہے، خار ہے، کیا ہے

مجھ کو سب اختیار ہے لیکن
یہ جو سب اختیار ہے، کیا ہے

آدمی اس دیار ہستی میں
اک غریب الدیار ہے، کیا ہے

کاش سمجھیں اسے اگرچہ فراق
یہی ایک بادہ خوار ہے، کیا ہے

انقلابِ جہاں کی باری ہے

Verses

انقلابِ جہاں کی باری ہے
آسمانوں پہ خوف طاری ہے

آپ سے ڈر رہی ہے یہ دُنیا
یہ بھی کن آفتوں کی ماری ہے

یہ جنازہ ہے عہد ماضی کا
وہ نئے دور کی سواری ہے

نیند آتی نہیں ستاروں کو
آج دُنیا ہی رات بھاری ہے

یوں ہی مجروح تھا یہ نظمِ جہاں
پر لگا اب کے زخم کاری ہے

سب کو کرنا ہے انقلاب اک روز
آج ہم کل تمہاری باری ہے

شوخ کتنی ہے موت کی یہ صدا
زندگی آج کس کو پیاری ہے

بات پرواں زبان کٹتی ہے
پھر بھی فسانہ جاری ہے

اب یہ دُنیا ہے اہلِ دُنیا کی
نہ ہماری نہ وہ تمہاری ہے

چمن دولت و حکومت کی
خونِ مفلس کی آبیاری ہے

یاد رکھ شورشِ زمانہ پر
عشق کی ایک بات بھاری ہے

دَورِ اصلاح ختم اب تو فراق
انقلابِ جہاں کی باری ہے

کچھ مضطرب سی عشق کی دنیا ہے آج تک

Verses

کچھ مضطرب سی عشق کی دنیا ہے آج تک
جیسے کہ حسن کو نہیں دیکھا ہے آج تک

بس اِک جھلک دکھا کے جسے تو گزر گیا
وہ چشمِ شوق محوِ تماشا ہے آج تک

یوں تو اداس غمکدہء عشق ہے مگر
اس گھر میں اِک چراغ سا جلتا ہے آج تک

جس کے خلوصِ عشق کے افسانے بن گئے
تجھ کو اُسی سے رنجشِ بے جا ہے آج تک

پرچھائیاں نشاط و الم کی ہیں درمیاں
یعنی وصال و ہجر کا پردا ہے آج تک

ویرانیاں جہان کی آباد ہوچکیں
جز اِک دیارِ عشق کہ سُونا ہے آج تک

ساری دلوں میں ہیں غمِ پنہاں کی کاوشیں
جاری کشاکشِ غم دنیا ہے آج تک

ہم بیخودانِ عشق بہت شادماں سہی
لیکن دلوں میں درد سا اُٹھتا ہے آج تک

پورا بھی ہوکے جو کبھی پورا نہ ہوسکا
تیری نگاہ کا وہ تقاضا ہے آج تک

تُو نے کبھی کیا تھا جدائی کا تذکرہ
دل کو وہی لگا ہوا کھٹکا ہے آج تک

تاعمر یہ فراق بجا دل گرفتگی
پہلو میں کیا وہ درد بھی رکھا ہے آج تک؟

سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنا بھی نہیں

Verses

سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسا بھی نہیں

یہ بھی سچ ہے کہ محبت پہ نہیں میں مجبور
یہ بھی سچ ہے کہ ترا حسن کچھ ایسا بھی نہیں

مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست
آہ اب مجھ سے تری رنجش بے جا بھی نہیں

مدتیں گزریں تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

ہائے وہ رازِ محبت جو چھپائے نہ بنے
ہائے وہ داغِ محبت جو ابھرتا بھی نہیں

آہ یہ مجمع احباب یہ بزمِ خاموشی
آج محفل میں فراقِ سخن آراء بھی نہیں

تو تھا کہ کوئی تجھ سا تھا

Verses

تو تھا کہ کوئی تجھ سا تھا
میری راہ میں کون کھڑا تھا

کون بتائے عشق میں تیرے
دکھ کتنا تھا ، سکھ کتنا تھا

کیا دھرا سب سامنے آیا
میں پہلے سے دیکھ رہا تھا

میں بھی تھا سچا، تم بھی تھے سچے
عشق میں سچ ہی کا رونا تھا

روتے روتے فراق ہجر میں
کوئی اکثر ہنس پڑتا تھا

یہی دنیا ہے اُس کی راہگزر

Verses

یہی دنیا ہے اُس کی راہگزر
آسماں آسماں تلاش نہ کر

عشق جن منزلوں میں پھرتا ہے
زندگی بھی وہیں تھی خاک بسر

کارواں ِحیات بے منزل
جانے در پیش ہے کہاں کا سفر

"یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے"
خاک ِدل میں دبی ہے آگ اگر

ہم کہاں ہیں کوئی سراغ تو دے
رکھتی ہے تیری آنکھ سب کی خبر

خانہ زاد ِحیات ہے وہ بھی
موت بھی زیست کی ہے دست نگر

یوں وہ کب مہربان ہوتا تھا
آج بیتے دنوں کی یاد نہ کر

منتظر یوں ہے کائنات فراق
اٹھنے والی ہو جیسے اس کی نظر

ترا جمال بھی ہے آج ایک جہان ِفراق

Verses

ترا جمال بھی ہے آج ایک جہان ِفراق
نگاہ لطف و کرم خود ہے ترجمان ِفراق

بتا تو کیا نگاہِ اولیں کے بعد ہوا
مجھے بھی یاد ہے کم کم وہ داستان ِفراق

امید بن کے نہ آئے دلوں کی دنیا میں
اسے سمجھ نہیں سکتے یہ بدگمان ِفراق

وہ بے قراری ء دل، وہ فضائے تنہائی
وہ سر زمین ِ محبت ، وہ آسمان ِفراق

سکون ِقرب سے کچھ بے قرار تنگ آ کر
سنا ہے ڈھونڈتے پھرتے ہیں اب امان ِفراق

خبر کچھ ان کو نہیں اب ترے تغافل کی
بس اب چین سے سوئے بلا کشان ِفراق

جو ایک برق نگہ سامنے سے کوند گئی
وہی تھی روح ِمحبت ، وہی ہے جان ِفراق

بہت پہلے سے اُن قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

Verses

بہت پہلے سے اُن قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں
نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں

طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں

خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا
اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں

جسے صورت بتاتے ہیں پتا دیتی ہے سیرت کا
عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں

تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبارِ الفت میں
ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر احسان لیتے ہیں

فراق اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر
کبھی ہم جان لیتے ہیں کبھی پہچان لیتے ہیں

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer