ارادہ کب تھا اُس کا خُود کو دریا میں ڈبونے کا

Verses

ارادہ کب تھا اُس کا خُود کو دریا میں ڈبونے کا
اُسے بس شوق تھا بہتی ندی میں ہاتھ دھونے کا

سروں کی فصل کٹتے دیکھنا اُس کی سیاست ہے
ہے اُس کا مشغلہ، صحنِ فضا میں زہر بونے کا

یہ تیرا ہی کرم ہے ورنہ کب یارا ہی تھا یا رب !
مری نازک مزاجی کو غموں کے بار ڈھونے کا

ہوا کیا گر نگاہِ خامۂ تنقید ہے بے حس
مُجھے خُود بھی نہیں احساس اب کچھ اپنے ہونے کا

مجھے کب تلخئ حالات نے موقع دیا جانم
سنہرے نرم رو الفاظ میں تجھ کو پرُونے کا

جنابِ میر بھی میری طرح مغموم تھے لیکن
مجھے موقع ہی کب ملتا ہے آذر رونے دھونے کا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer