فرحت شہزاد

نظر کے پار دیا سا جلا کے دیکھ لیا

Verses

نظر کے پار دیا سا جلا کے دیکھ لیا
تمہارے در پہ کئی بار جاکے دیکھ لیا

نئی طرح سے،نئے ڈھنگ سے ہوئے مجروح
قدم قدم پہ تمہیں آزما کے دیکھ لیا

جگر کی کرچیاں کچھ اور بھی بکھر سی گئیں
گو اپنی پلکوں سے ہم نے اٹھا کے دیکھ لیا

یہ سانحہ ہے کہ دل کی کسک رہی باقی!
گنوا کے دیکھا ہے، خود کومٹا کے دیکھ لیا

اٹک کے رہ گیا پلکوں پہ خواب ایسا تھا
ہزار طرح سے خود کو جگاکے دیکھ لیا

بگڑ تو سکتا ہے لیکن سنور نہیں سکتا
نصیب ہم نے بہت آزماکے دیکھ لیا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer