فرحت عباس شاہ

یہی سمجھ میں آیا ہے

Verses

یہی سمجھ میں آیا ہے
شہر کا شہر پرایا ہے

بستی بستی میں اس کی
ویرانہ ہمسایہ ہے

جھوٹے رشتوں ناطوں کا
برسوں بوجھ اٹھایا ہے

دل سے تم بھی کہہ دیکھو
ہم نے بھی سمجھایا ہے

کیسا دکھ ہے فرحت جی
کس نے روگ لگایا ہے

وہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا میرا دل

Verses

وہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا میرا دل
سفر نے ڈھونڈ لیا ہے رہا سہا میرا دل

کچھ اس طرح سے تعزیت کی آس میں تھا
کسی نے ہنس کے بھی دیکھا تو رو دیا میرا دل

ہے اپنی اپنی رسائی رہ محبت میں
ہے اپنا اپنا طریقہ ترا خدا میرا دل

نگر نے معجزہ مانگا تیری محبت کا
تو جھوم جھوم کے صحراؤں سے اٹھا میرا دل

کسی نے جب بھی یہ پوچھا کہ کون ہے فرحت
تو مسکرا کے ہمیشہ یہی کہا میرا دل

اب دعا، بد دعا میں فرق کہاں

Verses

اب دعا، بد دعا میں فرق کہاں
آہ میں ہی نہیں اثر باقی

اب میری روح میں ہم دونوں
ایک تو میں ہوں، ایک ڈر باقی

ایک بس چھت ہے اس کی یادوں کی
کوئی دیوار ہے نہ دَر باقی

شہر میں اَن گِنت مکان تو ہیں
کوئی گھر دار ہے نہ گھر باقی

بے چین ہوا مست بول پیا کے لہجے میں

Verses

بے چین ہوا مست بول پیا کے لہجے میں
میرا دل نہ جلا مت بول پیا کے لہجے میں

میرا کتنا ہے یقیں اس کی صدا کے شک پر بھی
کچھ خوف خدا مت بول پیا کے لہجے میں

مجھے اس کی خوشبو ہجر کے زخم پہ لگتی ہے
اے باد صبا مت بول پیا کے لہجے میں

میں پہلے ہی برباد ہوں اس دل کے ہاتھوں
مجھے غم نہ لگا مت بول پیا کے لہجے میں

دکھ بول رہا تھا بالکل اس کے لہجے میں
پھر میں نے کہا مت بول پیا کے لہجے میں

اِس قدر مل گئی غم کو جِلا

Verses

اِس قدر مل گئی غم کو جِلا
زندگی سے نہیں ہے کوئی گِلہ

دھوپ سے تھا بھرا ہوا جیون
اِک تیری چھاؤں میں سکون مِلا

بے سبب بے قرار تھا موسم
بے سبب من میں کوئی پھول کِھلا

کرنے والی تھیں تار تار یہی
آ کے جن بستیوں میں چاک سِلا

بِلبلا اٹھا صبر شدت سے
تب کہیں جا کے اک درد ہِلا

ہو گیا ہوں میں اس قدر نازک
سانس لی اور دل کا زخم پھلا

اک بار ہی چاہت کی سزا کیوں نہیں دیتے

Verses

اک بار ہی چاہت کی سزا کیوں نہیں دیتے
زندہ ہوں تو مرنے کی دعا کیوں نہیں دیتے

اک آگ جو بجھتی نہ بھڑکتی ہے زیادہ
اس آگ کو دامن کی ہوا کیوں نہیں دیتے

بچھڑے ہوئے لمحے بھی کبھی لوٹ کے آئے
بچھڑے ہوئے لمحوں کو بھلا کیوں نہیں دیتے

دریا میں پکارے چلے جاتے ہو ہمیشہ
صحراؤں میں ساون کو صدا کیوں نہیں دیتے

دیکھو نہ کئی یار بہت خوفزدہ ہیں
پل بھر کو چراغوں کو بجھا کیوں نہیں دیتے

اَن گِنت بے حساب آن بسے

Verses

اَن گِنت بے حساب آن بسے
آنکھ اُجڑی تو خواب آن بسے

دل عجب شہر ہے محبت کا
ہر گلی میں سراب آن بسے

اس سے اچھا تھا تم ہی رہ جاتے
تم گئے اور عذاب آن بسے

تیرے آنے کی رت سے پہلے ہی
کیاریوں میں گلاب آن بسے

آنکھ میں آ کے بس گئے آنسو
آنسوؤں میں سحاب آن بسے

دلوں پہ جبر کی تمام حکمتیں الٹ گئیں

Verses

دلوں پہ جبر کی تمام حکمتیں الٹ گئیں
جدائیوں میں اور بھی رفاقتیں سمٹ گئیں

تیرے دیار یاد سے گزر رہا تھا قافلہ
کہیں تو دن پلٹ گئے کہیں شبیں پلٹ گئیں

میں جس کسی محاذ پہ صفیں بدل بدل گیا
میرے مقابلے میں تیری آرزؤئیں ڈٹ گئیں

جدائیوں سے دامن خیال تو چھڑا لیا
مگر کئی اداسیاں نصیب سے چمٹ گئیں

عجیب واقعہ ہے ایک دن سکوت شہر سے
قلم بچا رہے تھے ہم کہ انگلیاں بھی کٹ گئیں

پی نہ ملن کو آئے سانول

Verses

پی نہ ملن کو آئے سانول
من پنچھی کرلائے سانول

دل محتاط طبیعت والا
بن پریتم پچھتاوے سانول

تیری آس پہ بیٹھے بیٹھے
برکھا بیت نہ جائے سانول

اندر بیٹھا ڈیرے ڈالے
گھڑی گھڑی بہکائے سانول

آگ لگا جائے اشکوں میں
پلکوں کو سلگائے سانول

بھیڑ سے سہا ہوا ہوں شاید
تنہائی بہلائے سانول

کون دلاسہ دے زخموں کو
کون انھیں سمجھائے سانول

غم آ جاتے ہیں رستے میں
دامن کو پھیلائے سانول

ہنستا رہنے والا فرحت
چھپ چھپ نیر بہائے سانول

ضائع کرتے تھے ملاقاتوں کو

Verses

ضائع کرتے تھے ملاقاتوں کو
ہم سمجھتے ہی نہ تھے باتوں کو

ان کو عادت ہے میری آنکھوں کی
کون سمجھائے گا برساتوں کو

کتنے معصوم ہیں وہ لوگ کہ جو
کچھ سمجھتے ہی نہیں راتوں کو

وہ مجھے دام میں لینے کے لیے
کام میں لایا مداراتوں کو

ہم کہاں مانتے ہیں ذاتوں کو
پاس رکھو سبھی ساداتوں کو

آستینوں پہ توجہ دے کر
تاڑ لیتا ہوں کئی گھاتوں کو

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer