
سنو، وہ جب ستاتا ہے
کہا، دل ڈوب جاتا ہے
کہا، دل ڈوبتا ہے کب؟
بتایا، جب ستاتا ہے
کہو، کب پھول کھلتے ہیں؟
کہا، جب مسکراتا ہے
دھڑکتا ہے کہو دل کب؟
کہا، جب پاس آتا ہے

کہو، وہ یار کیسا تھا؟
کہا سنسار جیسا تھا
کہو، سنسار کیسا تھا؟
کہا، اوتار جیسا تھا
کہو، اوتار کیسا تھا؟
کہا، بس پیار جیسا تھا
کہو، وہ پیار کیسا تھا؟
کہا، شہکار جیسا تھا

ساجن کو کیا بھولی صُورت بھا سکتی ہے ؟
پگلی، چاند ستاروں کو شرما سکتی ہے
سُورج سے کیا بڑھ کر پیار میں شکتی ہے ؟
پگلی، پانی میں تو آگ لگا سکتی ہے
کیوں نیندوں میں رات کو جُگنو جگمگ جاگیں

آؤ ساجن سے ملواؤں
بات ثواب کی لگتی ہے
رنگ گلابی، مہکا مہکا ؟
بات گلاب کی لگتی ہے
چال صبا سے ملتی جلتی ؟
بات شراب کی لگتی ہے
دیکھے زیادہ ، بولے کم کم ؟
بات حساب کی لگتی ہے

بنیاد ہل گئی تو مکاں بن کے مٹ گیا
اس بار بھی یقین گماں بن کے مٹ گیا
تعبیر راکھ بن کے اڑی آنکھ میں سدا
جو خواب تھا وہ پل میں دھواں بن کے مٹ گیا
بازی پھر اب کی بار مقدر نے جیت لی
پھر چاہتوں کا ایک جہاں بن کے مٹ گیا
اک دائمی کسک سی جگر میں اتر گئی
اور زخم سرمئی سا نشاں بن کے مٹ گیا
ہے لازوال کربِ مسلسل کا نام ہجر
اور یہ وصال آہ و فغاں بن کے مٹ گیا
بکھری ہوئی ہیں چاروں طرف دل کی کرچیاں
لگتا ہے ایک گھر سا یہاں بن کے مٹ گیا
جذبہ بنا گلاب تو قائم رہا بتول
جوں ہی بنا یہ تیرکماں، بن کے مٹ گیا

وہ زود رنج منانے بھی تو نہیں دیتا
جو دل پہ گزری، بتانے بھی تو نہیں دیتا
گو اس نے خار بچھائے نہیں ہیں رستے میں
مگر وہ اُن کو ہٹانے بھی تو نہیں دیتا
یہ زخم اُس نے لگائے نہیں مگر سوچو
وہ ان کے داغ مٹانے بھی تو نہیں دیتا
دھیان اُس کا ہٹے بھی تو کس طرح سے ہٹے
وہ اپنی یاد بُھلانے بھی تو نہیں دیتا
پیام آئے کبھی اُس کا یہ نہیں ممکن
دل اۃس کے شہر کو جانے بھی تو نہیں دیتا
وہ تیرگی کا مخالف بنا تو ہے لیکن
چراغ گھر میں جلانے بھی تو نہیں دیتا
اُسی کی ذات کا ہر پل طواف کرتے ہیں
دل ہم کو اور ٹھکانے بھی تو نہیں دیتا
جو ہم پہ شرک کے فتوے لگا رہا ہے بتول!
وہ در سے سر کو اٹھانے بھی تو نہیں دیتا

وہ نیلا سائبان کہیں پیچھے رہ گیا
لگتا ہے آسمان کہیں پیچھے رہ گیا
موجوں میں ڈوبتی ہوئی کشتی کا رقص دیکھ
کاغذ کا بادبان کہیں پیچھے رہ گیا
آگے غبارِ راہ کے سوا اور کچھ نہیں
منزل کا وہ نشان کہیں پیچھے رہ گیا
پنچھی قفس میں سو گیا پل بھر کے واسطے
تم کو ہوا گمان ، کہیں پیچھے رہ گیا
مچھلی تڑپ کے رہ گئی بے آب ، فرش پر
شیشے کا مرتبان کہیں پیچھے رہ گیا
جس پر ہمارے نام کی تختی لگی تھی کل
لگتا ہے وہ مکان کہیں پیچھے رہ گیا
اور اب کی بار ہم نے بھی سورج کو لکھ دیا
بادل تھا بدگمان، کہیں پیچھے رہ گیا
حیرت کو چُھو کے دل نے دھڑکنا بھلا دیا
اور بن گیا چٹان، کہیں پیچھے رہ گیا
آگے جو قافلہ گیا، رستے میں لُٹ گیا
لگتا ہے پاسبان کہیں پیچھے رہ گیا
اب کے گلاب رُت میں بھی دیکھا نہیں گلاب
خوشبو کا ترجمان کہیں پیچھے رہ گیا
جب آنکھ کھل گئی تو خبر تب ہوئی بتول
خوابوں کا تو جہان کہیں پیچھے رہ گیا

کسی کے ساتھ چاہت ہوگئی تو کیا کرو گے تم
جفا سہنے کی عادت ہوگئی تو کیا کرو گے تم
ابھی تنہا، افق کے پار ساری رات تکتے ہو
ستاروں سے شکایت ہوگئی تو کیا کرو گے تم
ابھی چاہت گنوا دینے کی ضد تم کو ہے شدت سے
اگر پانے کی حسرت ہوگئی تو کیا کرو گے تم
ابھی تو ساحلوں پہ گھومنے سے جی بہلتا ہے
سمندر سے بھی وحشت ہوگئی تو کیا کرو گے تم
ابھی خُوشیوں کے پَر باندھے ہوئے محوِ سفر ہو تم
جو پیدا غم میں لذت ہو گئی تو کیا کرو گے تم