mohabat

Verses

Weesaal Ankahen
Shiraaz Palken krti hain kaya kamal palken
uth jayen to le leti hain jaan palken
na uthen to ajab sa entazaar palken
qatil bana diya sab ko tuney
kush to khaayl kr Allah Ke bandey..........................
Gudia khan

سنو، وہ جب ستاتا ہے

Verses

سنو، وہ جب ستاتا ہے
کہا، دل ڈوب جاتا ہے

کہا، دل ڈوبتا ہے کب؟
بتایا، جب ستاتا ہے

کہو، کب پھول کھلتے ہیں؟
کہا، جب مسکراتا ہے

دھڑکتا ہے کہو دل کب؟
کہا، جب پاس آتا ہے

کہو، دل میں ہے کیا اس کے؟
کہا، وہ کب بتاتا ہے

سنو، برہم سا ہے شاید؟
کہا، یونہی بناتا ہے

کہا، کچھ تو ہوا گا؟
کہا، وہ آزماتا ہے

بری شے عشق ہے کیونکر ؟
کہا، شب بھر جگاتا ہے

کہو، وہ بزم کیسی تھی؟
کہا، وہ کب بلاتا ہے

کہو، اس سے بچھڑنے کی؟
بچھڑنا کس کو بھاتا ہے؟

کہو، ملنے کی خواہش ہے؟
کہا، بیدرد ناتہ ہے

بتاؤ راکھ میں ہے کیا؟
ستارہ جھلملاتا ہے

لرز جاتی ہیں کب پلکیں؟
نظر وہ جب جماتا ہے

ٹھہر جاتی ہے دھڑکن کب؟
نظر سے جب گراتا ہے

کہو، وہ یار کیسا تھا؟

Verses

کہو، وہ یار کیسا تھا؟
کہا سنسار جیسا تھا

کہو، سنسار کیسا تھا؟
کہا، اوتار جیسا تھا

کہو، اوتار کیسا تھا؟
کہا، بس پیار جیسا تھا

کہو، وہ پیار کیسا تھا؟
کہا، شہکار جیسا تھا

کہو، شہکار کیسا تھا؟
کہا، فنکار جیسا تھا

کہو، فنکار کیسا تھا؟
کہا، دیدار جیسا تھا

کہو، دیدار کیسا تھا؟
کہا، اقرار جیسا تھا

کہو، اقرار کیسا تھا؟
کہا، انکار جیسا تھا

کہو، انکار کیسا تھا ؟
کہا، اِک خار جیسا تھا

کہو، وہ خار کیسا تھا؟
کہا، تلوار جیسا تھا

ساجن کو کیا بھولی صُورت بھا سکتی ہے ؟

Verses

ساجن کو کیا بھولی صُورت بھا سکتی ہے ؟
پگلی، چاند ستاروں کو شرما سکتی ہے

سُورج سے کیا بڑھ کر پیار میں شکتی ہے ؟
پگلی، پانی میں تو آگ لگا سکتی ہے

کیوں نیندوں میں رات کو جُگنو جگمگ جاگیں
پگلی، نیند کی دیوی کو سمجھا سکتی ہے

کھنک مِرے لہجے کی اتنی سُندر کیوں ؟
پگلی بارش تیرا گیت چُرا سکتی ہے

کیوں بھنورے کے جال میں کلیاں آتی جائیں؟
پگلی ، بادل سے بجلی کترا سکتی ہے

رات کے تھال میں بولو کتنے تارے دیکھے؟
پگلی ، ریت کے ذروں کو گِنوا سکتی ہے

کیوں کہتا ہے جگ سے میل نہیں ہے بہتر؟
پگلی ، لوگوں کی باتوں میں آ سکتی ہے

پریت کی نگری جانے پر پابندی کیوں ہے ؟
پگلی ، راہ کٹھن ہے تُو گھبرا سکتی ہے

سُرخ گُلاب کے بدلے اس کو کیا میں بھیجوں ؟
پگلی ، سندرتا سے کام چلا سکتی ہے

سُورج کے چہرے پر کالا بادل کیوں؟
پگلی ، مکھڑے سے تو زُلف ہٹا سکتی ہے

اب تک مَن نِردوش اسے کہتا ہے کیونکر؟
پگلی ، دھُول کو کیسے پھُول بنا سکتی ہے

آؤ ساجن سے ملواؤں

Verses

آؤ ساجن سے ملواؤں
بات ثواب کی لگتی ہے

رنگ گلابی، مہکا مہکا ؟
بات گلاب کی لگتی ہے

چال صبا سے ملتی جلتی ؟
بات شراب کی لگتی ہے

دیکھے زیادہ ، بولے کم کم ؟
بات حساب کی لگتی ہے

ہاتھ پہ رکھا ہاتھ اچانک؟
بات تو خواب کی لگتی ہے

اس کا آ کر زلف کو چھونا؟
بات سراب کی لگتی ہے

سرگوشی میں کیا پوچھا تھا؟
بات حجاب کی لگتی ہے

پل میں روٹھے پل میں مانے؟
بات “جناب”کی لگتی ہے

اس کا ہجر بتاؤ کیسا؟
بات عذاب کی لگتی ہے

آدھا چندا ، آدھا بادل ؟
بات نقاب کی لگتی ہے

تھوڑا تھوڑا سا ہرجائی؟
بات تو آپ کی لگتی ہے

فاخرہ بتول

بنیاد ہل گئی تو مکاں بن کے مٹ گیا

Verses

بنیاد ہل گئی تو مکاں بن کے مٹ گیا
اس بار بھی یقین گماں بن کے مٹ گیا

تعبیر راکھ بن کے اڑی آنکھ میں سدا
جو خواب تھا وہ پل میں دھواں بن کے مٹ گیا

بازی پھر اب کی بار مقدر نے جیت لی
پھر چاہتوں کا ایک جہاں بن کے مٹ گیا

اک دائمی کسک سی جگر میں اتر گئی
اور زخم سرمئی سا نشاں بن کے مٹ گیا

ہے لازوال کربِ مسلسل کا نام ہجر
اور یہ وصال آہ و فغاں بن کے مٹ گیا

بکھری ہوئی ہیں چاروں طرف دل کی کرچیاں
لگتا ہے ایک گھر سا یہاں بن کے مٹ گیا

جذبہ بنا گلاب تو قائم رہا بتول
جوں ہی بنا یہ تیرکماں، بن کے مٹ گیا

وہ زود رنج منانے بھی تو نہیں دیتا

Verses

وہ زود رنج منانے بھی تو نہیں دیتا
جو دل پہ گزری، بتانے بھی تو نہیں دیتا

گو اس نے خار بچھائے نہیں ہیں رستے میں
مگر وہ اُن کو ہٹانے بھی تو نہیں دیتا

یہ زخم اُس نے لگائے نہیں مگر سوچو
وہ ان کے داغ مٹانے بھی تو نہیں دیتا

دھیان اُس کا ہٹے بھی تو کس طرح سے ہٹے
وہ اپنی یاد بُھلانے بھی تو نہیں دیتا

پیام آئے کبھی اُس کا یہ نہیں ممکن
دل اۃس کے شہر کو جانے بھی تو نہیں دیتا

وہ تیرگی کا مخالف بنا تو ہے لیکن
چراغ گھر میں جلانے بھی تو نہیں دیتا

اُسی کی ذات کا ہر پل طواف کرتے ہیں
دل ہم کو اور ٹھکانے بھی تو نہیں دیتا

جو ہم پہ شرک کے فتوے لگا رہا ہے بتول!
وہ در سے سر کو اٹھانے بھی تو نہیں دیتا

وہ نیلا سائبان کہیں پیچھے رہ گیا

Verses

وہ نیلا سائبان کہیں پیچھے رہ گیا
لگتا ہے آسمان کہیں پیچھے رہ گیا

موجوں میں ڈوبتی ہوئی کشتی کا رقص دیکھ
کاغذ کا بادبان کہیں پیچھے رہ گیا

آگے غبارِ راہ کے سوا اور کچھ نہیں
منزل کا وہ نشان کہیں پیچھے رہ گیا

پنچھی قفس میں سو گیا پل بھر کے واسطے
تم کو ہوا گمان ، کہیں پیچھے رہ گیا

مچھلی تڑپ کے رہ گئی بے آب ، فرش پر
شیشے کا مرتبان کہیں پیچھے رہ گیا

جس پر ہمارے نام کی تختی لگی تھی کل
لگتا ہے وہ مکان کہیں پیچھے رہ گیا

اور اب کی بار ہم نے بھی سورج کو لکھ دیا
بادل تھا بدگمان، کہیں پیچھے رہ گیا

حیرت کو چُھو کے دل نے دھڑکنا بھلا دیا
اور بن گیا چٹان، کہیں پیچھے رہ گیا

آگے جو قافلہ گیا، رستے میں لُٹ گیا
لگتا ہے پاسبان کہیں پیچھے رہ گیا

اب کے گلاب رُت میں بھی دیکھا نہیں گلاب
خوشبو کا ترجمان کہیں پیچھے رہ گیا

جب آنکھ کھل گئی تو خبر تب ہوئی بتول
خوابوں کا تو جہان کہیں پیچھے رہ گیا

کسی کے ساتھ چاہت ہوگئی تو کیا کرو گے تم

Verses

کسی کے ساتھ چاہت ہوگئی تو کیا کرو گے تم
جفا سہنے کی عادت ہوگئی تو کیا کرو گے تم

ابھی تنہا، افق کے پار ساری رات تکتے ہو
ستاروں سے شکایت ہوگئی تو کیا کرو گے تم

ابھی چاہت گنوا دینے کی ضد تم کو ہے شدت سے
اگر پانے کی حسرت ہوگئی تو کیا کرو گے تم

ابھی تو ساحلوں پہ گھومنے سے جی بہلتا ہے
سمندر سے بھی وحشت ہوگئی تو کیا کرو گے تم

ابھی خُوشیوں کے پَر باندھے ہوئے محوِ سفر ہو تم
جو پیدا غم میں لذت ہو گئی تو کیا کرو گے تم

ابھی سے خواب جزیروں سے اتنا ڈرتے ہو

Verses

ابھی سے خواب جزیروں سے اتنا ڈرتے ہو
ابھی سے مٹھی میں پاگل ہوائیں بھرتے ہو

اس آئینے میں ہوئے گم ہزارہا چہرے
اتر کے اس میں کسے تم تلاش کرتے ہو؟

گلاب رُت کو کیا زرد تم نے آہوں سے
ہوا پہ کس لیے الزام اس کا دھرتے ہو

یہ دل تو اس سے بھی گہرا ہے جھانک لو آ کر
سمندروں میں بھلا کس لیے اترتے ہو

تم اپنے پیروں کے رستے بناؤ ہاتھوں سے
پرائی راہ سے کس واسطے گزرتے ہو

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer