Fakhira Batool

Lubna's picture

سنو، وہ جب ستاتا ہے

سنو، وہ جب ستاتا ہے
کہا، دل ڈوب جاتا ہے

کہا، دل ڈوبتا ہے کب؟
بتایا، جب ستاتا ہے

کہو، کب پھول کھلتے ہیں؟
کہا، جب مسکراتا ہے

دھڑکتا ہے کہو دل کب؟
کہا، جب پاس آتا ہے

No votes yet
Lubna's picture

کہو، وہ یار کیسا تھا؟

کہو، وہ یار کیسا تھا؟
کہا سنسار جیسا تھا

کہو، سنسار کیسا تھا؟
کہا، اوتار جیسا تھا

کہو، اوتار کیسا تھا؟
کہا، بس پیار جیسا تھا

کہو، وہ پیار کیسا تھا؟
کہا، شہکار جیسا تھا

No votes yet
Lubna's picture

ساجن کو کیا بھولی صُورت بھا سکتی ہے ؟

ساجن کو کیا بھولی صُورت بھا سکتی ہے ؟
پگلی، چاند ستاروں کو شرما سکتی ہے

سُورج سے کیا بڑھ کر پیار میں شکتی ہے ؟
پگلی، پانی میں تو آگ لگا سکتی ہے

کیوں نیندوں میں رات کو جُگنو جگمگ جاگیں

No votes yet
Lubna's picture

آؤ ساجن سے ملواؤں

آؤ ساجن سے ملواؤں
بات ثواب کی لگتی ہے

رنگ گلابی، مہکا مہکا ؟
بات گلاب کی لگتی ہے

چال صبا سے ملتی جلتی ؟
بات شراب کی لگتی ہے

دیکھے زیادہ ، بولے کم کم ؟
بات حساب کی لگتی ہے

No votes yet
IN Khan's picture

بنیاد ہل گئی تو مکاں بن کے مٹ گیا

بنیاد ہل گئی تو مکاں بن کے مٹ گیا
اس بار بھی یقین گماں بن کے مٹ گیا

تعبیر راکھ بن کے اڑی آنکھ میں سدا
جو خواب تھا وہ پل میں دھواں بن کے مٹ گیا

بازی پھر اب کی بار مقدر نے جیت لی
پھر چاہتوں کا ایک جہاں بن کے مٹ گیا

اک دائمی کسک سی جگر میں اتر گئی
اور زخم سرمئی سا نشاں بن کے مٹ گیا

ہے لازوال کربِ مسلسل کا نام ہجر
اور یہ وصال آہ و فغاں بن کے مٹ گیا

بکھری ہوئی ہیں چاروں طرف دل کی کرچیاں
لگتا ہے ایک گھر سا یہاں بن کے مٹ گیا

جذبہ بنا گلاب تو قائم رہا بتول
جوں ہی بنا یہ تیرکماں، بن کے مٹ گیا

No votes yet
IN Khan's picture

وہ زود رنج منانے بھی تو نہیں دیتا

وہ زود رنج منانے بھی تو نہیں دیتا
جو دل پہ گزری، بتانے بھی تو نہیں دیتا

گو اس نے خار بچھائے نہیں ہیں رستے میں
مگر وہ اُن کو ہٹانے بھی تو نہیں دیتا

یہ زخم اُس نے لگائے نہیں مگر سوچو
وہ ان کے داغ مٹانے بھی تو نہیں دیتا

دھیان اُس کا ہٹے بھی تو کس طرح سے ہٹے
وہ اپنی یاد بُھلانے بھی تو نہیں دیتا

پیام آئے کبھی اُس کا یہ نہیں ممکن
دل اۃس کے شہر کو جانے بھی تو نہیں دیتا

وہ تیرگی کا مخالف بنا تو ہے لیکن
چراغ گھر میں جلانے بھی تو نہیں دیتا

اُسی کی ذات کا ہر پل طواف کرتے ہیں
دل ہم کو اور ٹھکانے بھی تو نہیں دیتا

جو ہم پہ شرک کے فتوے لگا رہا ہے بتول!
وہ در سے سر کو اٹھانے بھی تو نہیں دیتا

No votes yet
IN Khan's picture

وہ نیلا سائبان کہیں پیچھے رہ گیا

وہ نیلا سائبان کہیں پیچھے رہ گیا
لگتا ہے آسمان کہیں پیچھے رہ گیا

موجوں میں ڈوبتی ہوئی کشتی کا رقص دیکھ
کاغذ کا بادبان کہیں پیچھے رہ گیا

آگے غبارِ راہ کے سوا اور کچھ نہیں
منزل کا وہ نشان کہیں پیچھے رہ گیا

پنچھی قفس میں سو گیا پل بھر کے واسطے
تم کو ہوا گمان ، کہیں پیچھے رہ گیا

مچھلی تڑپ کے رہ گئی بے آب ، فرش پر
شیشے کا مرتبان کہیں پیچھے رہ گیا

جس پر ہمارے نام کی تختی لگی تھی کل
لگتا ہے وہ مکان کہیں پیچھے رہ گیا

اور اب کی بار ہم نے بھی سورج کو لکھ دیا
بادل تھا بدگمان، کہیں پیچھے رہ گیا

حیرت کو چُھو کے دل نے دھڑکنا بھلا دیا
اور بن گیا چٹان، کہیں پیچھے رہ گیا

آگے جو قافلہ گیا، رستے میں لُٹ گیا
لگتا ہے پاسبان کہیں پیچھے رہ گیا

اب کے گلاب رُت میں بھی دیکھا نہیں گلاب
خوشبو کا ترجمان کہیں پیچھے رہ گیا

جب آنکھ کھل گئی تو خبر تب ہوئی بتول
خوابوں کا تو جہان کہیں پیچھے رہ گیا

No votes yet
IN Khan's picture

کسی کے ساتھ چاہت ہوگئی تو کیا کرو گے تم

کسی کے ساتھ چاہت ہوگئی تو کیا کرو گے تم
جفا سہنے کی عادت ہوگئی تو کیا کرو گے تم

ابھی تنہا، افق کے پار ساری رات تکتے ہو
ستاروں سے شکایت ہوگئی تو کیا کرو گے تم

ابھی چاہت گنوا دینے کی ضد تم کو ہے شدت سے
اگر پانے کی حسرت ہوگئی تو کیا کرو گے تم

ابھی تو ساحلوں پہ گھومنے سے جی بہلتا ہے
سمندر سے بھی وحشت ہوگئی تو کیا کرو گے تم

ابھی خُوشیوں کے پَر باندھے ہوئے محوِ سفر ہو تم
جو پیدا غم میں لذت ہو گئی تو کیا کرو گے تم

No votes yet
Syndicate content