فیض احمد فیض

چشمِ میگوں ذرا ادھر کر دے

Verses

چشمِ میگوں ذرا ادھر کر دے
دستِ قدرت کو بے اثر کر دے

تیز ہے آج دردِ دل ساقی
تلخئ مے کو تیز تر کر دے

جوشِ وحشت ہے تشنہ کام ابھی
چاکِ دامن کو تا جگر کر دے

میری قسمت سے کھیلنے والے
مجھ کو قسمت سے بے خبر کر دے

لٹ رہی ہے میری متاعِ نیاز
کاش وہ اس طرف نظر کر دے

فیض تکمیلِ آرزو معلوم
ہو سکے تو یونہی بسر کر دے

فیض احمد فیض

WABASTGI

Verses

MERI HAR YAD TERI YAD SE WABASTA
MERI HAR BAT TERI BAT SE WABASTA

MERI JAAN TU KAYA JANE
MERI JAAN TERI JAAN SE WABASTA

MEIN JAGOON RAAT KO YA SO JAOON
TU MERE HAR KHAWAB SE WABASTA

TUM JEET KAR KHUSH RAHO
MEIN APNI HAR MAAT SE WABASTA

TU MUJH MEIN TEHLEEL HE IS TARHA
JESE ZINDGI HAR SAANS SE WABASTA

29-01-2010 BY 0346-4646932 Ghulam Mustafa

تری امید، ترا انتظار جب سے ہے

Verses

تری امید، ترا انتظار جب سے ہے
نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے

کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم
گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے

ہوا ہے جب سے دلِ ناصبور بے قابو
کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے

اگر شرر ہے تو بھڑکے، جو پھول ہے تو کھِلے
طرح طرح کی طلب، تیرے رنگِ لب سے ہے

کہاں گئے شبِ فرقت کے جاگنے والے
ستارہء سحری ہمکلام کب سے ہے

صبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھی

Verses

صبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھی
کیا خبر آج خراماں سرِ‌گلزار ہے کون

شام گلنار ہوئی جاتی ہے دیکھو تو سہی
یہ جو نکلا ہے لیے مشعلِ رخسار، ہے کون

رات مہکی ہوئی آتی ہے کہیں سے پوچھو
آج بکھرائے ہوئے زلفِ طرحدار ہے کون

پھر درِ دل پہ کوئی دینے لگا ہے دستک
جانیے پھر دلِ وحشی کا طلبگار ہے کون

یوں بہار آئی ہے اس بار کے جیسے قاصد

Verses

یوں بہار آئی ہے اس بار کے جیسے قاصد
کوچہء یار سے بے نیلِ‌مرام آتا ہے

ہر کوئی شہر میں پھرتا ہے سلامت دامن
رند میخانے سے شائستہ خرام آتا ہے

ہوسِ‌مطرب و ساقی میں‌پریشاں اکثر
ابر آتا ہے کبھی ماہِ تمام آتا ہے

شوق والوں‌کی حزیں‌محفلِ شب میں اب بھی
آمدِ صبح کی صورت ترا نام آتا ہے

اب بھی اعلانِ سحر کرتا ہوا مست کوئی
داغِ دل کرکے فروزاں سرِ شام آتا ہے

شہر میں‌چاک گریباں ہوئے ناپید اب کے

Verses

شہر میں‌چاک گریباں ہوئے ناپید اب کے
کوئی کرتا ہی نہیں ضبط کی تاکید اب کے

لطف کر، اے نگہِ یار ، کہ غم والوں‌ نے
حسرتِ دل کی اُٹھائی نہیں‌تمہید اب کے

چاند دیکھا تری آنکھوں میں ، نہ ہونٹوں پہ شفق
ملتی جلتی ہے شبِ غم سے تری دید اب کے

دل دکھا ہے نہ وہ پہلا سا نہ جاں تڑپی ہے
ہم ہی غافل تھے کہ آئی ہی نہیں عید اب کے

پھر سے بجھ جائیں گی شمعیں‌جو ہوا تیز چلی
لاکے رکھو سر محفل کوئی خورشید اب کے

گرمیء شوقِ نظارہ کا اثر تو دیکھو

Verses

گرمیء شوقِ نظارہ کا اثر تو دیکھو
گل کھلے جاتے ہیں سایہء در تو دیکھو

ایسے ناداں بھی نہ تھے جاں سے گزرنے والے
ناصحو ، پندگرو، راہگزر تو دیکھو

وہ تو وہ ہے، تمہیں ہوجاو گی الفت مجھ سے
اک نظر تم مرا محبوب نظر تو دیکھو

وہ جواب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں
دیکھنے والو کبھی اُن کا جگر تو دیکھو

دامنِ درد کو گلزار بنا رکھا ہے
آو اک دن دلِ پرخوں کا ہنر تو دیکھو

صبح کی طرح جھمکتا ہے شبِ غم کا افق
فیض، تابندگیء دیدہء تر تو دیکھو

کچھ محتسبوں کی خلوت میں، کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے

Verses

کچھ محتسبوں کی خلوت میں، کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے
ہم بادہ کشوں کے حصے کی، اب جام میں کمتر آتی ہے

یوں عرض و طلب سے کب اے دل، پتھردل پانی ہوتے ہیں
تم لاکھ رضا کی خو ڈالو، کب خوئے ستمگر جاتی ہے

بیداد گروں کی بستی ہے یاں داد کہاں خیرات کہاں
سرپھوڑتی پھرتی ہے ناداں فریاد جو در در جاتی ہے

ہاں، جاں کے زیاں کی ہم کو بھی تشویش ہے لیکن کیا کیجے
ہر رہ جو اُدھر کو جاتی ہے، مقتل سے گزر کر جاتی ہے

اب کوچہء دلبر کا رہرو، رہزن بھی بنے تو بات بنے
پہرے سے عدو ٹلتے ہی نہیں اور رات برابر جاتی ہے

ہم اہلِ قفس تنہا بھی نہیں، ہرروز نسیمِ صبحِ وطن
یادوں سے معطر آتی ہے اشکوں سے منور جاتی ہے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer