

چشمِ میگوں ذرا ادھر کر دے
دستِ قدرت کو بے اثر کر دے
تیز ہے آج دردِ دل ساقی
تلخئ مے کو تیز تر کر دے
جوشِ وحشت ہے تشنہ کام ابھی
چاکِ دامن کو تا جگر کر دے


MERI HAR YAD TERI YAD SE WABASTA
MERI HAR BAT TERI BAT SE WABASTA
MERI JAAN TU KAYA JANE
MERI JAAN TERI JAAN SE WABASTA
MEIN JAGOON RAAT KO YA SO JAOON
TU MERE HAR KHAWAB SE WABASTA

تری امید، ترا انتظار جب سے ہے
نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے
کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم
گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے
ہوا ہے جب سے دلِ ناصبور بے قابو
کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے
اگر شرر ہے تو بھڑکے، جو پھول ہے تو کھِلے
طرح طرح کی طلب، تیرے رنگِ لب سے ہے
کہاں گئے شبِ فرقت کے جاگنے والے
ستارہء سحری ہمکلام کب سے ہے

صبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھی
کیا خبر آج خراماں سرِگلزار ہے کون
شام گلنار ہوئی جاتی ہے دیکھو تو سہی
یہ جو نکلا ہے لیے مشعلِ رخسار، ہے کون
رات مہکی ہوئی آتی ہے کہیں سے پوچھو
آج بکھرائے ہوئے زلفِ طرحدار ہے کون
پھر درِ دل پہ کوئی دینے لگا ہے دستک
جانیے پھر دلِ وحشی کا طلبگار ہے کون

یوں بہار آئی ہے اس بار کے جیسے قاصد
کوچہء یار سے بے نیلِمرام آتا ہے
ہر کوئی شہر میں پھرتا ہے سلامت دامن
رند میخانے سے شائستہ خرام آتا ہے
ہوسِمطرب و ساقی میںپریشاں اکثر
ابر آتا ہے کبھی ماہِ تمام آتا ہے
شوق والوںکی حزیںمحفلِ شب میں اب بھی
آمدِ صبح کی صورت ترا نام آتا ہے
اب بھی اعلانِ سحر کرتا ہوا مست کوئی
داغِ دل کرکے فروزاں سرِ شام آتا ہے

شہر میںچاک گریباں ہوئے ناپید اب کے
کوئی کرتا ہی نہیں ضبط کی تاکید اب کے
لطف کر، اے نگہِ یار ، کہ غم والوں نے
حسرتِ دل کی اُٹھائی نہیںتمہید اب کے
چاند دیکھا تری آنکھوں میں ، نہ ہونٹوں پہ شفق
ملتی جلتی ہے شبِ غم سے تری دید اب کے
دل دکھا ہے نہ وہ پہلا سا نہ جاں تڑپی ہے
ہم ہی غافل تھے کہ آئی ہی نہیں عید اب کے
پھر سے بجھ جائیں گی شمعیںجو ہوا تیز چلی
لاکے رکھو سر محفل کوئی خورشید اب کے