داغ دھلوی

اس ادا سے وہ وفا کرتے ہیں

Verses

اس ادا سے وہ وفا کرتے ہیں
کوئی کیا جانے کے وفا کرتے ہیں
ہم کو چھوڑو گے تو پچھتاؤ گے
ہنسنے والوں سے ہنسا کرتے ہیں
یہ بتاتا نہیں کوئی مجھ کو
دل جو آ جے تو کیا کرتے ہیں
حسن کا حق نہیں رہتا باقی
ہر ادا میں وہ ادا کرتے ہیں
کس قدر ہیں تیری آنکھیں بیباک
ان سے فتنے بھی حیا کرتے ہیں
داغ تو دیکھ تو کیا ہوتا ہے
جبر پر جبر کیا کرتے ہیں

داغ دھلوی

وہ ہوئے مہربان دشمن پر

Verses

وہ ہوئے مہربان دشمن پر
پھٹ پڑے آسمان دشمن پر

جان اس بے وفا کو ہم نے دی
جس کی جاتی ہے جان دشمن پر

اپنی پہچان کو قیامت میں
کیجئے کچھ نشان دشمن پر

بہت اچھی ہے آپ کی تلوار
کیجئے امتحان دشمن پر

لوگ کہتے ہیں کیا؟ سنو تو سہی
جھک پڑا اک جہان دشمن پر

کس کی محفل میں یہ ہوئی عزت
کیا برستی ہے شان دشمن پر

تم نے بھی کچھ سنا؟ کہ ہے چرچا
غش ہے اک نوجوان دشمن پر

اب برسنے لگے وہ ہم پر بھی
کھل گئی ہے زبان دشمن پر؟

داغ تم دل کو دوست سمجھے ہو
دوستی کا گمان دشمن پر؟

وصل میں جھوٹی تسلی کے سوا کیا ہوگا

Verses

وصل میں جھوٹی تسلی کے سوا کیا ہوگا
بہت اچھا، بہت اچھا، بہت اچھا ہوگا

دلِ افسردہ کا جب حال بیاں ان سے کیا
پھول کو مَل کے کہا ہاتھ میں، ایسا ہوگا

نگہء شوق کی خواہش کو سمجھ لو دل میں
ورنہ دو چار گھڑی بعد تقاضا ہوگا

تم کسی کے نہ ہوئے ہو، نہ کسی کے ہوگے
دل کسی کا نہ ہوا ہے، نہ کسی کا ہوگا

خوبیاں داغ کی جب اس نے سُنیں، سُن کے کہا
کیا غرض ہم کو، وہ اپنے لئے اچھا ہوگا

نہ آیا نامہ بر اب تک، گیا تھا کہہ کے اب آیا

Verses

نہ آیا نامہ بر اب تک، گیا تھا کہہ کے اب آیا
الٰہی کیا ستم ٹوٹا، خدایا کیا غضب آیا

رہا مقتل میں بھی محروم، آب تیغِ قاتل سے
یہ ناکامی کہ میں دریا پہ جا کر تشنہ لب آیا

غضب ہے جن پہ دل آئے، کہیں انجان بن کر وہ
کہاں آیا، کدھر آیا، یہ کیوں آیا، یہ کب آیا؟

شروعِ عشق میں گستاخ تھے، اب ہیں خوشامد کو
سلیقہ بات کرنے کا نہ جب آیا، نہ اب آیا

نوشتہ میرا بے معنی تو دل بے مدعا میرا
مگر اس عالمِ اسباب میں میں بے سبب آیا

بسَر کیونکر کریں گے خلد میں ہم واعظِ ناداں
ہمارے جدِ امجد کو نہ واں رہنے کا ڈھب آیا

وہ ارماں حسرتیں جس کی، اگر نکلا تو کب نکلا؟
وہ جلوہ خواہشیں جس کی، نظر آیا تو کب آیا؟

ابھی اپنی جفا کو کھیل ہی سمجھا ہے تُو ظالم
کہ جینے پر نہ آیا، میرے مرنے پر عجب آیا

گیا جب داغ مقتل میں، کہا خُوش ہو کے قاتل نے
مرا آفت نصیب آیا، مرا ایذا طلب آیا

جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیں

Verses

جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیں
کیا ہی جھنجلا کے وہ بولے کہ ہمیں اچھے ہیں

نہ اُٹھا خواب عدم سے ہمیں ہنگامہء حشر
کہ پڑے چین سے ہم زیرِ زمیں اچھے ہیں

کس بھروسے پہ کریں تجھ سے وفا کی اُمید
کون سے ڈھنگ ترے جان حزیں اچھے ہیں

خاک میں آہ ملا کر ہمیں، کیا پوچھتے ہو
خیر جس طور میں ہم خاک نشیں اچھے ہیں

ہم کو کوچے سے تمہارے نہ اُٹھائے اللہ
صدقے بس خلد کے کچھ ہم تو یہیں اچھے ہیں

نہ ملا خاک میں، تو ورنہ پشیماں ہوگا
ظلم سہنے کو ہم اے چرخ بریں اچھے ہیں

دل میں کیا خاک جگہ دوں ترے ارمانوں کو
کہ مکاں ہے یہ خراب اور مکیں اچھے ہیں

مجھ کو کہتے ہیں رقیبوں کی بُرائی سن کر
وہ نہیں تم سے بُرے بلکہ کہیں اچھے ہیں

بُت وہ کافر ہیں کہ اے داغ خدا اُن سے بچائے
کون کہتا ہے یہ غارتگر دیں اچھے ہیں

جس وقت آئے ہوش میں کچھ بیخودی سے ہم

Verses

جس وقت آئے ہوش میں کچھ بیخودی سے ہم
کرتے رہے خیال میں باتیں اُسی سے ہم

ناچار تم ہو دل سے، تو مجبور جی سے ہم
رکھتے ہو تم کسی سے محبت، کسی سے ہم

یوسف کہا جو اُن کو تو ناراض ہوگئے
تشبیہ اب نہ دیں گے کسی کو کسی سے ہم

ہوتا ہے پُرضرور خوشی کا مآل رنج
رونے لگے اخیر زیادہ ہنسی سے ہم

کہتے ہیں آنسوؤں سے بجھائیں گے ہم تجھے
یہ دل لگی بھی کرتے ہیں دل کی لگی سے ہم

کے دن ہوئے ہیں ہاتھ میں ساغر لئے ہوئے
کس طرح توبہ کر لیں الہٰی ابھی سے ہم

ہم سے چھپے گا عشق! یہ کہنے کی بات ہے؟
کیا کچھ بُری بھلی نہ کہیں گے کسی سے ہم؟

معشوق کی خطا نہیں عاشق کی ہے خطا
جب غور کر کے دیکھتے ہیں منصفی سے ہم

دشمن کی دوستی سے کیا قتل دوست نے
دعویٰ کریں گے خوں کا اب مدعی سے ہم

واعظ خطا معاف کہ انساں ہم تو ہیں
بن جائیں گے فرشتہ نہ کچھ آدمی سے ہم

جس کو نہیں نصیب بڑا بد نصیب ہے
کھاتے ہیں ترے عشق کا غم کس خوشی سے ہم

خلوت گزیں رہے ہیں تصّور میں اس قدر
معلوم ہوں گے حشر میں بھی اجنبی سے ہم

غیروں سے التفات پہ ٹوکا تو یہ کہا
دنیا میں بات بھی نہ کریں کیا کسی سے ہم

کرتے ہیں ایسی بات کہ کہہ دے وہ دل کی بات
یوں مدّعا نکالتے ہیں مدّعی سے ہم

دل کچھ اُچاٹ سا ہے ترے طور دیکھ کر
وہ بات کر کہ پیار کریں تجھ کو جی سے ہم

عادت بُری بلا ہے یہ چھٹتی نہیں کبھی
دنیا کے غم اُٹھاتے ہیں کس کس خوشی سے ہم

وعدہ کیا ہے اُس نے قیامت میں وصل کا
اپنا وصال چاہتے ہیں لو ابھی سے ہم

کرتے ہیں اک غرض کے لیئے اُس کی بندگی
بن جائیں گے غلام نہ کچھ بندگی سے ہم

ان بن ہوئی ہو غیر سے اُس کی خدا کرے
سنتے ہیں لاگ ڈانٹ کسی کی کسی سے ہم

دل گیر اس قدر ہیں کہ جا جاکے باغ میں
دل کو ملا کے دیکھتے ہیں ہر کلی سے ہم

کہتے ہیں وہ ستم میں ہمارے ہے خاص لطف
یہ دشمنی بھی کرتے ہیں اک دوستی سے ہم

کم بخت دل نے داغ کیا ہے ہمیں تباہ
عاشق مزاج ہو گئے آخر اِسی سے ہم

ہوش آتے ہی محو ہوگئے ہم

Verses

ہوش آتے ہی محو ہوگئے ہم
جب آنکھ کھُلی تو سو گئے ہم

پیری میں جواں ہوگئے ہم
جب صبح ہوئی تو سوگئے ہم

راحت سے عدم میں ہوگئے ہم
منزل پہ پہنچ کے سو گئے ہم

اُس بزم میں دل نے ساتھ چھوڑا
ایک آئے وہاں سے دو گئے ہم

کافر کہیں ہم کو یا مسلماں
اب ہو گئے جس کے ہوگئے ہم

جب زلف کی بو سُنگھائی تم نے
دیوانے تمہارے ہو گئے ہم

اب روئے گا ہم کو اک زمانہ
اگلوں کو جہاں میں ر و گئے ہم

محفل سے تری ملا یہ ہم کو
دل اپنی گرہ سے کھو گئے ہم

دل لینے کی تم کو آرزو تھی
اب جان سے اپنی لو گئے ہم

کل آئے جو وہ کہیں سے اے داغ
آج اُن کے سلام کو گئے ہم

اپنے رونے پہ کچھ آیا جو تبسّم مجھ کو

Verses

اپنے رونے پہ کچھ آیا جو تبسّم مجھ کو
یاد نے اُس کی کہا بھول گئے تم مجھ کو

ہنستے ہنستے کبھی روتا ہوں تصّور میں ترے
روتے روتے کبھی آتا ہے تبسّم مجھ کو

کیوں گناہ لیتے ہیں تھوڑی سی پلانے والے
کل ملے کوثر اُسے آج جو دے خم مجھ کو

کیا کرے دیکھئے کوثر پہ مری تشنہ لبی
سوکھا جاتا ہے یہاں دیکھ کے قلزم مجھ کو

مسکرائے مری میّت پہ وہ منہ پھیر کے داغ
حشر تک یاد رہے گا یہ تبسّم مجھ کو

کوئی تو محبت میں مجھے صبر ذرا دے

Verses

کوئی تو محبت میں مجھے صبر ذرا دے
تیری تو مثل وہ ہے نہ میں دوں نہ خدا دے

بے جرم کرے قتل وہ قاتل ہے ہمارا
یہ شیوہ ہے اُس کا کہ خطا پر نہ سزا دے

دولت جو خدائی کی ملے کچھ نہیں پروا
بچھڑے ہوئے معشوق کو اللہ ملا دے

کرتا ہے رقیب اُن کی شکایت مرے آگے
ڈرتا ہوں کہ مِل کر نہ کہیں مجھ کو دغا دے

پھٹ جائے اگر دل تو کبھی مل نہیں سکتا
یہ چاک نہیں وہ جو کوئی سی کے ملا دے

تیرے تو برسنے سے ترستا ہے مرا دل
اے ابر کبھی میری لگی کو بھی بجھا دے

یہ دل کا لگانا تو نہیں جس سے ہو نفرت
تو بھی تو جنازے کو مرے ہاتھ لگا دے

ان جلوہ فروشوں سے تو سودا نہیں بنتا
جب مول نہ ٹھہرے ، کوئی کیا لے کوئی کیا دے

کیا کیا نہ کیا عشق میں ، اپنی سی بہت کی
تدبیر سے کیا ہو جسے تقدیر مٹا دے

میں وصل کا سائل ہوں، جھڑکنا نہیں اچھا
یا اور سے دلوا کسی محتاج کو یا دے

وہ لطف وہ احساں کر، اے چرخ مرے ساتھ
دوں میں بھی دعا تجھ کو مرا دل بھی دعا دے

ہم اُنہیں جی سے پیار کرتے ہیں

Verses

ہم اُنہیں جی سے پیار کرتے ہیں
وہ کہاں اعتبار کرتے ہیں

منتظر ہیں مرے جنازے کے
وہ مرا انتظار کرتے ہیں

غیر کی بات اور جھوٹی بات
آپ ہی اعتبار کرتے ہیں

دلربا بھی ہے دل بھی ہے معشوق
ہم تو دونوں کو پیار کرتے ہیں

جان جھپٹی، کسی کا دل لوٹا
وہ یوں ہی لوٹ مار کرتے ہیں

اُن سے وہ حشر تک نہیں ملتے
جن کو اُمیدوار کرتے ہیں

دل کی بالیدگی سے جی خوش ہے
ایک کو ہم ہزار کرتے ہیں

حال جب پوچھتا ہے ہم سے کوئی
نالے بے اختیار کرتے ہیں

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer