
اس ادا سے وہ وفا کرتے ہیں
کوئی کیا جانے کے وفا کرتے ہیں
ہم کو چھوڑو گے تو پچھتاؤ گے
ہنسنے والوں سے ہنسا کرتے ہیں
یہ بتاتا نہیں کوئی مجھ کو
دل جو آ جے تو کیا کرتے ہیں
حسن کا حق نہیں رہتا باقی

وہ ہوئے مہربان دشمن پر
پھٹ پڑے آسمان دشمن پر
جان اس بے وفا کو ہم نے دی
جس کی جاتی ہے جان دشمن پر
اپنی پہچان کو قیامت میں
کیجئے کچھ نشان دشمن پر
بہت اچھی ہے آپ کی تلوار
کیجئے امتحان دشمن پر
لوگ کہتے ہیں کیا؟ سنو تو سہی
جھک پڑا اک جہان دشمن پر
کس کی محفل میں یہ ہوئی عزت
کیا برستی ہے شان دشمن پر
تم نے بھی کچھ سنا؟ کہ ہے چرچا
غش ہے اک نوجوان دشمن پر
اب برسنے لگے وہ ہم پر بھی
کھل گئی ہے زبان دشمن پر؟
داغ تم دل کو دوست سمجھے ہو
دوستی کا گمان دشمن پر؟

وصل میں جھوٹی تسلی کے سوا کیا ہوگا
بہت اچھا، بہت اچھا، بہت اچھا ہوگا
دلِ افسردہ کا جب حال بیاں ان سے کیا
پھول کو مَل کے کہا ہاتھ میں، ایسا ہوگا
نگہء شوق کی خواہش کو سمجھ لو دل میں
ورنہ دو چار گھڑی بعد تقاضا ہوگا
تم کسی کے نہ ہوئے ہو، نہ کسی کے ہوگے
دل کسی کا نہ ہوا ہے، نہ کسی کا ہوگا
خوبیاں داغ کی جب اس نے سُنیں، سُن کے کہا
کیا غرض ہم کو، وہ اپنے لئے اچھا ہوگا

نہ آیا نامہ بر اب تک، گیا تھا کہہ کے اب آیا
الٰہی کیا ستم ٹوٹا، خدایا کیا غضب آیا
رہا مقتل میں بھی محروم، آب تیغِ قاتل سے
یہ ناکامی کہ میں دریا پہ جا کر تشنہ لب آیا
غضب ہے جن پہ دل آئے، کہیں انجان بن کر وہ
کہاں آیا، کدھر آیا، یہ کیوں آیا، یہ کب آیا؟
شروعِ عشق میں گستاخ تھے، اب ہیں خوشامد کو
سلیقہ بات کرنے کا نہ جب آیا، نہ اب آیا
نوشتہ میرا بے معنی تو دل بے مدعا میرا
مگر اس عالمِ اسباب میں میں بے سبب آیا
بسَر کیونکر کریں گے خلد میں ہم واعظِ ناداں
ہمارے جدِ امجد کو نہ واں رہنے کا ڈھب آیا
وہ ارماں حسرتیں جس کی، اگر نکلا تو کب نکلا؟
وہ جلوہ خواہشیں جس کی، نظر آیا تو کب آیا؟
ابھی اپنی جفا کو کھیل ہی سمجھا ہے تُو ظالم
کہ جینے پر نہ آیا، میرے مرنے پر عجب آیا
گیا جب داغ مقتل میں، کہا خُوش ہو کے قاتل نے
مرا آفت نصیب آیا، مرا ایذا طلب آیا

جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیں
کیا ہی جھنجلا کے وہ بولے کہ ہمیں اچھے ہیں
نہ اُٹھا خواب عدم سے ہمیں ہنگامہء حشر
کہ پڑے چین سے ہم زیرِ زمیں اچھے ہیں
کس بھروسے پہ کریں تجھ سے وفا کی اُمید
کون سے ڈھنگ ترے جان حزیں اچھے ہیں
خاک میں آہ ملا کر ہمیں، کیا پوچھتے ہو
خیر جس طور میں ہم خاک نشیں اچھے ہیں
ہم کو کوچے سے تمہارے نہ اُٹھائے اللہ
صدقے بس خلد کے کچھ ہم تو یہیں اچھے ہیں
نہ ملا خاک میں، تو ورنہ پشیماں ہوگا
ظلم سہنے کو ہم اے چرخ بریں اچھے ہیں
دل میں کیا خاک جگہ دوں ترے ارمانوں کو
کہ مکاں ہے یہ خراب اور مکیں اچھے ہیں
مجھ کو کہتے ہیں رقیبوں کی بُرائی سن کر
وہ نہیں تم سے بُرے بلکہ کہیں اچھے ہیں
بُت وہ کافر ہیں کہ اے داغ خدا اُن سے بچائے
کون کہتا ہے یہ غارتگر دیں اچھے ہیں

جس وقت آئے ہوش میں کچھ بیخودی سے ہم
کرتے رہے خیال میں باتیں اُسی سے ہم
ناچار تم ہو دل سے، تو مجبور جی سے ہم
رکھتے ہو تم کسی سے محبت، کسی سے ہم
یوسف کہا جو اُن کو تو ناراض ہوگئے
تشبیہ اب نہ دیں گے کسی کو کسی سے ہم
ہوتا ہے پُرضرور خوشی کا مآل رنج
رونے لگے اخیر زیادہ ہنسی سے ہم
کہتے ہیں آنسوؤں سے بجھائیں گے ہم تجھے
یہ دل لگی بھی کرتے ہیں دل کی لگی سے ہم
کے دن ہوئے ہیں ہاتھ میں ساغر لئے ہوئے
کس طرح توبہ کر لیں الہٰی ابھی سے ہم
ہم سے چھپے گا عشق! یہ کہنے کی بات ہے؟
کیا کچھ بُری بھلی نہ کہیں گے کسی سے ہم؟
معشوق کی خطا نہیں عاشق کی ہے خطا
جب غور کر کے دیکھتے ہیں منصفی سے ہم
دشمن کی دوستی سے کیا قتل دوست نے
دعویٰ کریں گے خوں کا اب مدعی سے ہم
واعظ خطا معاف کہ انساں ہم تو ہیں
بن جائیں گے فرشتہ نہ کچھ آدمی سے ہم
جس کو نہیں نصیب بڑا بد نصیب ہے
کھاتے ہیں ترے عشق کا غم کس خوشی سے ہم
خلوت گزیں رہے ہیں تصّور میں اس قدر
معلوم ہوں گے حشر میں بھی اجنبی سے ہم
غیروں سے التفات پہ ٹوکا تو یہ کہا
دنیا میں بات بھی نہ کریں کیا کسی سے ہم
کرتے ہیں ایسی بات کہ کہہ دے وہ دل کی بات
یوں مدّعا نکالتے ہیں مدّعی سے ہم
دل کچھ اُچاٹ سا ہے ترے طور دیکھ کر
وہ بات کر کہ پیار کریں تجھ کو جی سے ہم
عادت بُری بلا ہے یہ چھٹتی نہیں کبھی
دنیا کے غم اُٹھاتے ہیں کس کس خوشی سے ہم
وعدہ کیا ہے اُس نے قیامت میں وصل کا
اپنا وصال چاہتے ہیں لو ابھی سے ہم
کرتے ہیں اک غرض کے لیئے اُس کی بندگی
بن جائیں گے غلام نہ کچھ بندگی سے ہم
ان بن ہوئی ہو غیر سے اُس کی خدا کرے
سنتے ہیں لاگ ڈانٹ کسی کی کسی سے ہم
دل گیر اس قدر ہیں کہ جا جاکے باغ میں
دل کو ملا کے دیکھتے ہیں ہر کلی سے ہم
کہتے ہیں وہ ستم میں ہمارے ہے خاص لطف
یہ دشمنی بھی کرتے ہیں اک دوستی سے ہم
کم بخت دل نے داغ کیا ہے ہمیں تباہ
عاشق مزاج ہو گئے آخر اِسی سے ہم

ہوش آتے ہی محو ہوگئے ہم
جب آنکھ کھُلی تو سو گئے ہم
پیری میں جواں ہوگئے ہم
جب صبح ہوئی تو سوگئے ہم
راحت سے عدم میں ہوگئے ہم
منزل پہ پہنچ کے سو گئے ہم
اُس بزم میں دل نے ساتھ چھوڑا
ایک آئے وہاں سے دو گئے ہم
کافر کہیں ہم کو یا مسلماں
اب ہو گئے جس کے ہوگئے ہم
جب زلف کی بو سُنگھائی تم نے
دیوانے تمہارے ہو گئے ہم
اب روئے گا ہم کو اک زمانہ
اگلوں کو جہاں میں ر و گئے ہم
محفل سے تری ملا یہ ہم کو
دل اپنی گرہ سے کھو گئے ہم
دل لینے کی تم کو آرزو تھی
اب جان سے اپنی لو گئے ہم
کل آئے جو وہ کہیں سے اے داغ
آج اُن کے سلام کو گئے ہم

اپنے رونے پہ کچھ آیا جو تبسّم مجھ کو
یاد نے اُس کی کہا بھول گئے تم مجھ کو
ہنستے ہنستے کبھی روتا ہوں تصّور میں ترے
روتے روتے کبھی آتا ہے تبسّم مجھ کو
کیوں گناہ لیتے ہیں تھوڑی سی پلانے والے
کل ملے کوثر اُسے آج جو دے خم مجھ کو
کیا کرے دیکھئے کوثر پہ مری تشنہ لبی
سوکھا جاتا ہے یہاں دیکھ کے قلزم مجھ کو
مسکرائے مری میّت پہ وہ منہ پھیر کے داغ
حشر تک یاد رہے گا یہ تبسّم مجھ کو