
ہم لوگ سوچتے ہیں ہمیں کچھ ملا نہیں
شہروں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں
اک چہرہ ساتھ ساتھ رہا جو ملا نہیں
کس کو تلاش کرتے رہے کچھ پتا نہیں
شدت کی دھوپ تیز ہواؤں کے باوجود

میں کب تنہا ہوا تھا، یاد ہو گا
تمھارا فیصلہ تھا، یاد ہو گا
بہت سے اُجلے اُجلے پُھول لے کر
کوئی تم سے ملا تھا ،یا د ہو گا
بچھی تھی ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں
کوئی آنسو گرا تھا، یاد ہو گا

وہ جہاں تھے وہیں کھڑے ہوں گے
جو کسی بات پر اڑے ہوں گے
پالنوں میں کہیں پڑے ہوں گے
کل جو سورج بہت بڑے ہوں گے
اب نئے ذہن اور آئیں گے
امتحانات بھی کڑے ہوں گے
تاجداروں کے سر چڑھے ہیرے
آج پاپوش میں جڑے ہوں گے
ایک چھوٹے سے سائبان کے لیے
عمربھر دھوپ سے لڑے ہوں گے
میں اٹھا کر لفظ بنادوں گا
لفظ جتنے گرے پڑے ہوں گے
سات رنگوں کے سات تاج محل
ایک دیوار میں جڑے ہوں گے
دھوپ کب تک مجھے ستائے گی
کل میرے پیڑ بھی بڑے ہوں گے
کتنے لہجے بشیر بدر ہوئے
اپنے پیروں پہ کب کھڑے ہوں گے

وہ شاخ ہے نہ پھول اگر تتلیاں نہ ہوں
وہ گھر بھی کوئی گھر ہے جہاں بچیّاں نہ ہوں
پلکوں سے آنسوؤں کی مہک آنی چاہیئے
خالی ہے آسمان اگر بدلیاں نہ ہوں
دشمن کو بھی خدا کبھی ایسا مکاں نہ دے
تازہ ہوا کی جس میں کہیں کھڑکیاں نہ ہوں
میں پوچھتا ہوں وہ میری گلی میں آئے کیوں
جس ڈاکیے کے پاس تیری چٹھیّاں نہ ہوں

رات آنکھوں میں ڈھلی پلکوں پہ جگنو آئے
ہم ہواؤں کی طرح جاکے اسےچھو آئے
اس کا دل دل نہیں پتھر کا کلیجہ ہوگا
جس کو پھولوں کا ہنر آنسو کا جادو آئے
بس گئی ہےمرےاحساس میں یہ کیسی مہک
کوئی خوشبو میں لگاؤں تیری خوشبو آئے
خوبصورت ہیں بہت دنیاکے جھوٹے وعدے
پھول کاغذ کےلیے کانچ کے بازو آئے
اس نے چھو کر مجھے پتھر سے پھر انساں کیا
مدتوں بعد میری آنکھوں میں آنسو آئے

عجب موسم ہے میرےہر قدم پہ پھول رکھتا ہے
محبت میں محبت کا فرشتہ ساتھ چلتا ہے
ہر آنسو میں کوئی تصویر اکثر جھلملاتی ہے
تمہیں آنکھیں بتائیں گی دیئوں میں کون جلتا ہے
میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا
یقیں آجائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے
بڑا ہو کر کہیں مندر کہیں مسجد بنائے گا
یہ بچہ دیکھنا سکول جانے سے بھی ڈرتا ہے
بہت سے کام رُک جاتے ہیں میں باہر نہیں جاتا
تمہاری یاد کا لمحہ کہاں نالے سےٹلتا ہے
محبت غم کی بارش ہے زمیں سرسبز ہوتی ہے
بہت سے پھول کھلتے ہیں جہاں بادل برستا ہے

میں کب کہتا ہوں کہ وہ اچھا بہت ہے
مگر اس نے مجھے چاہا بہت ہے
خدا اس شہر کو محفوظ رکھے
یہ بچوں کی طرح ہنستا بہت ہے
میں ہر لمحے میں صدیاںدیکھتا ہوں
تمہارے ساتھ اک لمحہ بہت ہے
میرا دل بارشوں میں پھول جیسا
یہ بچہ رات میں روتا بہت ہے
وہ اب لاکھوں دلوںسے کھیلتا ہے
مجھے پہچان لے اتنا بہت ہے

اس در کا دربان بنادے یااللہ
مجھ کو بھی سُلطان بنادے یا اللہ
اُن آنکھوں سے تیرے نام کی بارش ہو
پتھر ہوں انسان بنادے یااللہ
سہما دل ، ٹوٹی کشتی ، چڑھتا دریا
ہر مُشکل آسَان بنادے یا اللہ
میں جب چاہو ں جھانک کےتجھ کو دیکھ سکوں
دل کو روشن دان بنادے یااللہ
میرا بچہ سادہ کاغذجیسا ہے
اک حرفِ ایمان بنادے یااللہ