باقی صدیقی

داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے

Verses

داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دئیے جلانے لگے

کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے

یہی رستہ ہے اب یہی منزل
اب یہیں دل کسی بہانے لگے

خودفریبی سی خودفریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے

اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے

اس بدلتے ہوئے زمانے میں
تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے

رخ بدلنے لگا فسانے کا
لوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے

ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے

اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر اُڑ کے بھی نشانے لگے

ہم تک آئے نہ آئے موسمِ گُل
کچھ پرندے تو چہچہانے لگے

شام کا وقت ہو گیا باقی
بستیوں سے شرار آنے لگے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer