انور ظہیر راہبر

ہر سمت جہاں میں آگ لگا رہا ہے کوئی

Verses

ہر سمت جہاں میں آگ لگا رہا ہے کوئی
سرخ لہو سے زمیں سجا رہا ہے کوئی

محبتیں اختلاف بن رہی ہیں یہاں
ہمارے بیچ کیا نفرتیں اگا رہا ہے کوئی

طلوعِ صبح میں نشۂ خواب لینے والو
اب اٹھ بھی جاؤ کہ تم کو جگا رہا ہے کوئی

زمین تنگ کر دی اس زمین والوں نے
نشاں مزار کے بھی اپنے مٹا رہا ہے کوئی

نہ سمت ہے نہ راہ ہے نہ منزلِ رہبر
ہوا کے رخ پر تجھ کو بلا رہا ہے کوئی

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer