نادم ہیں اپنی بُھول پہ ہم ، بُھول جائیے

Verses

نادم ہیں اپنی بُھول پہ ہم ، بُھول جائیے
جو کچھ ہوا براہِ کرم ، بُھول جائیے

ہم نے سرور و لطف میں جو کچھ کہا سنا
سب جھوٹ تھا خدا کی قسم ، بُھول جائیے

تکلیف اور غم کا مداوا ہے ایک ہی
تکلیف بُھول جائیے، غم بُھول جائیے

پی لیجیے پیالہء سقراط بوند بوند
آبِ حیات ہے کہ یہ سم ، بُھول جائیے

ہونا بھی ایک خواب نہ ہونا بھی ایک خواب
کیا ہے وجود کیا ہے عدم ، بُھول جائیے

رکھیے اب اپنی عمر کی نقدی سنبھال کر
جو خرچ ہو گئی وہ رقم ، بُھول جائیے

آپ ایک بار آ گئے سو آ گئے شعور
باغِ جہاں میں باغِ ارم ، بُھول جائیے

میں بزمِ تصوّر میں اُسے لائے ہوئے تھا

Verses

میں بزمِ تصوّر میں اُسے لائے ہوئے تھا
جو ساتھ نہ آنے کی قسم کھائے ہوئے تھا

دل جرمِ محبت سے کبھی رہ نہ سکا باز
حالاں کہ بہت بار سزا پائے ہوئے تھا

ہم چاہتے تھے، کوئی سُنے بات ہماری
یہ شوق ہمیں گھر سے نکلوائے ہوئے تھا

ہونے نہ دیا خود پہ مسلّط اُسے میں نے
جس شخص کو جی جان سے اپنائے ہوئے تھا

بیٹھے تھے شعور آج مرے پاس وہ گُم صم
میں کھوئے ہوئے تھا نہ اُنہیں پائے ہوئے تھا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer