Amir Meenai (1828–1900)

اچھے عیسٰی ہو، مریضوں کا خیال اچھا ہے

Verses

اچھے عیسٰی ہو، مریضوں کا خیال اچھا ہے
ہم مرے جاتے ہیں، تم کہتے ہو حال اچھا ہے

تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
سَو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے

دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بے تابی کو
ہجر اچھا، نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے

آگیا اس کا تصور، تو پکارا یہ شوق
دل میں جم جائے الہٰی، یہ خیال اچھا ہے

برق اگر گرمئیِ رفتار میں اچھی ہے امیر
گرمئیِ حسن میں وہ برق جمال اچھا ہے

جب سے بلبل تُو نے دو تنکے لیے

Verses

جب سے بلبل تُو نے دو تنکے لیے
ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے

ہے جوانی خود جوانی کا سنگھار
سادگی گہنا ہے اس سِن کے لیے

کون ویرانے میں دیکھے گا بہار
پھول جنگل میں کھلے کن کے لیے

ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا
میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے

باغباں، کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی
بھیجنی ہیں ایک کم سِن کے لئے

سب حسیں ہیں زاہدوں کو نا پسند
اب کوئی حور آئے گی ان کے لئے

وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیر
بھیجتے تحفہ مؤذن کے لیے

تند مے اور ایسے کمسِن کے لیے

Verses

تند مے اور ایسے کمسِن کے لیے
ساقیا! ہلکی سی لا اِن کے لیے

جب سے بلبل تُو نے دو تنکے لیے
ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے

ہے جوانی خود جوانی کا سنگھار
سادگی گہنا ہے اس سِن کے لیے

ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا
میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے

وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

باغباں! کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی
بھیجنی ہیں ایک کمسِن کے لیے

کون ویرانے میں دیکھے گا بہار
پھول جنگل میں کھلے کن کے لیے

سب حسیں ہیں زاہدوں کو نا پسند
اب کوئی حور آئے گی اِن کے لئے

صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیرؔ
بھیجتے تحفہ موذِّن کے لیے

ریاضِ دہر میں پوچھو نہ میری بربادی

Verses

ریاضِ دہر میں پوچھو نہ میری بربادی
برنگِ بو ادھر آیا ادھر روانہ ہوا

خدا کی راہ میں دینا ہے گھر کا بھر لینا
ادھر دیا ۔ کہ ادھر داخل خزانہ ہوا

قدم حضور کے آئے مرے نصیب کھلے
جوابِ قصرِ سلیماں غریب خانہ ہوا

جب آئی جوش پہ میرے کریم کی رحمت
گرا جو آنکھ سے آنسو ۔ درِ یگانہ ہوا

چنے مہینوں ہی تنکے غریب بلبل نے
مگر نصیب نہ دو روز آشیانہ ہوا

اٹھائے صدمے پہ صدمے ۔ تو آبرو پائی
امیر ٹوٹ کے دل گوہر یگانہ ہوا

کی دل شکنی نہ تند خو کی

Verses

کی دل شکنی نہ تند خو کی
سختی پہ بھی نرم گفتگو کی

کی جس پہ نگاہ - تجھ کو دیکھا
اب تک تو نظر کہیں نہ چوکی

جز دیر و حرم کہاں میں جاؤں
راہیں تو یہی ہیں جستجو کی

دل ہی نہ رہا امید کیسی
جڑ کٹ گئی نخلِ آرزو کی

کلفت نی مٹی امیر! دل سے
اشکوں نے ہزار شست و شو کی

موتی کی طرح جو ہو خدا داد

Verses

موتی کی طرح جو ہو خدا داد
تھوڑی سی بھی آبرو بہت ہے

جاتے ہیں جو صبر و ہوش - جائیں
مجھ کو اے درد ! تو بہت ہے

مانندِ کلیم بڑھ نہ اے دل!
یہ دور کی گفتگو بہت ہے

اے نشترِ غم ! ہو لاکھ تن خشک
تیرے دم کو لہو بہت ہے

کیا غم ہے امیر ! اگر مال نہیں
اس وقت میں آبرو بہت ہے

لے گئی کل ہوسِ مے جو سرخُم مجھ کو

Verses

لے گئی کل ہوسِ مے جو سرخُم مجھ کو
ہوش کی طرح سے مستی نے کیا گم مجھ کو

صورتِ غنچہ کہاں تابِ تکلم مجھ کو
منہ کے سو ٹکڑے ہوں آئے جو تبسم مجھ کو

مر کے راحت تو ملی پر یہ ہے کھٹکا باقی
آکے عیسٰی نہ سر بالیں کہیں قم مجھ کو

میں ترا عکس تھا اس آئینہء ہستی میں
تونے کیا پھیر لیا منہ کہ کیا گم مجھ کو

کعبہء رُخ کی طرف پڑھنی ہے آنکھوں سے نماز
چاہئے گردِ نظر بہر تیمم مجھ کو

ہوں میں مشتاق شہادت کہیں حسرت تو مٹے
خاطر غیر ہی سے قتل کرو تم مجھ کو

لالہ و گل ہوں، خس و خار ہوں، یارب کیا ہوں
ڈوبتا ہوں تو ڈبوتا نہیں قلزم مجھ کو

نہیں معلوم وہ مہمان ہوئے ہیں کس کے
آج گھر گھر لئے پھرتا ہے توہم مجھ کو

وائے قسمت کہ یہاں قتل کی حسرت ہے امیر
اور وہ سمجھے ہیں سزاوار ترحم مجھ کو

میرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا

Verses

میرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا

پس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتا
وہ سر مزار ہوتا، میں تہِ مزار ہوتا

ترا میکدہ سلامت، ترے خم کی خیر ساقی
مرا نشہ کیوں اُترتا، مجھے کیوں‌ خمار ہوتا

مرے اتقا کا باعث تو ہے مری ناتوانی
جو میں توبہ توڑ سکتا تو شراب خوار ہوتا

میں ہوں‌ نامراد ایسا کہ بلک کے یاس روتی
کہیں پا کے آسرا کچھ جو امیدوار ہوتا

نہیں پوچھتا ہے مجھ کو کوئی پھول اس چمن میں
دلِ داغدار ہوتا ہو گلے کا ہار ہوتا

وہ مزا دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یارب
مرے دونوں پہلوؤں میں دل بیقرار ہوتا

دمِ نزع بھی جو وہ بُت مجھے آکے منہ دکھاتا
تو خدا کے منہ سے اتنا نہ میں شرمسار ہوتا

نہ مَلَک سوال کرتے، نہ لحد فِشار دیتی
سر راہِ کوئے قاتل جو مرا مزار ہوتا

جو نگاہ کی تھی ظالم تو پھر آنکھ کیوں چُرائی
وہی تیر کیوں نہ مارا جو جگر کے پار ہوتا

میں زباں سے تم کو سچا کہوں لاکھ بار کہہ دوں
اسے کیا کروں کہ دل کو نہیں اعتبار ہوتا

مری خاک بھی لحد میں نہ رہی امیر باقی
انہیں مرنے ہی کا اب تک نہیں اعتبار ہوتا

اُٹھو گلے سے لگا لو، مٹے گلہ دل کا

Verses

اُٹھو گلے سے لگا لو، مٹے گلہ دل کا
ذرا سی بات میں ہوتا ہے فیصلہ دل کا

دم آکے آنکھوں میں اٹکے تو کچھ نہیں کھٹکا
اٹک نہ جائے الٰہی معاملہ دل کا

تمہارے غمزوں نے کھوئے ہیں ہوش و صبرو قرار
انہیں لٹیروں نے لوٹا ہے قافلہ دل کا

خدا ہی ہے جو کڑی چتونوں سے جان بچے
ہے آج دل شکنوں سے مقابلہ دل کا

امیر بھُول بھُلیاں ہے کوچہء گیسو
تباہ کیوں نہ پھرے اس میں قافلہ دل کا

وہ کہتے ہیں، نکلنا اب تو دروازے پہ مشکل ہے

Verses

وہ کہتے ہیں، نکلنا اب تو دروازے پہ مشکل ہے
قدم کوئی کہاں رکھے؟ جدھر دیکھو اُدھر دل ہے

کہیں ایسا نہ ہو تجھ پر بھی کوئی وار چل جائے
قضا ہٹ جا کہ جھنجھلایا ہوا اِس وقت قاتل ہے

طنابیں کھینچ دے یارب، زمینِ کوئے جاناں کی
کہ میں ہوں ناتواں، اور دن ہے آخر، دور منزل ہے

مرے سینے پہ رکھ کر ہاتھ کہتا ہے وہ شوخی سے
یہی دل ہے جو زخمی ہے، یہی دل ہے جو بسمل ہے

نقاب اُٹھی تو کیا حاصل؟ حیا اُٹھے تو آنکھ اُٹھے
بڑا گہرا تو یہ پردہ ہمارے اُنکے حائل ہے

الہٰی بھیج دے تربت میں کوئی حور جنت سے
کہ پہلی رات ہے، پہلا سفر ہے، پہلی منزل ہے

جدھر دیکھو اُدھر سوتا ہے کوئی پاؤں پھیلائے
زمانے سے الگ گورِ غریباں کی بھی محفل ہے

عجب کیا گر اُٹھا کر سختیِ فرقت ہوا ٹکڑے
کوئ لوہا نہیں، پتھر نہیں، انساں‌ کا دل ہے

سخی کا دل ہے ٹھنڈا گرمیِ روزِ قیامت میں
کہ سر پر چھَترِرحمت سایہء دامانِ سائل ہے

امیرِ خستہ جاں کی مشکلیں آساں ہوں یارب
تجھے ہر بات آساں ہے اُسے ہر بات مشکل ہے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer