اختر ضیائی

اک نظر سوئے بام کر چلئے

Verses

اک نظر سوئے بام کر چلئے
چلتے چلتے سلام کر چلئے

گردشِ وقت سے نکل کے ذرا
شرکتِ دورِ جام کر چلئے

ہوش کی دُھوپ جی جلاتی ہے
خم کے سائے میں شام کر چلئے

کیوں نہ ایامِ عشرتِ فانی
مہ جبینوں کے نام کر چلئے

عشق کے راستے ہیں ناہموار
اب ذرا مجھ کو تھام کر چلئے

کاروبارِ وفا چلانے کو
رسمِ وحشت کو عام کر چلئے

کچھ تو نام و نشاں رہے اختر
کچھ تو دنیا میں کام کر چلئے

کیاری کیاری صحن چمن میں گو تھے عام پریشاں پُھول

Verses

کیاری کیاری صحن چمن میں گو تھے عام پریشاں پُھول
فصلِ بہاراں آتے ہی پر ہو گئے چاک گریباں پُھول

پریت لگا کر جس کو ساجن بیکل تنہا چھوڑ گیا
کوئل کی فریاد پہ بُلبُل گم سم حیراں حیراں پُھول

جھیل کنارے ساون رُت میں جیسے پریوں کا میلہ
حدِ نظر تک نیلے نیلے اُجلی دُھوپ میں رخشاں پُھول

حسب توقع توڑ کے ہم بھی زلفوں میں اٹکا دیتے
کاش گلستاں میں مل جاتے ان کی شان کے شایاں پُھول

جھلھل کرتے نیل گگن میں چُھپ گئے روشن تارے، اور
ڈالی ڈالی رو کر شبنم کر گئی اور نمایاں پُھول

تیری یاد میں میں ہوں جیسے جنگل جنگل روتی اوس
مجھ کو بھول کے تو ہے جیسے گلشن گلشن خنداں پُھول

لمبی عمروں والے کانٹے سب کو دکھ پہنچاتے ہیں
اختر دل کو موہ لیتے ہیں پل دو پل کے مہماں پُھول

ظلمتوں کے پروردہ روشنی سے ڈرتے ہیں

Verses

ظلمتوں کے پروردہ روشنی سے ڈرتے ہیں
موت کے یہ سوداگر زندگی سے ڈرتے ہیں

علم ہی وہ طاقت ہے، خوف کی جو دشمن ہے
مصلحت کے خوشہ چیں آگہی سے ڈرتے ہیں

دشمنوں کی نیت تو ہم پہ خوب ظاہر تھی
پر قریب لوگوں کی دوستی سے ڈرتے ہیں

جن کو فرض کی خاطر راستی پہ مرنا ہو
کچھ بھی کر گزرنا ہو، کب کسی سے ڈرتے ہیں !

جانے کس گھڑی کھل کر حرفِ آرزو کہہ دے
ہم کو فکر کانٹوں کی، وہ کلی سے ڈرتے ہیں

پائیں گی توجہ گو جذب و جوش کی باتیں
عقل و ہوش والے تو خامشی سے ڈرتے ہیں

وہ کہ جو سمجھتے ہیں فکر و فن کو بے معنی !
جانے کس لئے اختر شاعری سے ڈرتے ہیں

ریزہ ریزہ بکھر گئے ہم بھی

Verses

ریزہ ریزہ بکھر گئے ہم بھی
کشتِ جاں سے گزر گئے ہم بھی

وقت ناساز گار تھا پھر بھی
کچھ نہ کچھ کام کر گئے ہم بھی

ہم کہ صبحِ ازل کے بھولے تھے
شام آئی تو گھر گئے ہم بھی

کچھ تو ظلمت کا تُند تھا ریلا
کچھ مثالِ شرر گئے ہم بھی

بجھ گئی آرزُو کی چنگاری
جس کے بجھتے ہی مر گئے ہم بھی!

باغِ ہستی میں پُھول کی مانند
دو گھڑی شاخ پر گئے ہم بھی

پاسِ عہد وفا رہا اختر
یوں تو ڈرنے کو ڈر گئے ہم بھی

رعنائی دستورِ مشیت کی ادا ہوں

Verses

رعنائی دستورِ مشیت کی ادا ہوں
آئینہ صفت پرتوِ آئینہ نما ہوں

ہر چند تیری یاد میں جاں سوز خلش ہے
ہمت ہے کہاں پھر بھی تجھے بھولنا چاہوں

جُز اشک میں کچھ دے نہ سکا ارضِ وطن کو
بادل ہوں مگر دشت کے دامن سے اٹھا ہوں

فرصت ہو تو پل بھر کے لیے غور سے دیکھیں!
بھولے ہوئے لمحوں کا میں پیمانِ وفا ہوں

پیتا ہوں تیری چشمِ بلا خیز کے ساغر
گرادبِ بلا ہوں کبھی ہم دوشِ صبا ہوں

پابندئ آدابِ تمنا سے نکل کر
لو آج میں دیوارِِ خرد پھاند گیا ہوں

ہستی کی کڑی دھوپ نے جُھلسا دیا اختر
اس راہ میں ہر گام پہ مر مر کے جیا ہوں

اُس کو منزل ملی نہ گھر ہی رہا

Verses

اُس کو منزل ملی نہ گھر ہی رہا
تم سے بچھڑا تو در بدر ہی رہا

آنکھ کچھ منظروں پہ رکتی رہی
دل تو آمادہء سفر ہی رہا

ایک عالم کی فکر تھی جس کو
میری حالت سے بےخبر ہی رہا

خوف سے کانپ کانپ جاتا تھا
زرد پتہ جو شاخ پر ہی رہا

دوسروں کے جو عیب گنتا تھا
حیف تا عمر بےہُنر ہی رہا

زیست صد جشنِ آرزو ٹھہری
یہ فسانہ بھی مختصر ہی رہا

وسعتِ کائنات میں اختر
جلتا بجھتا سا اک شرر ہی رہا

میں سبک نوش ہوں مری گلرُو

Verses

میں سبک نوش ہوں مری گلرُو
مجھ کو کافی ہے انکھڑیوں کا سبُو

ایک بےنام بےکلی سی ہے
اے دلِ زار چل گیا جادُو

صبح ِ تمثیل ہیں تیرے عارض
شام آثار ہیں تیرے گیسُو

ترے دیدارِ یک نظر کے نثار
آنکھ کا نُور اور جگر کا لہُو

آہ عہدِ شباب کے لمحے
وحشت آموز دشت کے آہُو

عشق سے بھی مفر نہیں لیکن
زیست کے اور بھی تو ہیں پہلُو

چشمِ بینا کے واسطے اختر
ان کے جلوے ہیں ہر کہیں ، ہر سُو!

کنجِ زنداں فرازِ دار قبول

Verses

کنجِ زنداں فرازِ دار قبول
یعنی ہر ہدیۂ بہار قبول

شوکت دوجہان تج بیٹھے
تھی جنہیں تیری رہگزار قبول

تا بہ کے زیست سے نبھا سکتے
کر لی آخر ہمیں نے ہار قبول

شرط اک جلوہء بےحجابانہ!
حشر تک ہم کو انتظار قبول

ہم اذیت پسند لوگوں نے
پھول دے کر کئے ہیں خار قبول

بعض اوقات زہر بھی ساقی!
ہنس کے کرتے ہیں میگسار قبول

کتنے نادان تھے ہم بھی اے اختر
کر لیا آگہی کا بار قبول

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer