Akbar Allahabadi (Syed Akbar Hussain)Akbar (1846–1921)

محسن نقوی تو نے اس موڑ پہ توڑا ھے تعلق کہ جہاں

Verses

محسن نقوی تو نے اس موڑ پہ توڑا ھے تعلق کہ جہاں
میر تقی میر جامۂ مستیِ عشق اپنا مگر کم گھیر تھا
محسن نقوی جانے اب کس دیس ملیں گے اونچی ذاتوں والے لوگ
محسن نقوی جب تیری دھن میں جیا کرتے تھے
میر تقی میر جب جنوں سے ہمیں توسل تھا
محسن نقوی جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ھر رستہ سنسان ھوا
خالد شریف جب سے قلم کو حنامئہ مانی بنا لیا
محسن نقوی جس کی قسمت ہی در بدر ٹھہرے
محسن نقوی جن پر ستم تمام قفس کی فضا کے تھے
محسن نقوی جو شہر مِٹ چکے ہیں وہ آباد کب ہوُئے؟
محسن نقوی جگنو،گہر،چراغ،اجالے تو دے گیا
میر تقی میر جی اپنا میں نے تیرے لیے خوار ہو دیا
محسن نقوی جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ھے
خالد شریف خواب در خواب لکھ رہا ہوں میں
محسن نقوی خواہشوں کے زہر میں اخلاص کا رس گھول کر
Novoline online spielen. Book of Ra downloaden und bei den games im casino gewinnen!

ہنگامہ ہے کیوں برپا ٹھوڑی سی جو پی لی ہے

Verses

ہنگامہ ہے کیوں برپا ٹھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں مارا، چوری تو نہیں کی ہے

نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ باتیں ہیں
اس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے

اس مے سے نہیں مطلب، دل جس سے ہے بیگانہ
مقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے

اے شوق وہی مے پی، اے ہوش ذرا سو جا
مہمانِ نظر اس دم اک برق تجلی ہے

واں دل میں کہ صدمے دو، یاں جی میں کہ سب سہہ لو
ان کا بھی عجب دل ہے، میرا بھی عجب جی ہے

ہر ذرہ چمکتا ہے انوارِ الٰہی سے
ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے

سورج میں لگے دھبا، فطرت کے کرشمے ہیں
بت ہم کو کہیں کافر، اللہ کی مرضی ہے

اجل سے وہ ڈریں جینے کو جو اچھا سمجھتے ہیں

Verses

اجل سے وہ ڈریں جینے کو جو اچھا سمجھتے ہیں
یہاں ہم چار دن کی زندگی کو کیا سمجھتے ہیں

ہمیں ہے خاکساری میں بھی ڈر محسور ہونے کا
اسے بھی ہم غبارِ خاطرِ اعداء سمجھتے ہیں

تمہاری ناخوشی کا ڈر ہمیں مجبور رکھتا ہے
نہیں تو اے صنم اغیار کو ہم کیا سمجھتے ہیں

یقین کفار کو آتا نہیں روزِ قیامت کا
اُسے بھی وہ تمہارا وعدہء فروا سمجھتی ہیں

جنوں زائل ہوا ہوش آگیا صحت ہوئی ہم کو
بڑے عیار ہو تم اب تو ہم اتنا سمجھتے ہیں

کس و ناکس سے کیوں سرگوشیاں کرتے ہو محفل میں
خبر بھی ہے کہ لوگ اپنے دلوں میں کیا سمجھتے ہیں

رہےسرسبز گلشن ان کی بزم عیش و عشرت کا
نکل جاؤں میں مجھ کو اگر کانٹا سمجھتے ہیں

نگاہوں کے اشارے سے جو حکم اٹھنے کاہوتا ہے
مجھےبھی کیا آپ درد دل شیدا سمجھتے ہیں

میں اپنے نقددل سےجنس الفت مول لیتا ہوں
اطباکو ذرا دیکھو اسے سودا سمجھتے ہیں

اسے ہم آخرت کہتے ہیں جو مشغول حق رکھے
خدا سے جو کرے غافل اسے دنیا سمجھتے ہیں

نثار اپنے تصور کےکہ جس کے فیض سے ہر دم
جو ناپیدا ہے نظروں سے اسے پیدا سمجھتے ہیں

وہ ہم کو کچھ نہ سمجھیں اے رقیبو اختیار ان کا
یہ تم کیوں ناخوش ہو اتنے وہ تمہیں کیا سمجھتے ہیں

یہی رُخ ہے کہ جس پر پھول کا اطلاق ہوتا ہے
یہی آنکھیں ہیں جن کو نرگسِ شہلا سمجھتے ہیں

تُو وہ برقِ تجلّی ہے کہ تیرے دیکھنے والے
ترے نقش کفِ پا کو یِد بیضا سمجھتے ہیں

غزل اک اور پڑھئیےآج ایسے رنگ میں اکبر
کہ اربابِ بصیرت جس کو عبرت زا سمجھتے ہیں

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارہ نہیں ہوتا

Verses

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارہ نہیں ہوتا
آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا

جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیا
بلبل گلِ تصویر کا شیدا نہیں ہوتا

اللہ بچائے مرضِ عشق سے دل کو
سنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا

تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گلِ تر سے
ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer