
اسے اپنے کل ہی کی فکر تھی وہ جو میرا واقفِ حال تھا
وہ جو اسکی صبحِ عروج تھی وہ میرا وقتِ زوال تھا
مرا درد کیسے وہ جانتا مری بات کیسے وہ مانتا
وہ تو خود فنا ہی کے ساتھ تھا اسے روکنا بھی محال تھا

جاتے ہوئے اک بار تو جی بھر کے رُلائیں
ممکن ہے کہ ہم آپ کو پھر یاد نہ آئیں
ہم چھیڑ تو دیں گے ترا محبوب فسانہ
کھنچ آئیں گی فردوس کی مدہوش فضائیں
پھر تشنہ لبی زخم کی دیکھی نہیں جاتی

بگڑ کے مجھ سے وہ میرے لئے اُداس بھی ہے
وہ زودِ رنج تو ہے، وہ وفا شناس بھی ہے
تقاضے جِسم کے اپنے ہیں، دل کا مزاج اپنا
وہ مجھ سے دور بھی ہے، اور میرے آس پاس بھی ہے

اک محبت کے عوض ارض و سما دے دوں گا
تجھ سے کافر کو تو میں اپنا خدا دے دوں گا
جستجو بھی مرا فن ہے ، مرے بچھڑے ہوئے دوست!
جو بھی در بند ملا ، اس پہ صدا دے دوں گا

اپنے ماحول سے بھی قیس کے رشتے کیا کیا
دشت میں آج بھی اُٹھتے ہیں بگولے کیا کیا
عشق معیار وفا کو نہیں کرتا نیلام
ورنہ ادراک نے دکھلائے تھے رستے کیا کیا
جیسے ہم آدم و حوا کی سزا بھول گئے

اشک تھا، چشمِ تر کے کام آیا
مَیں بشر تھا، بشر کے کام آیا
میری قسمت میں شب تھی، لیکن مَیں
شمع بن کر سحر کے کام آیا
روح میری، شجر کی چھاؤں بنی
جسم، گردِ سفر کے کام آیا

خاک پر خلدِ بریں کی باتیں
چاند پر جیسے زمیں کی باتیں
دل سے اِک شمع جبیں کی باتیں
اُسی محفل میں وہیں کی باتیں
لبِ دشمن کو بھی شیریں کردیں
اس کے حُسنِ نمکیں کی باتیں
وہم سے بو قلموں کون و مکاں
ورنہ یک رنگ، یقیں کی باتیں
دل کا پتھّر نہ کسی سے پگھلا
لوگ کرتے رہے دیں کی باتیں
میرے ناقد! میرا موضوعِ سخن
یہی دنیا ہے، یہیں کی باتیں