
غزل کو پھر سجا کے صورت محبوب لایا ھوں
سنو اہل سخن! میں پھر نیا اسلوب لایا ھوں
کہو دست محبت سے ھر اک در پر یہ دستک کیوں
کہا سب کے لیے میں پیار کا مکتوب لایا ھوں

پوچھا ھے کیسے درد کو روپوش کر دیا
کہہ دو کہ ھم نے غم کو فراموش کر دیا
پوچھا ھے نور شمع کی رفتار کیا ہوئی
کہہ دو کہ اس کو صبح نے خاموش کر دیا
پوچھا ھے لب ہلے ہیں صدا کے بغیر کیوں

اس نے کہا ھم آج سے دلدار ھو گئے
سب لوگ اس کے دل کے طلبگار ھو گئے
اس نے کہا کہ ایک حسیں چاہیے مجھے
سارے ہی لوگ زینت بازار ھو گئے
اس نے کہا کہ صاحب کردار ھے کوئی

کہو کہ سب سے بڑی خوشی کون سی ملی ھے
کہا یہ کم تو نہیں ھے جو زندگی ملی ھے
بتاؤ آنکھوں کو اشک کیوں دیدئیے گئے ہیں
کہا کہ ھونٹوں کو دیکھ جن کو ھنسی ملی ھے
بتاؤ وہ چاندنی جو دن میں چمک رہی ھو

کہا چھپ کر محبت کا مجھے اظہار کرنا ھے
جواب آیا کہ یہ سودا سر بازار کرنا ھے
کہا آ کر کہاں مجھ کو ترا دیدار کرنا ھے
جواب آیا زمانے کا سمندر پار کرنا ھے
کہا دل صاف کرنے کا طریقہ چاہیے کوئی

کہو تلوے چھلے دیکھے، رہ دشوار کو دیکھا
کہا یوں ہی نہیں اس جادہٴ ھموار کو دیکھا
کہا دیکھا کرن کی نوک پر سورج کا آئینہ
کہو اب تک کسی بھی آئینہ بردار کو دیکھا

اس نے کہا کہ دل میرا آزاد ھو گیا
ھر کوئی جال تھام کے صیاد ھو گیا
اس نے کہا کہ آ کسی جنگل میں جا بسیں
سارا ہی شہر دشت میں آباد ھو گیا
اس نے کہا کسی کو مدد چاہیے مری

اس نے کہا ھم آج سے غمخوار ھو گئے
ھمدردیوں کے سب ہی طلبگار ھو گئے
اس نے کہا ملائے مری ہاں میں ہاں کوئی
سب لوگ اس کے حاشیہ بردار ھو گئے
اس نے کہا ملے کوئی پتلا خطاؤں کا