<b>Adeem Fasihuddin Hashmi</b> was a famous Urdu poet, arguably the finest ever works of Urdu ghazal are attributed to his name. He was born in Faisalabad, Pakistan in 1946 but lived most of his life between Pakistan, and America where he died. He started his journey of writing in Lahore, Pakistan. Arguably the finest poet of his time Adeem was the most controversial writer in Urdu poetry in the 70's and 90's. He rose to instant fame in the community with his poems 'Kat hi Gaye Judaie bhi' and ‘Faasle Aise Bhi Honge’ in the late 60's. This came at a time when the poetic tone was set high and strong in the country. Adeem had many poems catered by the critiques at a level which most poets didn't enjoy. This created some controversies and conflicts amongst the political lines that poets were eagerly drawing on the map. Adeem's natural flair and style was fresh and different and he had the sense to realize the need of the time and age around him. Even though most poets of high esteem were sunk in romance and nature, his chose basic fundamentals of revolt and complimented that with personal confrontation as an analogy.<br/><br/>
<b>Poetic career</b>
Adeem had a very sudden rise in the poetic circles and created strong impressions on the Ghazal arena. Adeem had a very strong list of contemporaries like Shakeb Jalali, Nasir Kazmi and Ahmed Faraz who had already set the stage for poetry to be recognized and admired amongst the mass. Adeem came at a time where the fellowship of an already set poetic dialect of the meter was set as a convention. He instead at an early age started his own and experimented successfully. Adeem’s fans for this reason were fewer but were strong followers of his works. Adeem’s following created clubs and societies which accepted only similar works of Shakaib and Iqbal.
<br/><br/>
Our readers mostly find <b> Adeem Hashmi </b> With following related searches :
<b> Poetry Of Adeem Hashmi </b> <br/>
<b> Adeem Hashmi Poetry </b> <br/>
<b> Adeem Hashmi </b> <br/>
<b> عدیم ہاشمی </b> <br/>

You can search through our site for content related to <b>Adeem Hashmi</b>. If you want to add some content related to <b>Adeem Hashmi</b> then use <a title="Add New Content Here" href="/node/add/ghazal">This Link</a>

غزل کو پھر سجا کے صورت محبوب لایا ھوں

Verses

غزل کو پھر سجا کے صورت محبوب لایا ھوں
سنو اہل سخن! میں پھر نیا اسلوب لایا ھوں

کہو دست محبت سے ھر اک در پر یہ دستک کیوں
کہا سب کے لیے میں پیار کا مکتوب لایا ھوں

کہو پنہاں کیا ھے کیا دل پردہ نشیں ھم سے
کہا وصل نہاں کی خواھش محجوب لایا ھوں

کہو کیا داستاں لائے ھو دل والوں کی بستی سے
کہا اک واقعہ میں آپ سے منسوب لایا ھوں

کہو یہ جسم کس کا، جاں کس کی، روح کس کی ھے
کہا تیرے لیے سب کچھ مرے محبوب لایا ھوں

کہو کیسے مٹا ڈالوں انا، میں التجا کر کے
کہا میں بھی تو لب پر عرض نامطلوب لایا ھوں

کہو سارا جہاں کیسے تمہارے گھر کے باہر ھے
کہا سب جس کے دیوانے ہیں وہ محبوب لایا ھوں

کہو ٹوٹے ھوئے شیشے پہ شبنم کی نمی کیسی
کہا قلب شکستہ، دیدہٴ مرطوب لایا ھوں

کہو غم لائے ھو کتنا محبت میں بچھڑنے کا
کہا بس یہ سمجھ لو گریہٴ یعقوب لایا ھوں

کہا تکلیف لایا ھوں نہیں ھے انتہا جس کی
کہا میں بھی وہیں سے دامن ایوب لایا ھوں

کہو غواص کیا لائے ھو بحر دل کے غوطے سے
کہا لایا ھوں جو کچھ بھی بہت ہی خوب لایا ھوں

کہا کیا لے کے آئے ھو جہان بیوفائی سے
کہا اک چشم حیراں اک دل مضروب لایا ھوں

کہو تحفہ عدیم اشعار میں کیا لے کے آئے ھو
کہا شعروں کی سولی پر دل مصلوب لایا ھوں

پوچھا ھے کیسے درد کو روپوش کر دیا

Verses

پوچھا ھے کیسے درد کو روپوش کر دیا
کہہ دو کہ ھم نے غم کو فراموش کر دیا

پوچھا ھے نور شمع کی رفتار کیا ہوئی
کہہ دو کہ اس کو صبح نے خاموش کر دیا

پوچھا ھے لب ہلے ہیں صدا کے بغیر کیوں
کہہ دو کہ ھم نے سب کو گراں گوش کر دیا

پوچھا ھے اتنے زور سے کانوں پہ ہاتھ کیوں
کہہ دو کہ ھم نے دھر کو خاموش کر دیا

پوچھا ھے وہ جو ایک گنہگار حسن تھا
کہہ دو کہ اس کو واصل آغوش کر دیا

پوچھا ھے رات بات کوئی کیوں نہ ھو سکی
کہہ دو خمار قرب نے مدھوش کر دیا

پوچھا ھے میں کہاں، وہ اکیلا چلا گیا
کہہ دو کہ اس کو وصل میں روپوش کر دیا

پوچھا ھے کس طرح سے ھوئی اتنی پیش رفت
کہہ دو کہ شوق وصل نے پر جوش کر دیا

پوچھا ھے کیسے اتنی محبت امڈ پڑی
کہہ دو عدیم ھم نے کوئی دوش کر دیا

اس نے کہا ھم آج سے دلدار ھو گئے

Verses

اس نے کہا ھم آج سے دلدار ھو گئے
سب لوگ اس کے دل کے طلبگار ھو گئے

اس نے کہا کہ ایک حسیں چاہیے مجھے
سارے ہی لوگ زینت بازار ھو گئے

اس نے کہا کہ صاحب کردار ھے کوئی
اک پل میں لوگ صاحب کردار ھو گئے

اس نے کہا کہ مجھے مری تعمیر چاہیے
جو خشت وسنگ بار تھے معمار ھو گئے

اس نے کہا یہاں پہ کوئی باخبر بھی ھے
جو بے خبر تھے وہ بھی خبردار ھو گئے

اس نے کہا کہ طالب دیدار ھے کوئی
اندھے بھی اس کے طالب دیدار ھو گئے

اس نے کہا کسی کو مرا وصل چاہیے
انکار کے حروف بھی اقرار ھو گئے

اس نے کہا کہ قافلہ سالار ھے کوئی
سارے ہی لوگ قافل سالار ھو گئے

اس نے کہا ذرا سا مجھے حسن چاہیے
سارے ہی شہر حسن کے بازار ھو گئے

اس نے کہا کہ تیزیٴ رفتار ھے کہیں
کچھوے عدیم صاحب رفتار ھو گئے

کہو کہ سب سے بڑی خوشی کون سی ملی ھے

Verses

کہو کہ سب سے بڑی خوشی کون سی ملی ھے
کہا یہ کم تو نہیں ھے جو زندگی ملی ھے

بتاؤ آنکھوں کو اشک کیوں دیدئیے گئے ہیں
کہا کہ ھونٹوں کو دیکھ جن کو ھنسی ملی ھے

بتاؤ وہ چاندنی جو دن میں چمک رہی ھو
کہا کہ ھر مہ جبیں کو وہ چاندنی ملی ھے

بتاؤ کیوں کمتروں سے اتنی محبتیں ہیں
کہا انہیں کمتروں سے تو برتری ملی ھے

سنو کہ چودہ برس کا بن باس میں نے کاٹا
مجھے تو سیتا کی شکل یہ شاعری ملی ھے

سنا غزل نے عدیم تازہ کیا ھے تجھ کو
کہا کہ مجھ سے غزل کو بھی تازگی ملی ھے

کہا چھپ کر محبت کا مجھے اظہار کرنا ھے

Verses

کہا چھپ کر محبت کا مجھے اظہار کرنا ھے
جواب آیا کہ یہ سودا سر بازار کرنا ھے

کہا آ کر کہاں مجھ کو ترا دیدار کرنا ھے
جواب آیا زمانے کا سمندر پار کرنا ھے

کہا دل صاف کرنے کا طریقہ چاہیے کوئی
جواب آیا تجھے ہر جرم کا اقرار کرنا ھے

کہا تومیل کرنے سے انا مجروح ہوتی ہے
جواب آیا کہ یہ کانٹا تو دل کے پار کرنا ھے

کہا تسلیم کرنے کے لیے کیا شرط لازم ہے
جواب آیا کہ اپنی ذات سے انکار کرنا ھے

کہا یہ حسن، یہ دولت، یہ نشہ زندگانی کا
جواب آیا ہمیں ہر چیز کو مسمار کرنا ھے

کہو تلوے چھلے دیکھے، رہ دشوار کو دیکھا

Verses

کہو تلوے چھلے دیکھے، رہ دشوار کو دیکھا
کہا یوں ہی نہیں اس جادہٴ ھموار کو دیکھا

کہا دیکھا کرن کی نوک پر سورج کا آئینہ
کہو اب تک کسی بھی آئینہ بردار کو دیکھا

سنو جتنی بلندی، عکس اس کا پست اتنا ہی
کہو دریا کے پانی میں کبھی کہسار کو دیکھا

کہو برسات کی راتوں میں بجلی کی چمک دیکھی
کہا کالے لبادے میں کبھی اس نار کو دیکھا

کہو کیا بھاگتے کسی کی سمت دیوانے
کہا گرتے ھوئے بھی راہ میں دو چار کو دیکھا

سنو تم داستانیں پھر سنا لینا حسینوں کی
کہا تم یہ بتاؤ تم نے میرے یار کو دیکھا

بتا لفظوں کی تصویریں بنا دیں کس طرح تو نے
سنا کرتے تھے شعروں کو ترے اشعار کو دیکھا

سنو تم کیوں کھرے ہی مال کا پرچار کرتے ھو
کہا چلتے ھوئے ایسے ہی کاروبار کو دیکھا

اس نے کہا کہ دل میرا آزاد ھو گیا

Verses

اس نے کہا کہ دل میرا آزاد ھو گیا
ھر کوئی جال تھام کے صیاد ھو گیا

اس نے کہا کہ آ کسی جنگل میں جا بسیں
سارا ہی شہر دشت میں آباد ھو گیا

اس نے کہا کسی کو مدد چاہیے مری
ھر ایک شخص طالب امداد ھو گیا

اس نے کہا عدیم کوئی ایک غمزدہ
ھر ایک نے کہا کہ میں برباد ھو گیا

اس نے مذاق سے کہا فرعون ھے کوئی
سارا ہی شہر ہرمز و شداد ھو گیا

اس نے کہا کہ میرا ٹھکانا دلوں میں ھے
سب کو عدیم اس کا پتہ یاد ھو گیا

اس نے کہا ھم آج سے غمخوار ھو گئے

Verses

اس نے کہا ھم آج سے غمخوار ھو گئے
ھمدردیوں کے سب ہی طلبگار ھو گئے

اس نے کہا ملائے مری ہاں میں ہاں کوئی
سب لوگ اس کے حاشیہ بردار ھو گئے

اس نے کہا ملے کوئی پتلا خطاؤں کا
قسمیں اٹھا کے سب ہی خطاکار ھو گئے

اس نے کہا غریب جو خدمت گزار ھو
زردار زر کو پھینک کے نادار ھو گئے

اس نے کہا کہ یار طرحدار کوئی ایک
جتنے تھے یار سارےطرحدار ھو گئے

اس نے کہا چلو تو ذرا بتکدے چلیں
جو دیوتا تھے اس کے پرستار ھو گئے

اس نے کہا کہ جان کوئی دے مرے لیے
سب لوگ ہی روانہ سوئے دار ھو گئے

اس نے کہا کہ نیند سے بیدار ھے کوئی
جو مر گئے تھے موت سے بیدار ھو گئے

اس نے کہا کہ بال ذرا میں بنا نہ لوں
سب لوگ اس کے آئینہ بردار ھو گئے

اس نے کہا علاج ترا پیار ھے عدیم
سب لوگ اس کے سامنے بیمار ھو گئے

بتا جو ابر آئے تھے وہ ابر کیسے چھٹ گئے

Verses

بتا جو ابر آئے تھے وہ ابر کیسے چھٹ گئے
بتا کہ خشک کھیتیوں کے ہونٹ کیسے پھٹ گئے

بتا کہ درمیاں جگہ بنی تو کس طرح
کہا کہ وہ سمٹ گیا ذرا سا ھم سمٹ گئے

بتا دلوں کے فاصلے طویل کس طرح ہوئے
کہا کہ وہ ھٹ گیا ذرا سا ھم بھی ھٹ گئے

بتا کنار آب کا کوئی عجیب واقعہ
کہا کہ ثقل آب سے جو عکس تھے الٹ گئے

بتاؤ یہ معاشرہ کوئی ملاپ دیکھ لے
کہا اسی خیال سے عدیم ھم پلٹ گئے

کہو تو کیسا نظارہٴ انتظار دیکھا

Verses

کہو تو کیسا نظارہٴ انتظار دیکھا
کہا زمیں سے فلک تلک بیقرار دیکھا

کہو کہ اشکوں نے ضبط کا ہاتھ کیسے چھوڑا
کہا کہ مدت کے بعد اک غمگسار دیکھا

کہو کہ ساری صدائیں دے دی ہیں تم نے اس کو
کہا کہ اگلے جہان تک تو پکار دیکھا

کہو کہ پھولوں کی آرزو کس کے دل میں دیکھی
کہا کہ جس کے گلے میں کانٹوں کا ہار دیکھا

کہو جو لہروں میں گھر گیا تھا اس کا کیا بنا تھا
کہا اسی کو عدیم دریا کے پار دیکھا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer