
اِسی لیے مرا سایہ مجھے گوارا نہیں
یہ میرا دوست ہے لیکن مرا سہارا نہیں
یہ مہر و ماہ بھی آخر کو ڈوب جاتے ہیں
ہمارے ساتھ کسی کا یہاں گذارا نہیں
ہر ایک لفظ نہیں تیرے نام میں شامل
ہر ایک لفظ محبت کا استعارہ نہیں
تمہی سے چلتے ہیں سب سلسلے تعلق کے
وہ اپنا کیسے بنے گا کہ جو ہمارا نہیں
اور اب برہنگی اپنی چھپاتا پھرتا ہوں
مرا خیال تھا میں خود پہ آشکارا نہیں
ابھی میں نشۂ لاحاصلی میں رہتا ہوں
ابھی یہ تلخئ دنیا مجھے گوارا نہیں
لیے تو پھرتا ہوں آنکھوں میں ناتمام سا نقش
اُسے مٹاؤں گا کیسے، جسے ابھارا نہیں
زمیں کا حُسن مکمل نہ ہو سکا تابش
کہیں چراغ نہیں ہے، کہیں ستارہ نہیں

کھلا مہتاب بھی ٹوٹے ہوئے دَر کے حوالے سے
سمجھتا ہوں میں اشیاء کو فقط گھر کے حوالے سے
مرے مایوس ہونے سے ذرا پہلے ہی لوٹ آنا
کہ میں بھی سوچتا ہوں اب مقدر کے حوالے سے

وہ کون ہے جو پسِ چشمِ تر نہیں آتا
سمجھ تو آتا ہے لیکن نظر نہیں آتا
اگر یہ تم ہو تو ثابت کرو کہ یہ تم ہو
گیا ہوا تو کوئی لوٹ کر نہیں آتا
یہ دل بھی کیسا شجر ہے کہ جس کی شاخوں پر

دشتِ جنون و کوہِ ارادہ اٹھا لیا
سنبھلے گا کیسے بوجھ تو اتنا اٹھا لیا
اُس لب کے سارے پھول تو شاخوں نے لے لیے
اور میں نے اِک گِرا ہوا وعدہ اٹھا لیا
کیا کچھ نہیں تھا مالِ غنیمت کے طور پر

اِس جہاں میں عجب نہیں کُچھ بھی
پہلے کیا کچھ تھا اب نہیں کُچھ بھی
پُھول کھلتا ہے شاخ سے باہر
خندہء زیرلب نہیں کُچھ بھی
مختصر یہ کہ اچھے لگتے ہو
چاہنے کا سبب نہیں کُچھ بھی

کون کہتا ہے کہ وہ بُھولتا جاتا ہے مُجھے
اپنا چہرہ نہ سہی، رہ تو دکھاتا ہے مُجھے
صُبح کے ساتھ میں کھو جاتا ہوں بچے کی طرح
شام ہوتے ہی کوئی ڈھونڈ کے لاتا ہے مُجھے

شام کا بُھولا ہوا وقتِ سحر آ جائے گا
وہ بھی سورج کی طرح کل لوٹ کر آ جائے گا
اِس قدر شفاف کر دے گی یہ تنہائی مجھے
دیکھنے والوں کو تُو مجھ میں نظر آ جائے گا

بوئے موجود سے موہوم اشارے تک ہے
میری حیرت کسی ڈوبے ہوئے تارے تک ہے
ہم نے اِک عمر ترے دھیان میں رہ کر دیکھا
یہ سمندر بھی کسی اور کنارے تک ہے
تجھ مہک کو نہ ملا کوئی اور ہواؤں جیسا