عاطف سعید

عجب پاگل سی لڑکی ہے

Verses

عجب پاگل سی لڑکی ہے
مجھے ہر خط میں لکھتی ہے
مجھے تم یاد کرتے ہو؟ تمھیں میں یاد آتی ہوں؟
میری باتیں ستاتی ہیں
مری نیندیں جگاتی ہیں
مری آنکھیں رُلاتی ہیں
دسمبر کی سنہری دھوپ میں اب بھی ٹہلتے ہو
کسی خاموش رستے سے کوئی آواز آتی ہے؟
ٹھٹھرتی سرد راتوں میں تم اب بھی چھت پہ جاتے ہو
فلک کے سب ستاروں کو میری باتیں سناتے ہو
کتابوں سے تمھارے عشق میں کوئی کمی آئی؟
یا میری یاد کی شدّت سے آنکھوں میں نمی آئی؟
عجب پاگل سی لڑکی ہے
مجھے ہر خط میں لکھتی ہے

جواباَ اس کو لکھتا ہوں
میری مصروفیت دیکھو
صبح سے شام آفس میں چراغِ عمر جلتا ہے
پھر اس کے بعد دُنیا کی کئی مجبوریاں پاؤں میں بیڑی ڈال رکھتی ہیں
مجھے بےفکر، چاہت سے بھرے سسپنے نہیں دِکھتے
ٹہلنے، جاگنے، سونے کی فرصت ہی نہیں ملتی
ستاروں سے ملے عرصہ ہوا ناراض ہوں شاید
کتابوں سے شغف میرا ابھی ویسے ہی قائم ہے
فرق اتنا پڑا ہے اب انہیں عرصہ میں پڑھتا ہوں
تمھیں کس نے کہا پگلی تمھیں میں یاد کرتا ہوں؟
کہ میں خود کو بھلانے کی مسلسل جستجو میں ہوں
تمھیں نہ یاد آنے کی مسلسل جستجو میں ہوں
مگر یہ جستجو میری بہت ناکام رہتی ہے
مرے دن رات میں اب بھی تمھاری شام رہتی ہے
مرے لفظوں کی ہر مالا تمھارے نام رہتی ہے

تمھیں کس نے کہا پگلی مجھے تم یاد آتی ہو؟
پُرانی بات ہے جو لوگ اکثر گنگناتے ہیں
انہیں ہم یاد کرتے ہیں جنھیں ہم بھول جاتے ہیں
عجب پاگل سی لڑکی ہو
مری مصروفیت دیکھو
تمھیں دل سے بھلاؤں تو تمھاری یاد آئے نا!
تمھیں دل سے بھلانے کی مجھے فرصت نہیں ملتی
اور اس مصروف جیون میں
تمھارے خط کا اِک جملہ
" تمھیں میں یاد آتی ہوں "
مری چاہت کی شدت میں کمی ہونے نہیں دیتا
بہت راتیں جگاتا ہے مجھے سونے نہیں دیتا
سو اگلی بار اپنے خط میں یہ جملہ نہیں لکھنا!
عجب پاگل سی لڑکی ہے، مجھے پھر بھی یہ لکھتی ہے
مجھے تم یاد کرتے ہو؟ تمھیں میں یاد آتی ہوں؟

خوشی کو بانٹنے والو

Verses

خوشی کو بانٹنے والو

مرے ہمراہ چلتے ہو
میں ہنستا ہوں تو ہنستے ہو
سبھی کو یہ بتاتے ہو
کہ تم مجھ کو سمجھتے ہو
خوشی کے سب زمانے تو
اکٹھے ہم نے دیکھے ہیں
مگر غم کی سیہ راتیں
جو مجھ کو گھیر لیتی ہیں
میں تم کو ڈھونڈتا ہوں تب
کہ شاید روشنی بن کر
سیہ راتوں کو تم دن میں
بدلنے کو چلے آؤ
مگر ایسا نہیں ہوتا
سیہ راتوں کے چنگل سے
چھڑانے تم نہیں آتے
تمہیں اتنا ہی کہنا ہے
میں ہنستا ہوں تو ہنستے ہو
کبھی روتا ہوا دیکھو
تو میرے اشک بھی پونچھو
خوشی کو بانٹنے والو!
کبھی غم بانٹنے آو

اس طرح ہوں ترے خیال میں گم

Verses

اس طرح ہوں ترے خیال میں گم
آئینہ ، آئینوں کے جال میں گم

وہ بھی دیتا نہیں خبر اپنی
میں بھی رہتا ہوں اپنے حال میں گم

میں نے پوچھا بچھڑ کے جی لو گے؟
اور وہ ہو گیا سوال میں گم

وقت نے تو سمیٹ لی بازی!
اور وہ رہ گیا ہے چال میں گم

یاد آئی تو دل ہوا روشن
میں رہا پھر اسی اجال میں گم

مجھ سے نظریں چرا کے وہ گزرا
اور میں ہو گیا ملال میں گم

جس کو عاطف یہ عشق نچوائے
کیوں وہ رہتا ہے اس دھمال میں گم

کب ملے غیر کی پناہوں سے

Verses

کب ملے غیر کی پناہوں سے
درد ملتے ہیں آشناؤں سے

خشک پتوں کو ناچتے دیکھا
گیت سنتا رہا ہواؤں سے

مال و زر کی طلب نہیں ہے مجھے
میری جھولی بھرو دعاؤں سے

اور کتنا چلو گے تم آخر
آبلوں نے کہا یہ پاؤں سے

جن کو عادت ہے بے وفائی کی
آؤ جیتیں اُنہیں وفاؤں سے

آؤ اُن کو قریب سے دیکھیں
جل گئے ہیں جو لوگ چھاؤں سے

ہو مسیحا یا پھر دُعا عاطف
درد گھٹتے ہیں کب دواؤں سے

تمناؤں کے سب دَر کھولتا ہے

Verses

تمناؤں کے سب دَر کھولتا ہے
’’تری آنکھوں کا لہجہ بولتا ہے‘‘

چھپانے کی کوئی صورت نہیں ہے
کوئی اوپر سے سب کچھ دیکھتا ہے

سنا ہے بھیگتی ہیں اُس کی پلکیں
وہ جب بھی کچھ خدا سے مانگتا ہے

کہیں سے روشنی لاؤ خدارا!
مرے گھر میں اندھیرا بولتا ہے

مرے چاروں طرف پھیلی ہے خوشبو
یہ لگتا ہے وہ مجھ کو سوچتا ہے

نجانے کیوں مجھے لگتا ہے ایسا
کہ وہ کچھ مجھ سے کہنا چاہتا ہے

کچھ خوشی کے سائے میں اور کچھ غموں کے ساتھ ساتھ

Verses

کچھ خوشی کے سائے میں اور کچھ غموں کے ساتھ ساتھ
زندگی کٹ ہی گئی ہے الجھنوں کے ساتھ ساتھ!

آج تک اُس کی تھکن سے دُکھ رہا ہے یہ بدن!!
اک سفر میں نے کیا تھا خواہشوں کے ساتھ ساتھ

کس طرح کھایا ہے دھوکا کیا بتاؤں میں تمہیں
دوستوں کے مشورے تھے، سازشوں کے ساتھ ساتھ

کس طرح رکھے ہوئے ہیں چاند سورج اک جگہ
نفرتیں بھی پل رہی ہیں چاہتوں کے ساتھ ساتھ

اس دفعہ ساون میں تیری یاد کے بادل رہے
اس دفعہ میں خوب رویا بارشوں کے ساتھ ساتھ

وہ جنہیں میں دوست کہتا تھا بڑے ہی مان سے
صف بہ صف وہ بھی کھڑے تھے دشمنوں کے ساتھ ساتھ

کاش پھر سے لوٹ آئیں پھر وہی بچپن کے دن!
بھاگنا پھولوں کی خاطر تتلیوں کے ساتھ ساتھ

شہر میں کچھ لوگ میرے چاہنے والے بھی ہیں
پھول مجھ کو لگ رہے ہیں پتھروں کے ساتھ ساتھ

محبتوں کا بھرم کھولتے ہیں سناٹے

Verses

محبتوں کا بھرم کھولتے ہیں سناٹے
ہجر کی شب میں بہت بولتے ہیں سناٹے

کسی کسی کو یہ اتنا نواز دیتے ہیں
کسی کسی کو بہت رولتے ہیں سناٹے

رکھے ہیں چاند ستاروں نے ہاتھ کانوں پر
سنا تھا میں نے بہت بولتے ہیں سناٹے

تمہارے بس میں اگر ہو تو جان لو اِن کو
کسی پہ خود کو کہاں کھولتے ہیں سناٹے

سنا ہے میں نے یہ تنہائیوں کے دشمن ہیں
سنا ہے اُن میں زہر گھولتے ہیں سناٹے

یہ میری شاعری ان کی ہی اک ادا سمجھو
کہ میری سوچ کے در کھولتے ہیں سناٹے

جو سمجھو پیار محبت کا اتنا افسانہ ہوتا ہے

Verses

جو سمجھو پیار محبت کا اتنا افسانہ ہوتا ہے
کچھ آنکھیں پاگل ہوتی ہیں، کچھ دل دیوانہ ہوتا ہے

کیوں آنکھیں چوکھٹ پر رکھ کر تم دنیا بھول کے بیٹھے ہو
کب چھوڑ کے جانے والے کو پھر واپس آنا ہوتا ہے

جب پیار کسی سے کرتے ہو کیوں واعظ سے گھبراتے ہو
یہ بات ہی ایسی ہوتی ہے، سب نے سمجھانا ہوتا ہے

یہ آنسو، شکوے، آہیں، سب بے معنی سی زنجیریں ہیں
کب اِن کے باندھے رکتا ہے، وہ جس کو جانا ہوتا ہے

میں تجھ کو کیسے بھولوں گا؟ تو مجھ کو کیسے بھولے گی؟
اک داغ سا باقی رہتا ہے، جب زخم پرانا ہوتا ہے

کچھ لوگ تمہاری محفل میں چپ چاپ اکیلے بیٹھے ہیں
اُن کے چہرے پہ لکھا ہے، جو پیار نبھانا ہوتا ہے

ہم اہلِ محبت کیا جانیں دنیا کی سیاست کو عاطف
کب ہاتھ ملانا ہوتا ہے کب ہاتھ چھڑانا ہوتا ہے

محبت کو بھلانا چاہیے تھا

Verses

محبت کو بھلانا چاہیے تھا
مجھے جی کر دکھانا چاہیے تھا

مجھے تو ساتھ اس کا بھی بہت تھا
اسے سارا زمانہ چاہیے تھا

پرندہ اس لیے بے کل تھا اتنا
اسے بھی آشیانہ چاہیے تھا

تم اُس کے بن ادھورے ہو گئے ہو
تمہیں اُس کو بتانا چاہیے تھا

بہت پھرتا رہا تھا در بدر میں
مجھے بھی اک ٹھکانہ چاہیے تھا

چراغاں ہو رہا تھا شہر بھر میں
ہمیں بھی دل جلانا چاہیے تھا

میں دوستی کے عجب موسموں میں رہتا ہوں

Verses

میں دوستی کے عجب موسموں میں رہتا ہوں
کبھی دعاؤں‘ کبھی سازشوں میں رہتا ہوں

جو تم ذرا سا بھی بدلے تو جان لے لو گے
میں کچھ دنوں سے عجب واہموں میں رہتا ہوں

میں جس طرح سے کبھی دشمنوں میں رہتا تھا
اُسی طرح سے ابھی دوستوں میں رہتا ہوں

قدم قدم پہ ہیں بکھرے ہوئے نقوش مرے
میں تیرے شہر کے سب راستوں میں رہتا ہوں

کیا ہے فیصلہ جب سے چراغ بننے کا
میں اعتماد سے اب آندھیوں میں رہتا ہوں

تمہارے بعد یہ دن تو گذر ہی جاتا ہے
میں شب کو دیر تلک آنسوؤں میں رہتا ہوں

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer