آپ کے، اے مہرباں! آنے تلک

Verses

آپ کے، اے مہرباں! آنے تلک
اپنی گزری خوب مر جانے تلک

ہم پہ کيا بيتے گي، اے شمع ِ مزار
التفات ِ يار کے پانے تلک

روکيے گا کب تلک دہليز پر
ايک دن پہنچيں گے سرہانے تلک

آپ کا چہرا نگاہوں ميں رہے
تيغ کے گردن پہ پھر جانے تلک

مرحبا، اے انتظام ِ کارگاہ !
بوند پہنچائی ہے کيا دانے تلک

ايک ہم ہی بے خبر ٹھہرا کيے
باخبر ہيں ورنہ بيگانے تلک

بھول بيٹھيں گے وہ خود سمجھا ہوا
ديکھنا عامر کو سمجھانے تلک

ابھی ميں محبت کو بھولا نہيں ہوں

Verses

ابھی ميں محبت کو بھولا نہيں ہوں
ميں اپنی عبادت کو بھولا نہيں ہوں

ميرا دل ہے تخت ِ رياضت، ستمگر
ميں تيری رياضت کو بھولا نہيں ہوں

ميری آنکھ ساحل کا کردار ٹھہری
ميں آنسو کی قيمت کو بھولا نہيں ہوں

ہزاروں قيامت گذاریں ہيں ہم نے
مگر اس قيامت کو بھولا نہيں ہوں

بياباں ميں آہو کی سنگت نہ بھائے
کہ ميں تيری سنگت کو بھولا نہيں ہوں

ميں الفت کا ہتھيار چھوڑوں تو کيونکر
کہ تيری عداوت کو بھولا نہيں ہوں

کہا ميں نے، " واعظ، خدا سے ڈرا کر"
وہ بولا کہ " جنت کو بھولا نہيں ہوں"

وہ ہر حال ميں مجھ سے ناخوش رہے گا
زمانے کی عادت کو بھولا نہيں ہوں

ميں بدلا نہيں سب سے مل کر بھی عامر
ميں محفل ميں خلوت کو بھولا نہيں ہوں

اس قدر مجھ سے بڑھی ہے آبروئے انتظار

Verses

اس قدر مجھ سے بڑھی ہے آبروئے انتظار
رفتہ رفتہ لگ گئی ہے مجھ کو خوئے انتظار

ہر قدم پر زندگی ِ صبر مجھ کو دے دعا
مجھ سے بر آئی ہے کتنی آرزوئے انتظار

حق شناسی کی سند منزل نہیں آساں کوئی
پار کرنا شرط بحر ِ مشق و جوئے انتظار

میری آنکھیں ، میرا دل پیاسے ہیں تیری دید کے
کب تلک کرنی پڑے گی جستجوئے انتظار

میری آہیں ، میرے نالے ہوں قبول ِ بارگاہ
حوصلہ دے ، تھک چکا پھر پھر کے کوئے انتظار

کاش کے آوے پسند عامر مخاطب کو کلام
یہ سخن بن جائے تعویذ ِ گلوئے انتظار

اور ہم زندگی کو کيا سمجھے

Verses

اور ہم زندگی کو کيا سمجھے
بے خبر آگہی کو کيا سمجھے

رات دن لب کی سير کرتے رہے
روح کی تشنگی کو کيا سمجھے

چارہ سازوں سے پوچھنا ہے مجھے
وہ ميری دل لگی کو کيا سمجھے

دشمنوں سے بھی ہنس کے ملتے ہيں
دوست ياں دوستی کو کيا سمجھے

فکر تم کو رفوئے زخم کی ہے
ہوش ميں بيخودی کو کيا سمجھے

آرزوئے وصال کرتے ہو
حيف! تم عاشقی کو کيا سمجھے

دل ميں عامر جو آئے کہتے ہو
يہ کہو شاعری کو کيا سمجھے

اک ہم ہيں کہ ہيں بے نياز ِ زخم ہائے شوق

Verses

اک ہم ہيں کہ ہيں بے نياز ِ زخم ہائے شوق
اور وہ ہيں کہ سنتے ہيں نہيں ہيں صدائے شوق

اک بات کہ جو باعث ِ تسکين ِ جاں ہوئي
محفل سجائيں گے کوئی وہ بھي برائے شوق

پاتا ہوں اپنی عمر کو پہلے سے کچھ طويل
شايد کہ لگ گئی ہے مجھے بددعائے شوق

ساقی، تيرے کرم سے ہے دھڑکن رواں مري
مر ہی گيا تھا ميں، جو نہ ملتی دوائے شوق

رکھتا ہوں خوئے ذکر و تفکر، خوشا نصيب!
يا ابتدائے عشق ہے يا انتہائے شوق

دے کر دل و دماغ، ديا مرتبہ مجھے
اک عشق کا ديار ہے اور ايک جائے شوق

احسان ِ بے شمار ميں تيرے جو اہم ہے
وہ يہ کہ ميرے دل کو کِيا آشنائے شوق

زاہد سے، رند سے، يہ گزارش دعا کی ہے
عامر نبھائے حق ِ محبت، حيائے شوق

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer