
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں
تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں
دور تک کوئی ستارہ ہے نہ جگنو کوئی
مرگ امید کے آثار نظر آتے ہیں
میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں
کل جنھیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں
حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغر
سب تمہارے ہی طرف دار نظر آتے ہیں

خواب گذ شت
خواب کیا چیز ہیں ؟
جانتا ہے کویٔ؟
خواب ہوتے ہیں کیا ؟
خواب وہ ہیں ، جسے ۔ ۔ ۔ ہم کو پانا ہے ؟
یا ہے کرامات ۔ ۔ ۔ ؟ ہم جس کے ہوں منتظر !
لوگ کہتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔
خواب تو خواب ہیں ، یہ حقیقت نہیں !
تم نہ دیکھو انہیں ، کچھ نہیں پاؤ گے !!
دل یہ کہتا ہے کہ ۔ ۔ ۔
لوگ کہتے ہیں جو ۔ ۔ ۔ مان بھی لیں
اگر ۔ ۔ ۔
عہدِ فردا کو بھی دیکھ آۓ ہیں وہ !!!
خواب جھوٹے بھی ہوسکتے ہیں لوگ بھی
خواب دیکھا کرو ۔ ۔ ۔ ۔
شاعر ۔ یحییٰ خان یوسف زیئ ۔ پونہ ۔ انڈیا

jo chahay wo lay lo mujh sy
buhat sy tuhfay lai hon
wafaoo k suchay moti
chaho to chun lo un ko
khalos ka bhta sagar b hy
jitna mrzi hasil kr lo
dil mein payar ka aik jazira
jo teri yad sy rosan hy
meri ankhon ki chamak
teri khuhsi sy i hy
palkain jo ye bheg rhe hai
teray dukh mein roi hai
meray lbon pa sari duaein
teray ley he macalte hai
ab bolo kia chahain tm ko
buhat sy tuhfay lai hon
From . Rabia Ehsan