محبتوں کا امیں تھا میرا شہر

Verses

محبتوں کا امیں تھا میرا شہر
دلکش و حسیں تھا میرا شہر

گہوارہ تھا یہ علم و ادب کا
مقدس سر زمیں تھا میرا شہر

من کو بہاتے پر فریب نظارے
بہت دلنشیں تھا میرا شہر

نظرآ رہا ہے جو خون بنا ہوا
ایسا تو نہیں تھا میرا شہر

بھول نہ پاوں گا شکیل رونق شہر کی
دل میں جاگزیں تھا میرا شہر

شکیل احمد چوھان

رات کو جب تارے اپنے روشن گیت سنایں گے ہم بھی دل کی گرمی سے دنیا کو گرمایں گے

Verses

رات کو جب تارے اپنے روشن گیت سنایں گے
ہم بھی دل کی گرمی سے دنیا کو گرمایں گے
پھول ذرا کھلجانے دے صحن گلشن میں ساقی
اک پیمانہ چیز ہے کیا ، مے خانہ پی جایں گے
ان کے دیوانوں کا ہے کوچے کوچے میں چرچا
وہ اپنے دیوانوں کو کب سمجھانے آ یں گے
ساقی کو بیدار کرو ، میخانہ کیوں سونا ہے
بادل تو گھر آے ہیں ، میکش بھی آ جایں گے
ان سے کہنے جاتے ہے بیتابی اپنے دل کی
وہ روداد غم سن کر دیکھیں کیا فرمایں گے
پھولو تم محفوظ رہو باد خزاں کے جھونکوں سے
اب ہم رخصت ہوتے ہیں ، اک دن پھر بھی آ یں گے
ساون کی برساتوں میں تیرا ملہاریں گانا
یہ لمحے یاد آ یں گے ، یاد آ کر تڑپا یں گے
وہ سوتے ہیں سونے دو وا ہے آغوش الفت
کہتے کہتے افسانہ ہم بھی تو سو جایں گے
باقی اک رہ جاے گا نقش ضیاء ے الفت کا
دنیا بھی مٹ جاے گی اور ہم بھی مٹ جایں گے

گیت تیرے حسن کے گاتا ہوں میں چاند کی کرنوں کو تڑپاتا ہوں میں

Verses

گیت تیرے حسن کے گاتا ہوں میں
چاند کی کرنوں کو تڑپاتا ہوں میں
منزل مقصود ہوتی ہے قریب
راستے سے جب بھٹک جاتا ہوں میں
دے رہا ہوں رات دن غم کو فریب
دل کو امیدوں سے بہلاتا ہوں میں
میرے استقبال کو ساقی اٹھے
میکدے میں جھومتا آتا ہوں میں
اسکے دل میں بھی ہے داغ سوز عشق
چاند کو ہم داستاں پاتا ہوں میں
چھیڑتی ہے صبح جب ساز حیات
وجد میں آکر غزل گاتا ہوں میں
خود تڑپتا ہوں تڑپ کر اے ضیاء
اہل محفل کو بھی تڑپاتا ہوں میں

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer