
محبتوں کا امیں تھا میرا شہر
دلکش و حسیں تھا میرا شہر
گہوارہ تھا یہ علم و ادب کا
مقدس سر زمیں تھا میرا شہر
من کو بہاتے پر فریب نظارے
بہت دلنشیں تھا میرا شہر
نظرآ رہا ہے جو خون بنا ہوا
ایسا تو نہیں تھا میرا شہر
بھول نہ پاوں گا شکیل رونق شہر کی
دل میں جاگزیں تھا میرا شہر
شکیل احمد چوھان

رات کو جب تارے اپنے روشن گیت سنایں گے
ہم بھی دل کی گرمی سے دنیا کو گرمایں گے
پھول ذرا کھلجانے دے صحن گلشن میں ساقی
اک پیمانہ چیز ہے کیا ، مے خانہ پی جایں گے

گیت تیرے حسن کے گاتا ہوں میں
چاند کی کرنوں کو تڑپاتا ہوں میں
منزل مقصود ہوتی ہے قریب
راستے سے جب بھٹک جاتا ہوں میں
دے رہا ہوں رات دن غم کو فریب
دل کو امیدوں سے بہلاتا ہوں میں