”مجھے کوئی شام و سحر یاد آیا“

IN Khan's picture

”مجھے کوئی شام و سحر یاد آیا“
نہ آنا تھا، پھر بھی مگر یاد آیا

ہوا ایسا مانوس بربادیوں سے
بیاباں سے نکلا تو گھر یاد آیا!

تجھے ڈھونڈے ڈھونڈتے کھو گیا میں
نہ گھر یاد آیا، نہ در یاد آیا
!
تماشائے ہستی! تماشائے ہستی!
ہمیشہ برنگِ دگر یاد آیا!

وہ خوابِ محبت، وہ خوابِ پریشاں
برا یاد آیا اگر یاد آیا

نظر جو پڑی اپنی ناکامیوں پر
ہمیں تیرا حسنِ نظر یاد آیا

نہ فکرِ سفر تھی، نہ پروائے منزل
گیا جو زمانہ گزر، یاد آیا!

اٹھایا جو سرور نے کل سنگِ غالب (1)
اسے بھی خود اپنا ہی سر یاد آیا

(1)ہم نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا(غالب)

No votes yet