ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے

SadiaMuhammad's picture

ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے
سر تا قدم نگاہ و زباں بن کے رہ گئے

پلٹے مقدرات کچھ اس طور سے کہ ہم
تصویر انقلاب جہاں بن کے رہ گئے

کیا دل نہ بن سکے گا تیری اک نگاہ سے
جب دم زدن میں کون و مکاں بن کے رہ گئے

مظلوم دل کی تلخ نوائی تو دیکھنا
نغمے جو لب تک آئے فغاں بن کے رہ گئے

کرتے ہم ان سے را ز محبت پہ گفتگو
لیکن وہ خود ہی راز نہاں بن کے رہ گئے

اب ہم ہیں اور حقیقت آلام اے شکیل
لمحے خوشی کے خواب گراں بن کے رہ گئے

No votes yet