ہمیں نے سنگسار اس کو کیا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

ہمیں نے سنگسار اس کو کیا تھا
وہ زانی اس زمیں پر بوجھ سا تھا

اداسی میں نے خود تخلیق کی تھی
مجھے جو دکھ بھی تھا خود ساکتہ تھا

میں وہ ظالم تھا جس نے بچپنے میں
خود اپنے آپ کو اغوا کیا تھا

مساجد میں عبادت ہو رہی تھی
دلوں میں پھر بھی کوئی وسوسہ تھا

تری چاندی بھی میلی ہو گئی تھی
مری مے میں بھی پانی مل گیا تھا

رفیق سندیلوی