Verses

ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی
قدم رکھا کہ منزل راستہ تھی

کبھی جو خواب تھا وہ پا لیا ہے
مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی

جسے چھو لوں میں وہ ہو جائے سونا
تجھے دیکھا تو جانا بددعا تھی

محبت مر گئی مجھ کو بھی غم ہے
میرے اچھے دنوں کی آشنا تھی

میں بچپن میں کھلونے توڑتا تھا
میرے انجام کی وہ ابتداء تھی

مریضِ خواب کو تو اب شفا ہے
مگر دنیا بڑی کڑوی دوا تھی

بچھڑ کر ڈار سے بن بن پھرا وہ
ہرن کو اپنی کستوری سزا تھی

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer