ہر لمحہ تخیل کا حسیں ہوتا ہے

Verses

ہر لمحہ تخیل کا حسیں ہوتا ہے

بھٹکا ہوا جنت میں مکیں ہوتا ہے

کیسے مانوں کہ ترے ساتھ تھا وہ آج
وہ تو ہر وقت مرے پاس یہیں ہوتا ہے

زمانے میں کوئی اس کا کلیہ ہی نہیں
بھا جائے جو دل کو وہ حسیں ہوتا ہے

مسکان بھی رہتی ہے سدا ہونٹوں پہ اور
ہر وقت ہی دکھ میرا قریں ہوتا ہے

بدلتے ہی خود مجھے آکر وہ ملے گا
دو جمع دو پانچ کہیں ہوتا ہے

اسی وقت ہی ہارا جو بلبل نے کہا یہ
گل دیکھ مرا خاک نشیں ہوتا ہے

حسن مٹی میں ملتا ہے سنا ہے یہ عمر
جانے اور کیا کیازیرِ زمیں ہوتا ہے