ہر شام اس سے ملنے کی عادت سی ہو گئی

miss pinky's picture

ہر شام اس سے ملنے کی عادت سی ہو گئی
پھر رفتہ رفتہ اس سے محبت سی ہو گئی

شاید یہ تازہ تازہ جدائی کا تھا اثر
ہر شکل یک بیک تری صورت سی ہو گئی

اک نام جھلملانے لگا دل کے طاق پر
اک یاد جیسے باعثِ راحت سی ہو گئی

خود کو سجا سنوار کے رکھنے کا شوق تھا
پھر اپنے آپ سے مجھے وحشت سی ہو گئی

میں نے کوئی بیانِ صفائی نہیں دیا
بس چپ رہا تو خود ہی وضاحت سی ہو گئی

البم میں کوئی چھوڑ گیا اپنے آپ کو
اس طرح غائبانہ رفاقت سی ہو گئی

No votes yet