
گیت تیرے حسن کے گاتا ہوں میں
چاند کی کرنوں کو تڑپاتا ہوں میں
منزل مقصود ہوتی ہے قریب
راستے سے جب بھٹک جاتا ہوں میں
دے رہا ہوں رات دن غم کو فریب
دل کو امیدوں سے بہلاتا ہوں میں
میرے استقبال کو ساقی اٹھے
میکدے میں جھومتا آتا ہوں میں
اسکے دل میں بھی ہے داغ سوز عشق
چاند کو ہم داستاں پاتا ہوں میں
چھیڑتی ہے صبح جب ساز حیات
وجد میں آکر غزل گاتا ہوں میں
خود تڑپتا ہوں تڑپ کر اے ضیاء
اہل محفل کو بھی تڑپاتا ہوں میں