
گھر جلا کر دیکھئے، دُنیا لٹا کر دیکھئے
رحمتِ یزداں کو ایسے آزما کر دیکھئے
کیا عجب کھل جائیں سارے راز ہائے زندگی
بازئ الفت میں اک دن مات کھا کر دیکھئے
ہر گھڑی ہے کیوں بیانِ تنگئی دامانِ شوق؟
"کتنی وسعت ہے ہمارے دل میں آ کر دیکھئے"
کھولنا ہے آپ کو اپنے پرائے کا بھرم؟
ہر گلی میں بے پئے ہی لڑکھڑا کر دیکھئے!
کب تلک یہ جرعۂ تلخابۂ غم کب تلک؟
زندگی کو کیوں نہ آئینہ دکھا کر دیکھئے؟
سر جُھکانا تو بہت آساں ہے راہِ عشق میں
لُطف تو جب ہے کہ اپنا سر کٹا کر دیکھئے
رنج و راحت، سوز و ساز و حسرت و آسودگی
ایک ہیں سب بس ذرا پردہ اُٹھا کر دیکھئے
ہوچکیں سرور بہت دنیا کی خاطر داریاں
جو بھی دل میں ہے وہ اب نامِ خُدا کر دیکھئے!