Verses

کن ظلمتوں کے دور سے گزرا ہے آفتاب
مل کر گلے سحر سے سِسکتا ہے آفتاب

آدھا تو سازشوں کے اندھیرے نے ڈس لیا
آدھا ردائے ابر میں لپٹا ہے آفتاب

اس کا مری طرح سے کوئی ہمسفر نہیں
کتنے بسیط دشت میں تنہا ہے آفتاب

چھو لو تو جسم و جاں کی طنابیں سلگ اٹھیں
دیکھو تو ایک برف کا گولا ہے آفتاب

مجھ کو خبر نہیں کہ مرے ہونٹ جل گئے
میں نے عجیب کیف میں چوما ہے آفتاب

آنکھوں میں رنگ و بو کے شرارے مچل اٹھے
سینے میں کتنے کرب سے تڑپا ہے آفتاب

میں تیرہ بخت اس کے اجالوں سے دور ہوں
مجھ سے ذرا سی بات پہ روٹھا ہے آفتاب

آداب روشنی کے کوئی جانتا نہیں
تیرہ شبی میں سب کی تمنا ہے آفتاب

کچھ دوستوں کے گھر میں نہیں ایک بھی کرن
کچھ دوستوں کے طاق پہ رکھا ہے آفتاب

اپنی ضعیف ماں پہ لٹاتا ہے روشنی
لوگو مری زمین کا بیٹا ہے آفتاب

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer