چٹانوں سے سمندر پوچھتا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

چٹانوں سے سمندر پوچھتا تھا
یہ شب کو کس کا بجرا ڈوبتا تھا

یہ کیا آواز تھی لہروں کے اندر
یہ کیسا شور موجوں میں بپا تھا

یہ کیسا ڈر لگا تھا پانیوں کو
کنارا کس لئے سہما ہوا تھا

کھلے تھے چاندنی کے بال کیونکر
ستارہ کیوں گریباں پھاڑتا تھا

یہ کیسی سسکیاں تھیں بادلوں میں
خلا میں کون دھاڑیں مارتا تھا

رفیق سندیلوی