Verses

پرسش کو مری کون مرے گھر نہيں آتا
تيور نہیں آتے ھيں کہ چکر نہيں آتا

تم لاکھ قسم کھاتے ھو ملنےکي عدو سے
ايمان سے کہہ دوں مجھے باور نہيں آتا

ڈرتا ھے کہيں آپ نہ پڑ جائے بلا ميں
کوچے ميں ترے فتنہء محشر نہيں آتا

جو مجھ پر گزرتی ہے کبھی ديکھ لے ظالم
پھر ديکھوں کہ رونا تجھے کيو نکر نہيں آتا

کہتے ہيں يہ اچھی ہے تڑپ دل کی تمہارے
سينے سے تڑپ کر کبھی باھر نہيں آتا

دشمن کو کبھی ہوتی ہے مرے دل پہ رقعت
پر دل يہ تيرا ہے کہ کبھی بھر نہيں آتا

کب آنکھ اٹھاتا ہوں کہ آتے نہيں تيور
کب بيٹھ کے اٹھتا ہوں کہ چکر نہيں آتا

غربت کدہ دہر ميں صدمے سے ہيں صدمے
اس پر بھی کبھی ياد ہميں گھر نہيں آتا

ہم جس کی ہوس ميں ہيں امير آپ سے باہر
وہ پردہ نشين گھر سے باہر نہيں آتا

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer